Anwar-ul-Bayan - Saad : 15
وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
وَمَا يَنْظُرُ : اور وہ انتظار نہیں کرتے هٰٓؤُلَآءِ : یہ لوگ اِلَّا : مگر صَيْحَةً : چنگھاڑ وَّاحِدَةً : ایک مَّا لَهَا : جس کے لیے نہیں مِنْ : کوئی فَوَاقٍ : ڈھیل
اور یہ لوگ تو صرف ایک زور کی آواز کا جس میں (شروع ہوئے پیچھے) کچھ وقفہ نہیں ہوگا انتظار کرتے ہیں
(38:15) ما ینظر۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ واحد کا صیغہ جمع کے لئے ہے۔ نظر (نصر) مصدر سے بمعنی دیکھنا۔ لیکن یہاں معنی انتظار آیا ہے وہ انتظار نہیں کر رہے۔ ھؤلاء اسم اشارہ جمع۔ یہ سب۔ مشار الیہ کفار مکہ ہیں۔ صیحۃ واحدۃ۔ موصوف و صفت۔ ایک چیخ۔ ایک کڑک ، (مراد صور کے پھونکے جانے کی آواز ہے) منصوب بوجہ ینظر کے مفعول ہونے کے ہے۔ لہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع صیحۃ ہے۔ فواق۔ اسم مصدر۔ واحد ہے اس کی جمع افوقۃ اور افقۃ ہے چناچہ محاورہ ہے فاق المریض۔ جب مریض بیماری سے صحت کی طرف رجوع کرے۔ اسی بناء پر بعض نے تفسیر افاقہ اور استراحت سے کی ہے۔ اگر فواق (فاء کے ضمہ ساتھ) ہو تو اس کا معنی وہ وقفہ ہے جو دو دفعہ دودھ دوہنے کے درمیان ہوتا ہے۔ دوہنے والا ایک مرتبہ دودھ دوھ لیتا ہے پھر بچے کو پینے کے لئے چھوڑ دیتا ہے بچے کے پینے سے جانور کے تھنوں میں دوبارہ دودھ اتر آتا ہے تو پھر دوہنے والا بچے کو ہٹا کر خود دوبارہ دوھ لیتا ہے۔ اس درمیانی وقفے کا نام فواق ہے۔ یہاں مراد سکون افاقہ۔ آرام ہے۔ یعنی جب یہ صور پھونکا جائے گا تو اس میں دم لینے کی بھی گنجائش نہ ہوگی۔
Top