Anwar-ul-Bayan - Saad : 16
وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ
وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا رَبَّنَا : اے ہمارے رب عَجِّلْ : جلدی دے لَّنَا : ہمیں قِطَّنَا : ہمارا حصہ قَبْلَ : پہلے يَوْمِ الْحِسَابِ : روز حساب
اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دیدے
(38:16) قالوا۔ ضمیر فاعل جمع مذکر غائب کا مرجع وہی کفار قریش ہیں جن کے لئے اوپر ھؤلاء استعمال ہوا ہے۔ ای قالوا بطریق الاستھزاء والسخریۃ مخول اور ٹھٹھا کے طور پر کہتے ہیں۔ عجل لنا۔ عجل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تعجیل (نفعیل) مصدر سے تو جلدی کر ہمارے لئے۔ تو ہمیں جلدی دیدے۔ قطنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ قط اصل میں س چیز کو کہتے ہیں جس کو عرض میں کاٹا گیا ہے ۔ جیسے قد اس چیز کو کہتے ہیں جو طول میں کو ٹی گئی ہو پھر جدا کردہ حصہ کو بھی قط کہنے لگے۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک یہاں حصہ ہی مراد ہے یعنی ہمارا حصہ ہم کو جلدی دیدے۔ بعض کے نزدیک حصہ سے مراد عذاب کا حصہ ہے (یعنی کافر اسہزاء کہتے تھے کہ ہمیں قیامت کے جس عذاب سے ڈرایا جاتا ہے وہ ہمیں ابھی دے دیا جائے کہ ہم دیکھیں تو سہی کہ ہے بھی کہ نہیں) ۔ اور بعض نے اس سے حصہ جنت مراد لیا ہے (یعنی کافریہ کہتے کہ قیامت میں جو جنت دوزخ کا بار بار ذکر کیا جا رہا ہے ہمیں تو جنت کا حصہ جو ملنا ہے یہاں ہی مل جائے تاکہ ہم اپنی اس زندگی میں ہی اس کا خط اٹھالیں۔ یوم الحساب : روز قیامت۔
Top