Anwar-ul-Bayan - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ : اور کیا اَتٰىكَ : آپ کے پاس آئی (پہنچی) نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ : خبر جھگڑنے والے اِذْ : جب تَسَوَّرُوا : وہ دیوار پھاند کر آئے الْمِحْرَابَ : محراب (مسجد)
بھلا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں داخل ہوئے
(38:21) ہل۔ استفہامیہ ہے۔ تعجب تشویق الی السماع کے لئے ہے۔ جب کسی واقعہ کی اہمیت پر مخاطب کو متوجہ کرنا ہو تو اس کا آغاز اس قسم کے استفہام سے کیا جاتا ہے تاکہ سننے والا ہمہ تن گوش متوجہ ہوکر واقعہ کو سنے اور عبرت حاصل کرے۔ اتک : اتی ماضی۔ واحد مذکر غائب ک ضمیر واحد مذکر حاضر ۔ تیرے پس آئی (خبر) نبؤا الخصم۔ مضاف مضاف الیہ۔ نبا خبر۔ الخصم مصدر ہے اسی لئے اس کا اطلاق ایک ، دو ، اور زیادہ پر بھی ہوتا ہے یہاں مراد دو جھگڑنے والے ہیں۔ اس کے جمع کی ضمیر خصم کی طرف راجع کی گئی ہے۔ دو کیطرف جمع کی ضمیر راجع کرنا عربی زبان میں درست ہے جیسے قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ان تتوبا الی اللّٰہ فقد صغت قلوبکما (66:4) اگر تم دونوں خدا کے آگے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تم دونوں کے دل کج ہوگئے ہیں۔ اس میں جمع کی (قلوب کی) اضافت تثنیہ کی طرف کی گئی ہے۔ جملہ وہل اتک نبوا الخصم کا عطف انا سخرنا ۔۔ پر ہے اور یہ عطف القصۃ علی القصۃ کے قبیل سے ہے بعض کے نزدیک اس کا عطف اذکر ۔۔ پر ہے۔ اذ : جب۔ اس کا تعلق الخصم کے مضاف سے ہے جو اس سے قبل محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہوگی :۔ وہل اتک نبأ تحاکم الخصم اور کیا آپ کو دو مخالف فریق کا باہمی جھگڑے کا فیصلے کے لئے حاکم کے پاس لے جانے کا قصہ معلوم ہے ؟ تسوروا۔ ماضی جمع مذکر غائب تسور (تفعل) مصدر سے جس کے معنی دیوار یا شہر کے اردگرد بلند حفاظت کے لئے بنائی جائے شہر پناہ۔ فصیل، یہاں مراد وہ دیوار جو محروب کے اردگرد حفاظت کے لئے بنائی ہوئی تھی۔ المحراب اسم مفرد۔ محاریب جمع۔ بالاخانہ۔ کمرہ ۔ یہاں مراد عبادت خانہ ۔ کمرہ۔
Top