Anwar-ul-Bayan - Saad : 23
اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ
اِنَّ ھٰذَآ : بیشک یہ اَخِيْ ۣ : میرا بھائی لَهٗ : اس کے پاس تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ : ننانوے نَعْجَةً : دنبیاں وَّلِيَ : اور میرے پاس نَعْجَةٌ : دنبی وَّاحِدَةٌ ۣ : ایک فَقَالَ : پس اس نے کہا اَكْفِلْنِيْهَا : وہ میرے حوالے کردے وَعَزَّنِيْ : اور اس نے مجھے دبایا فِي الْخِطَابِ : گفتگو میں
(کیفیت یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اسکے (ہاں) نناوے دنبیاں ہیں اور میرے (پاس) ایک دنبی ہے یہ کہتا ہے یہ بھی میرے حوالے کر دے اور گفتگو میں مجھ پر زبردستی کرتا ہے
(38:23) نعجۃ واحد نعاج جمع۔ ونبیاں ۔ واحد دنبی۔ اکفلنیھا ۔ اکفل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اکفال (افعال) مصدر سے جس کے معنی کفیل بنانا۔ دوسرے کا حصہ قرار دینا کے ہیں۔ یعنی اس کو میرا حصہ قرار دیدے۔ مجھے اس کا کفیل بنا دے۔ ن وقایہ ی متکلم کی ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب نعجۃ کی طرف راجع ہے اس دنبی کو میرا حصہ قرار دیدے یا اس دنبی کو مجھے کفیل بنا دے۔ عزنی عز ماضی واحد مذکر غائب عز باب ضرب سے مصدر ۔ غلبہ کرنا۔ زبردستی کرنا ن وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم کی اس نے مجھ سے زبردستی کی۔ اس نے مجھ سے زبردستی کی۔ اس نے مجھ پر دباؤ ڈالا۔ عزنی فی الخطاب۔ اس نے مجھ پر گفتگو میں دباؤ ڈالا۔
Top