Anwar-ul-Bayan - Saad : 3
كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ
كَمْ : کتنی ہی اَهْلَكْنَا : ہم نے ہلاک کردیں مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل مِّنْ قَرْنٍ : امتیں فَنَادَوْا : تو وہ فریاد کرنے لگے وَّلَاتَ : اور نہ تھا حِيْنَ : وقت مَنَاصٍ : چھٹکارا
ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا تو وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا
(38:3) کم اہلکنا من قبلہم من قرن : ای کم من قرن اہلکنا من قبلہم۔ کم کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے :۔ (1) استفہام کے لئے۔ کتنی مدت ۔ کتنی تعداد۔ اس صورت میں اس کی تمیز مفرد منصوب ہوتی ہے مثلاً کم درھما کتنے درہم۔ (2) خبر یہ۔ جو مقدار کی کمی بیشی اور تعداد کی کثرت کا ظاہر کرتا ہے۔ اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے۔ مثلاً کم شیء ترکت فی البیت۔ میں نے گھر میں بہت ساری چیزیں چھوڑیں۔ کبھی تمیز سے پہلے من آتا ہے جیسا کہ آیت ہذا میں :۔ کم من قرن بہت سی امتوں کو۔ کتنی ہی امتوں کو۔ قرن زمانہ۔ ایک ہی زمانے کے آدمی۔ وہ قوم جو ایک زمانے میں ہو۔ ایک زمانے کے لوگ۔ ان سے پہلے ہم کتنی ہی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ نادوا ماضی جمع مذکر غائب ندی مادہ سے باب مفاعلہ۔ نادی ینادی مناداۃ ونداء پکارنا۔ فنادوا سو انہوں نے (عذاب کے وقت فریاد رسی کے لئے بڑا) پکارا۔ ولات حین مناص۔ واؤ حالیہ ہے اور جملہ حالیہ۔ لات حین مناص میں نحویوں کے مختلف اقوال ہیں لیکن مشہور قول یہ ہے کہ لات میں لالیس کے مشابہ ہے خاص طور پر اس کا داخلہ وقت پر ہونے لگا اور اسم اور خبر میں سے ایک کا حذف کرنا ضروری ہوگیا۔ خلیل اور سیبویہ کے نزدیک یہاں اسم محذوف ہے ای لیس الحین حین مناص اور وہ وقت بچ نکلنے کا وقت نہ تھا۔ اس میں الحین اسم محذوف ہے اور حین مناص خبر ہے۔ حین۔ وقت۔ زمانہ۔ مدت۔ مضاف۔ مناص۔ مادہ نوص۔ اجوف وادی۔ باب نصر۔ سے مصدر میمی ہے۔ اور یہ اسم ظرف مکان بھی ہے۔ جائے فرا۔ پناہ گاہ۔ ناص ینوص نوصا دمناص ومنیص ، عن قرنہ اپنے مقابل سے بھاگنا یا بچنا۔
Top