Anwar-ul-Bayan - Saad : 39
هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ
ھٰذَا : یہ عَطَآؤُنَا : ہمارا عطیہ فَامْنُنْ : اب تو احسان کر اَوْ : یا اَمْسِكْ : روک رکھ بِغَيْرِ حِسَابٍ : حساب کے بغیر
(ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے کچھ) حساب نہیں ہے
(38:39) ھذا عطاؤنا ۔۔ الخ ای قلنا لسلیمن ۔۔ الآیۃ۔ ھذا۔ اسم اشارہ قریب واحد مذکر۔ یہ۔ اس کا مشار الیہ ملک و مال و اقتدار کی عطائگی ہے۔ جس کا اوپر ذکر ہوا۔ یہ ہماری عطاء ہے (آپ کو) ۔ فامنن۔ من باب نصر مصدر سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو احسان کو تو خرچ کر۔ امساک۔ امساک (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو روک رکھ۔ بغیر حساب۔ بغیر حساب کے۔ اس آیت کے مندرجہ ذیل مطلب ہوسکتے ہیں :۔ (1) یہ عطاء ہماری بہت بڑی اور بیحد و حساب ہے اسے خرچ کرو یا رکھ چھوڑو۔ یعنی اس کو خود خرچ کرو یا رکھ چھوڑو۔ دوسروں کا دو یا نہ دو (تمہیں اختیار ہے) اس صورت میں بغیر حساب متعلق بہ عطاؤنا ہے۔ (2) یہ ہماری بخشش (عطائ) ہے اسے خرچ کرو۔ رکھ چھوڑو۔ دوسروں کو دو نہ دو ۔ خرچ کرنے نہ کرنے پر دوسرے کو دینے نہ دینے پر تم سے محاسبہ نہ ہوگا۔ (3) یہ ہماری عطاء ہے یعنی شیاطین پر تمہارا کلیۃ تصرف۔ ان میں سے جسے چاہو چھوڑ دو جسے چاہو روک رکھو۔ اس پر تم سے باز پرس نہ ہوگی۔
Top