Anwar-ul-Bayan - Saad : 4
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا
(38:4) منذر : اسم فاعل واحد مذکر۔ انذار (افعال) سے ڈرانے والا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب جاء ہم اور منھم میں کفار مکہ کی طرف راجع ہوسکتی ہے کیونکہ عجبوا میں ضمیر فاعل بھی کفار کے لئے ہے لیکن یہ جنس بشر کے لئے بھی ہوسکتی ہے کیونکہ کسی نبی کا جنس بشر سے ہونا ان کے نزدیک بعید از فہم تھا۔ اس لئے ان کو حیرت تھی کہ یہ ڈرانیوالا ان میں سے یا جنس بشر میں سے کیسے ہوسکتا ہے ؟ ساحر کذاب : معطوف علیہ و معطوف واؤ عطف محذوف، ساحر ہے اور بڑا جھوٹا ہے۔ کذاب مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Top