Anwar-ul-Bayan - Saad : 42
اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ
اُرْكُضْ : (زمین پر) مار بِرِجْلِكَ ۚ : اپنا پاؤں ھٰذَا : یہ مُغْتَسَلٌۢ : غسل کے لیے بَارِدٌ : ٹھنڈا وَّشَرَابٌ : اور پینے کے لیے
(ہم نے کہا زمین پر) لات مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں )
(38:42) ارکض : ای فقلنا لہ ارکض۔ ہم نے اس کو کہا ارکض۔ رکض باب نصر مصدر سے جس کے معنی اصل میں ٹانگ کو حرکت دینے کے ہیں۔ اگر سوار کے متعلق بولا جائے تو رکضت الفرس کے معنی ہوں گے۔ میں نے گھوڑے کو تیز دوڑنے کے لئے ایڑ لگائی۔ پیادہ آدمی کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنی پاؤں کے ساتھ زمین کو روندنا کے ہی۔ جیسے لا ترکضوا (21:13) مت بھاگو۔ ارکض امر کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ تو اپنی ٹانگ زمین پر مار۔ ھذا مغتسل باردو شراب۔ تقدیر کلام یوں ہے :۔ فقلنا لہ ارکض فرکض فنبعت عین فقلنا لہ ھذا مغتسل بارد تغتسل بہ وتشرب منہ فیبرأ ظاھرک وباطنک۔ جب ہم نے اسے حکم دیا کہ زمین پر پاؤں مارو تو اس نے زمین پر پاؤں مارا پس اس سے ایک چشمہ پھوٹ نکلا ۔ ہم نے اسے کہا کہ یہ نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے تو اس نے نہائے گا اور پئے گا تو اس سے تیرا ظاہر اور باطن درست ہوجائے گا۔
Top