Anwar-ul-Bayan - Saad : 44
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَخُذْ : اور تو لے بِيَدِكَ : اپنے ہاتھ میں ضِغْثًا : جھاڑو فَاضْرِبْ بِّهٖ : اس سے مار اس کو وَلَا تَحْنَثْ ۭ : اور قسم نہ توڑ اِنَّا : بیشک ہم وَجَدْنٰهُ : ہم نے اسے پایا صَابِرًا ۭ : صابر نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
اور اپنے ہاتھ جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو بیشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا بہت خوب بندے تھے بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے
(38:44) ضغثا۔ خشک گھاس یا شاخیں جو انسان کی مٹھی میں آجاویں۔ اس کی جمع اضغاث۔ وہ خواب جو ملتبس سا ہو اور اس کا مطلب واضح نہ ہو۔ اس کو اضغاث کہا جاتا ہے۔ جیسے قالوا اضغاث احلام (12:44) انہوں نے کہا کہ یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ تنکوں کا مٹھا۔ جھاڑو۔ لاتحنث۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر تو قسم نہ توڑ۔ حیث یحنث حنثا قسم توڑنا۔ صاحب ضیاء القرآن فرماتے ہیں :۔ ابتلاء و آزمائش کے اس طویل اور ہوشربا دور میں جب کہ سب لوگوں نے آپ سے منہ پھیرلیا آپ کی وفا شعار بیوی آپ کی خدمت میں سرگرم رہی۔ ان کی زبان سے کوئی ایسی بات نکل گئی جو آپ کی غیرت ایمانی کے خلاف تھی۔ اور آپ کو سخت ناگوار گزری آپ نے فرمایا کہ میں تجھے سو کوڑے لگاؤں گا۔ جب آپ صحت یاب ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ایسی ترکیب بتائی کہ قسم بھی نہ ٹوٹے۔ اور اس خدمت گزار اور نیک سرشت بیوی کو تکلیف بھی نہ پہنچے۔ ارشاد باری ہوا کہ گھاس کا ایک مٹھا لو جس میں سوتیلیاں ہوں اس سے مارو دونوں مطلب پورے ہوجائیں گے۔ نعم العبد انہ اواب۔ ملاحظہ ہو 38:30 متذکرۃ الصدر۔
Top