Anwar-ul-Bayan - Saad : 5
اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ
اَجَعَلَ : کیا اس نے بنادیا الْاٰلِهَةَ : (جمع) معبود اِلٰهًا : معبود وَّاحِدًا ښ : ایک اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : ایک شے (بات) عُجَابٌ : بڑی عجیب
کیا اسنے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنادیا ! یہ تو بڑی عجیب بات ہے
(38:5) اجعل ہمزہ استفہامیہ ہے یہ سوال بطور تعجب ہے۔ اجعل الالہم الھا واحدا۔ کیا بنادیا ہے اس نے بہت سے خداؤں کی جگہ ایک خدا۔ صاحب تفسیر ماجدی اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں :۔ ” پیغمبر حق کا اصلی جرم ان کج فہموں کے نزدیک یہی تلقین توحید تھی۔ وہ کہتے تھے کہ عالم میں قدم قدم پر تو تنوع ، تعدد کا اختلاف ہے اس کثرت کا مصدر و حدت کو فرض ہی کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ رات الگ ہے دن آگے ہے آگ اور شے ہے پانی اور زمین الگ مخلوق ہیں ۔ آسمان الگ۔ ان میں سے ہر ایک کے کاروبار کے لئے ایک مستقل حاکم، متصرف فرماں رواء کی ضرورت ہے اور یہی دیوی دیوتا ہیں۔ سب کو مٹا کر صرف ایک مؤثر حقیقی و فاعل اصلی کو ماننے کے کوئی معنی ہی نہیں “۔ شی عجاب۔ موصوف و صفت۔ عجاب عجب سے فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے بہت عجیب، اچنبھے کی بات۔ بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ :۔ وہ انوکھی بات جس کی نظیر ہو عجیب کہلاتے ہے اور بےنظیر ہو تو اس کو عجاب کہتے ہیں۔ فائدہ : آیت ہذا اور اگلی آیت کو سمجھنے کے لئے ان کا پس منظر ذہن میں رکھنا ضروری ہے جب حضرت عمر ؓ مسلمان ہوگئے تو قریش کو آپ کا مسلمان ہوجانا شاق گزرا۔ ولید بن مغیرہ نے سرداران قریش کی ایک جماعت کو جو تعداد میں پچیس تھے جمع کرکے کہا کہ چلو ابو طالب کے پاس چلیں۔ حسب مشورہ سب لوگ ابوطالب کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ آپ ہمارے بزرگ سردار ہیں اور ان لوگوں (مسلمانوں) کی حرکتوں سے واقف ہیں آپ ہمارا اپنے بھتیجے سے تصفیہ کرا دیجئے۔ ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کو بلوایا اور کہا :۔ میرے بھتیجے یہ تمہاری قوم والے تم سے کچھ درخواست کرنا چاہتے ہیں تم اپنی رائے بالکل ہی ان کے خلاف نہ کرلینا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟ قریش نے کہا کہ تم ہمارے معبودوں کا ذکر چھوڑ دو ، اور ہم تم کو تمہارے معبود سے نہیں روکیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم لوگ مجھ سے ایک بات کا وعدہ کرتے ہو جس کی وجہ سے تم عرب کے حاکم بن جاؤ گے۔ اور عجمی بھی تمہارے فرمانبردار بن جائیں گے۔ ابوجہل بولا۔ اگر ایسی بات ہے تو ہم ایک نہیں اس جیسی دس باتیں مان لیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا تو لا الہ الا اللّٰہ کہہ دو ۔ یہ سنتے ہی سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہتے ہوئے چلتے بنے اجعل الالہۃ ۔۔ ء انزل علیہ الذکر من بیننا۔
Top