Anwar-ul-Bayan - Saad : 59
هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ
ھٰذَا : یہ فَوْجٌ : ایک جماعت مُّقْتَحِمٌ : گھس رہے ہیں مَّعَكُمْ ۚ : تمہارے ساتھ لَا مَرْحَبًۢا : نہ ہو کوئی فراخی بِهِمْ ۭ : انہیں اِنَّهُمْ : بیشک وہ صَالُوا النَّارِ : داخل ہونے والے جہنم میں
یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ داخل ہوگی ان کو خوشی نہ ہو یہ دوزخ میں جانے والے ہیں
(38:59) مقتحم۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ ہولناک مقام میں گھس پڑنے والا۔ اقتحام (افتعال) مصدر۔ فعل لازم۔ کسی خوفناک مقام میں یا چیز میں گھس پڑنا۔ قحم الفرس فارسہ۔ تقحیم (تفعیل) مصدر سے متعدی۔ گھوڑا سوار کو لے کر خطر ناک مقام میں گھس پڑا۔ قحم نفسہ۔ قحم (فتح) مصدر۔ فعل متعدی۔ اس نے اپنے آپ کو بغیر سوچے سمجھے کسی کام میں ڈال دیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فلا اقتحم العقبۃ (90:11) مگر وہ شخص بےدھڑک اور جوش کے ساتھ (دین کی) گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا۔ مرحبا۔ خوش آمدید۔ لامرحبا بھم۔ ان کو کوئی خوش آمدید نہیں ۔ دور ہوں یہ۔ صالوا النار مضاف مضاف الیہ۔ آگ میں گھسنے والے۔ آگ میں داخل ہونے والے۔ آگ میں جلنے والے۔ صلی یصلی صلی (باب سمع) سے مصدر۔ اور صلی یصلی صلی (باب ضرب) فلانا النار۔ آگ میں ڈالنا۔ صالوا اصل میں صالون تھا۔ بوجہ اضافت نون جمع گرگیا۔
Top