Anwar-ul-Bayan - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو بیشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف و فضیلت) مقصود ہے
(38:6) انطلق ماضی واحد مذکر غائب (صیغہ واحد جمع کے لئے آیا ہے) وہ چل کھڑا ہوا۔ انطلاق (انفعال) مصدر سے جس کے معنی چھوڑ کر چل کھڑے ہونے کے ہیں۔ منہم۔ میں من تبعیضیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب وفد کے ممبران کی طرف راجع ہے ان میں سے کئی سردار ان چل کھڑے ہوئے (یہ کہتے ہوئے کہ) چلو اور اپنے دیوتاؤں پر قائم رہو۔ امشوا۔ امر جمع مذکر حاضر مشی (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی چلنے کے ہیں چلو۔ اصبروا علی۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ صبر مصدر باب ضرب سے جس کے معنی صبر کرنا کے ہیں۔ علی کے صلہ کے ساتھ معنی ہوں گے استقلال سے قائم رہو۔ شیء یراد۔ یہ ان کی خبر ہے۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب ارادۃ (افعال) سے مصدر۔ شیء یراد۔ ایسی شے جس کا ارادہ کیا گیا ہو۔ مقصود ۔ مراد۔ (بےشک اس میں کوئی خاص امر مقصود ہے)
Top