Anwar-ul-Bayan - Saad : 72
فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ
فَاِذَا : پھر جب سَوَّيْتُهٗ : میں درست کردوں اسے وَنَفَخْتُ : اور میں پھونکوں فِيْهِ : اس میں مِنْ : سے رُّوْحِيْ : اپنی روح فَقَعُوْا : تو تم گر پڑو لَهٗ : اس کے لیے ( آگے) سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرتے ہوئے
جب اس کو درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گرپڑنا
(38:72) سویتہ : سویت ماضی واحد متکلم تسویۃ (تفعیل) مصدر سے برابر کرنا ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب اس کا مرجع بشرا ہے۔ (جب) میں اس کو برابر کر دوں یعنی مکمل کر چکوں (ماضی بمعنی مستقبل) نفخت ماضی واحد متکلم نفخ (باب نصر) مصدر۔ پھونکنا۔ پھونک مارنا۔ (جب) میں (اس میں) پھونک دوں (ماضی بمعنی مستقبل) ۔ ونفخت فیہ من روحی : ای احیینہ بنفخ الروح فیہ اور اس میں جان پھونک کر اسے زندہ کردوں۔ یعنی جب میں اس میں اپنی طرف سے جان ڈال دوں۔ من روحی میں یا تو اضافت تملی کی ہے یعنی ہماری مملوک و مخلوق خاص۔ یا اضافت تشریفی یعنی وہ روح جو ہماری نسبت سے مشرف و مکرم ہے یا تنصیصی یعنی وہ زندگی یا جان جس میں ہمارے سوا کوئی دوسرا تعلق نہیں ہے۔ امام رازی (رح) نے فرمایا ہے :۔ کہ من روحی میں اللہ نے روح کو اپنی جانب نسبت دے کر اس امر کو ظاہر کردیا ہے کہ روح ایک جو ہر شریف و معظم ہے (تفسیر ماجدی سے) اضافت خربیت اور بعضیت کی نہیں بلکہ تشریف کی ہے یعنی وہ روح جس کو میں نے اپنی خاص قدرت سے بنایا ہے۔ (ضیاء القرآن) فقعود : الفاء جواب شرط کے لئے ہے۔ قعوا۔ وقع یقع (مثال وادی۔ باب فتح) وقوع مصدر سے ۔ فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ تم گرپڑنا۔ وقوع کے معنی ثابت اور واجب ہونا۔ عدم سے وجود میں آجانا کے بھی ہیں۔ یہاں گرپڑنا کے معنی میں آیا ہے۔ لہ یعنی اس بشر کے روبرو۔ مساجدین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب ضمیر فاعل قعوا سے حال ہے۔
Top