Anwar-ul-Bayan - Saad : 74
اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ
اِلَّآ : سوائے اِبْلِيْسَ ۭ : ابلیس اِسْتَكْبَرَ : اس نے تکبر کیا وَكَانَ : اور وہ ہوگیا مِنَ : سے الْكٰفِرِيْنَ : کافروں
مگر شیطان اکڑ بیٹھا اور کافروں میں ہوگیا
(38:74) الا ابلیس اسکتبر وکان من الکفرین : استکبر ماضی واحد مذکر غائب استکبار (استفعال) مصدر سے ۔ وہ بڑا مغرور ہوگیا ۔ یعنی کسی استحقاق کے گھمنڈ میں آگیا۔ کان کے دو معنی ہوسکتے ہیں :۔ (1) کان بمعنیصار۔ یعنی ہوگیا۔ یعنی اللہ کے حکم کے مقابلہ میں اس نے غرور کیا اور اطاعت حکم سے اس نے اپنے آپ کو اونچا سمجھا اور اس طرح کافروں میں سے ہوگیا۔ (2) کان بمعنی تھا۔ یعنی اللہ کے علم میں وہ پہلے ہی کافروں میں سے تھا۔ اگر معنی نمبر (1) لئے جاویں تو الا ابلیس مستثنیٰ متصل ہوگا۔ اور وہ ملائکہ کے زمرہ میں (بحیثیت جنس کے نہیں بحیثیت مصاحبت) شمار ہوگا۔ اور اگر معنی نمبر (2) لئے جاویں تو استثناء منقطع ہوگا تو استثناء منقطع ہوگا۔ (الا حرف استثناء اور ابلیس مستثنی الملئکۃ مستثنی منہ)
Top