Anwar-ul-Bayan - Saad : 75
قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يٰٓاِبْلِيْسُ : اے ابلیس مَا مَنَعَكَ : کس نے منع کیا تجھے اَنْ تَسْجُدَ : کہ تو سجدہ کرے لِمَا : اس کو جسے خَلَقْتُ : میں نے پیدا کیا بِيَدَيَّ ۭ : اپنے ہاتھوں سے اَسْتَكْبَرْتَ : کیا تو نے تکبر کیا اَمْ كُنْتَ : یا تو ہے مِنَ : سے الْعَالِيْنَ : بلند درجہ والے
(خدا نے) فرمایا کہ اے ابلیس جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسکے آگے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا ؟ کیا تو غرور میں آگیا ؟ یا اونچے درجے والوں میں تھا
(38:75) قال ای قال اللّٰہ تعالیٰ ۔ ما منعک ان تسجد : ما موصولہ ہے اور ان مصدریہ ای من السجود۔ لما خلقت بیدی۔ میں ما موصولہ ہے ای للذی خلقتہ۔ جسے میں نے پیدا کیا۔ بیدی (میرے دونوں ہاتھوں سے) میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے یعنی اپنی قدرت کاملہ سے بلا توسط ماں باپ کے۔ تثنیہ کا استعمال تاکید کے لئے۔ استکبرت۔ اصل میںء استکبرت تھا۔ ہمزہ استفہام انکاری کے آنے سے ہمزہ وصل ساقط ہوگیا۔ ای أتکبرت میں غیر استحقاق کیا بغیر استحقاق کے تو تکبر میں آگیا یعنی فی الواقع تو بڑا نہیں تھا لیکن اپنے آپ کو بڑا سمجھ لیا۔ اپنے آپ ہی بڑا بن رہا ہے۔ ام کنت من العالین : ام بمعنی۔ یا۔ عالین اسم فاعل جمع مذکر عالی واحد علو سے ۔ بلندمرتبے والے۔ یا واقعی تو اونچے درجے کا استحقاق رکھنے والوں میں سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تو جان بوجھ کر یہ جانتے ہوئے کہ تو ایسا نہیں ہے بڑا بن رہا ہے۔ یا فی الواقع تو سمجھ رہا ہے کہ تو اونچے درجے والوں میں سے ہے۔ دونوں صورتوں میں استفہام توبیخی و انکاری ہے یعنی سچ یہ ہے کہ تو کچھ بھی نہیں ہے اور نہ ہی تو بڑا بننے کا استحقاق رکھتا ہے اور نہ ہی فی الواقع تو بڑا ہے۔
Top