Anwar-ul-Bayan - Saad : 77
قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ
قَالَ : اس نے فرمایا فَاخْرُجْ : پس نکل جا مِنْهَا : یہاں سے فَاِنَّكَ : کیونکہ تو رَجِيْمٌ : راندہ درگاہ
فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے
(38:77) قال : ای قال اللّٰہ تعالیٰ ۔ فاخرج منھا۔ الفاء للترتیب۔ اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الجنۃ کی طرف راجع ہے جہاں وہ دوسرے ملائکہ کے ساتھ رہتا تھا ۔ ابن عباس ؓ سے ہے کہ وہ جنت عدن میں نہ کہ جنت خلد میں رہتا تھا۔ یا ھا ضمیر کا مرجع زمرۃ الملائکہ ہے جن کے ساتھ وہ رہتا تھا۔ یا جیسا کہ حسن اور ابو العالیہ نے کہا ہے :۔ اس بناوٹ (اور خوبصورت تخلیق سے) نکل جا جس میں تو بنایا گیا ہے۔ چناچہ اس حکم کے بعد ابلیس کا رنگ سیاہ ہوگیا اور خوبصورتی بدصورتی میں بدل گئی۔ فانک رجیم۔ یہ فقرہ حکم خروج کی علت ہے (یعنی تجھے نکل جانے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اب تو راندہ درگاہ ہوگیا ہے) رجیم۔ ملعون ۔ راندہ ہوا۔ مردود۔ رجم (رجم یرجم باب نصر سے مصدر) سے فعیل بمعنی مفعول یعنی مرجوم ہے۔ سنگسار کرنا۔ لعنت کرنا۔ برا بھلا کہنا۔ دھتکارنا۔ پھٹکارنا۔ شیطان چونکہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے راندہ ہوا اور مردود ہے اس لئے یہ اس کی مخصوص صفت ہے اور قرآن مجید میں جہاں بھی یہ لفظ آیا ہے اسی کی صفت میں آیا ہے۔
Top