Anwar-ul-Bayan - Saad : 9
اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ
اَمْ : کیا عِنْدَهُمْ : ان کے پاس خَزَآئِنُ : خزانے رَحْمَةِ رَبِّكَ : تمہارے رب کی رحمت الْعَزِيْزِ : غالب الْوَهَّابِ : بہت عطا کرنے والا
کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے
(38:9) خزائن رحمۃ ربک ترکیب اضافی ہے۔ تیرے رب کی رحمت کے خزانے۔ رب کی اضافت واحد مذکر حاضر۔ (حضرت رسول کریم کی طرف) شرف و لطف الٰہی کی مظہر ہے۔ العزیز۔ زبردست ، غالب، قوی۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ الوھاب ۔ وھب وھبۃ مصدر۔ باب فتح سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت عطا کرنے والا۔ دونوں ربک کی صفت ہیں۔ رحمۃ ربک تعالیٰ ویتصرفون فیہا حسبما یشاء ون۔ (بلکہ کیا اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے خزانے ان کی ملکیت ہیں کہ جیسے چاہیں تصرف میں لاویں) ۔ یہاں اضراب کے ساتھ استفہام انکاری بھی شامل ہے۔ اس کی مثال قرآن مجید میں اور جگہ ہے :۔ ام لہ البنات ولکم النبون ۔ (52:39) ای بل الہ البنات ولکم البنون۔
Top