Ashraf-ul-Hawashi - An-Noor : 31
وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ
وَاَنْكِحُوا : اور تم نکاح کرو الْاَيَامٰى : بیوی عورتیں مِنْكُمْ : اپنے میں سے (اپنی) وَالصّٰلِحِيْنَ : اور نیک مِنْ : سے عِبَادِكُمْ : اپنے غلام وَاِمَآئِكُمْ : اور اپنی کنیزیں اِنْ يَّكُوْنُوْا : اگر وہ ہوں فُقَرَآءَ : تنگدست (جمع) يُغْنِهِمُ : انہیں غنی کردے گا اللّٰهُ : اللہ مِنْ فَضْلِهٖ : اپنے فضل سے وَاللّٰهُ : اور اللہ وَاسِعٌ : وسعت والا عَلِيْمٌ : علم والا
اور (اے پیغمبر) مسلمان عورتوں سے کہہ دے اپنی نگاہ نیچی رکھیں8 اور اپنی شرمگاہ تھامے رہیں (یا ڈھانپے رہیں9 اور اپنا سنگار نہ دکھائیں (جیسے پازیب بالی لچھ وغیرہ) مگر جو سنگار کھلا10 رہتا ہے (جیسے انگشتری سرمہ وغیرہ) اور اپنے کرتے کے گریبانوں پر11 اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنا (پوشیدہ)12 سنگار (کسی کو) نہ دکھائیں مگر اپنے خاوندوں کو یا اپنے باپوں کو یا اپنے سسروں کو13 یا اپنے بیٹوں کو یا اپنے خاوند کے بیٹوں کو یا اپنے بھائیوں کو یا اپنے بھتیجوں کو یا اپنے بھانجوں کو یا اپنے (دین والی) عورتوں کو یا اپنے غلاموں کو یا گھر کے کام کاج کرنے والے مردوں کو جن کو (عورت کی) خواہش نہیں2 یا ان لڑکوں کو جو عورتوں کے بھید سے آگاہ نہیں ہیں3 اور اپنے پائوں (چلتے چلتے) زمین پر نہ دھمکیں کہ لوگوں کو ان کے سنگار کی خبر ہو جس کو وہ چھپاتی ہیں اور مسلمانو تم سب مل کر اللہ کی درسگاہ میں (بڑی باتوں سے جو جاہلیت کے زمانہ میں ہوا کرتی تھیں تو بہ کرو اس لئے تم کو پہنچو
8 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے لئے بھی نگاہیں نیچی رھنے کا ویسا ہی حکم ہے جیسا مردوں کیلئے۔ انہیں بھی کسی ایسی چیز کی طرف دیکھنا نہیں چاہیے جس کی طرف دیکھنا جائز نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے جس طرح مردوں کو ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنے سے منع فرمایا ہے اسی طرح عورتوں کو بھی ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنے سے منع فرمایا ہے : لاینظر الرجل الی عورۃ الرجل …ولا تنظر المرء ۃ الی عورۃ المرۃ (مسلم، ابو دائود) 9 ۔ ہاتھوں اور چہرہ کے سوا عورت کا ساراجسم شرمگاہ ہے جسے شوہر کے سوا کسی مرد حتیٰ کہ باپ اور بھائی کے سامنے کھولنا بھی جائز نہیں ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت اسما ؓ سے فرمایا : اسماء جب عورت بالغ ہوجائے تو یہ جائز نہیں ہے کہ اس کے منہ اور ہاتھ کے سوا جسم کا کوئی حصہ نظر آئے۔ (ابو دائود) مگر ہاتھ اور چہرے کے استثنا کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اجانب سے بھی ہاتھ اور چہرے کا پردہ نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ 10 ۔ ” جو کھل جائے “ جیسے چادر کے اٹھ جانے سے نیچے کی کوئی زینت کھل جائے لفظ ” ظہر “ کے یہ دونوں مفہوم ہوسکتے ہیں۔ اسے ” عادۃ کھولنا “ کے معنی میں لینا صحیح نہیں ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ اور ان کے بالتبع بعض دوسرے علما نے لیا ہے کیونکہ اس سے تو حکم کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے اور اگر اس سے کپڑوں کے اوپر کا حصہ مراد لے لیا جائے تو بہتر ہے جیسا کہ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے۔ (قرطبی) 11 ۔ یعنی سر، سینہ اور گردن چھپائے رہیں۔ زمانہ جاہلیت میں عورتیں اپنی اوڑھنیاں پیچھے کی طرف ڈال لیتی تھیں اور ان کے اگلے گریبان کا ایک حصہ کھلا رہتا تھا جس سے گلا اور سینے کا بالائی حصہ نمایاں ہوتا تھا اس لئے عورتوں کو حکم دیا گیا کہ اپنے کرتے کے گریبانوں (یعنی سینہ اور گردن) پر اوڑھنیاں ڈالے ہیں۔ (ابن کثیر) 12 ۔ مراد ہے چادر یا برقع کے نیچے کا سنگھار جس میں ہاتھ اور چہرہ کا سنگھار بھی شامل ہے۔ 13 ۔ باپوں کے مفہوم میں دادا، پردادا، نانا اور پرنانا بھی شامل ہیں اور بیٹوں میں پوتے، پر پوتے، نواسے اور پرنواسے بھی آجاتے ہیں اور خواہ وہ سگے ہوں یا سوتیلے۔ (ابن کثیر) فوائد صحفہ ہذا۔ 1 ۔ قدیم مفسرین (رح) میں سے اکثر نے اپنے دین کی یعنی مسلمان عورتیں مراد لی ہیں اور بعض نے ملنے جلنے والی شریف عورتیں۔ لیکن یہاں جنہوں نے مسلمان عورتیں مراد لی ہیں۔ انہوں نے بھی ضرورت کے وقت غیر مسلم عورتوں سے پردہ نہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ (ابن کثیر) 2 ۔ بڑھاپے کی وجہ سے یا عقلی کمزوری کی وجہ سے، واضح رہے کہ مخنث ان میں نہیں آتا۔ کیونکہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس کو گھروں میں آنے جانے سے منع فرما دیا تھا۔ (شوکانی) 3 جنہیں زن وشو کے تعلقات کا پتا ہی نہ ہو ظاہر ہے اس سے نابالغ بچے ہی مراد ہوسکتے ہیں (شوکانی)
Top