Ashraf-ul-Hawashi - Yaseen : 19
قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا طَآئِرُكُمْ : تمہاری نحوست مَّعَكُمْ ۭ : تمہارے ساتھ اَئِنْ : کیا ذُكِّرْتُمْ ۭ : تم سمجھائے گئے بَلْ : بلکہ اَنْتُمْ : تم قَوْمٌ : لوگ مُّسْرِفُوْنَ : حد سے بڑھنے والے
پیغمبروں نے کہا یہ تو خود تمہاری نحوست ہے جو تمہارے ساتھ ہے تم کو جو اچھے کام کرنے کی صبحت کی گئی تو لگے نصیحت کرنیوالے ہی کو منحوس کہین4 بات یہ ہے کہ تم لوگ بیوقوفی میں حد سے بڑھ گئے ہو
4 اس لئے اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ برے کام خود کرتے ہو اور منحوس ان لوگوں کو بتاتے ہو جو تمہیں برائی سے منع کرتے ہیں۔ یا ” تم لوگ ( کفر و سرکشی میں) حد سے بڑھ گئے ہو “۔ اس لئے ہماری دعوت کو قبول کرنے کی بجائے اسے اوہام و خرافات سے رد کرنا چاہتے ہو۔
Top