Ashraf-ul-Hawashi - Yaseen : 23
ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ
ءَاَتَّخِذُ : کیا میں بنا لوں مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اٰلِهَةً : ایسے معبود اِنْ : اگر يُّرِدْنِ : وہ چاہے الرَّحْمٰنُ : رحمن۔ اللہ بِضُرٍّ : کوئی نقصان لَّا تُغْنِ عَنِّىْ : نہ کام آئے میرے شَفَاعَتُهُمْ : ان کی سفارش شَيْئًا : کچھ بھی وَّلَا يُنْقِذُوْنِ : اور نہ چھڑا سکیں وہ مجھے
کیا میں اس کے سوا دوسروں کو بھی خدا بنا لوں اور ان کا حال تو یہ ہے کہ) اگر خدا مجھ کو کوئی دکھ تکلیف دینا چاہے تو ان کی سفارش بھی میرے کچھ کام نہ آئے اور نہ وہ خود مجھ کو اس دکھ سے چھڑا سکیں3
3 اس سے مقصود بھی دراصل قوم ہی کی توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن جھوٹے معبودوں بتوں یا زندہ و مردہ ہستیوں کی تم بندگی کر رہ ہو ان کو یہ قدرت نہیں ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کی پاداش میں تمہیں پکڑنا اور سزا دینا چاہیے تو وہ تمہیں اپنے زور سے سفارش کرکے اس کی گرفت سے چھڑا سکیں۔ اس سے اس سفارش کی نفی نہیں ہوتی جو قیامت کے دن انبیاء ( علیہ السلام) فرشتے یا اللہ کے نیک بندے کریں گے کیونکہ وہ سفارش زور کی نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد اسکے حضور میں التجا ہوگی۔
Top