Ashraf-ul-Hawashi - Saad : 18
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ
اِنَّا سَخَّرْنَا : بیشک ہم نے مسخر کردیے الْجِبَالَ : پہاڑ مَعَهٗ : اس کے ساتھ يُسَبِّحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت وَالْاِشْرَاقِ : اور صبح کے وقت
ہم نے پہاڑوں کو اس کا تابعدار بنادیا تھا وہ سورج ڈھلے اور سورج نکلے اس کے ساتھ ساتھ تسبیح کرتے10
10 زوال شمس اور غروب کے درمیان کے وقت کو ” العشی “ کہتے ہیں اور ” اشراق “ اس وقت کو کہتے ہیں جب سورج طلوع ہونے کے بعد خوب چمکنے لگتا ہے۔ اس وقت میں نفلی نماز کی فضلیت آئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اس وقت دو رکعت نماز تمام اعضاء کی طرف سے صدقہ بن جاتی ہے۔ ( ابن کثیر)
Top