Ashraf-ul-Hawashi - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
اور ان کافروں کے سردار یہ کہہ کر اٹھ گئے چلو جی ( اس کی بات نہ مانو) اور اپنے دیوتائوں (کے پوجے) پر گے رہو بیشک ہو تو (اس شخص کی) خواہش ہے7
7 یعنی یہ ہمارے سامنے کلمہ ” لا الہ الا اللہ “ پیش کر رہا ہے اس سے اس کا مقصد کچھ ذاتی فائدہ معلوم ہوتا ہے اور شاید اس نے یہ سارا ڈھونگ اس لئے رچایا ہے کہ ہم اسے اپنا سردار مان لیں اور یہ ہم پر حکمرانی کر کے داد عیش دے۔
Top