Ashraf-ul-Hawashi - Saad : 75
قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يٰٓاِبْلِيْسُ : اے ابلیس مَا مَنَعَكَ : کس نے منع کیا تجھے اَنْ تَسْجُدَ : کہ تو سجدہ کرے لِمَا : اس کو جسے خَلَقْتُ : میں نے پیدا کیا بِيَدَيَّ ۭ : اپنے ہاتھوں سے اَسْتَكْبَرْتَ : کیا تو نے تکبر کیا اَمْ كُنْتَ : یا تو ہے مِنَ : سے الْعَالِيْنَ : بلند درجہ والے
پروردگار نے فرمایا ابلیس تو نے اس کو کیوں سجدہ نہیں کیا جو میں نے اپنے (خاص) دونوں ہاتھ سے بنایا12 کیا تو شیخی میں آگیا یا حقیقت میں تیرا درجہ بنلد ہے13
12 یعنی بلا واسطہ خود بنایا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے ” دونوں ہاتھوں “ کی تاویل بعض لوگوں نے قدرت سے کی ہے مگر صفات الٰہی میں تاویل جائز نہیں اور سلف (رح) کے مسلک کے خلاف ہے۔13 یعنی کیا اس مرتبہ کو پہنچ گیا ہے کہ میرا حکم نہ مانے
Top