Ashraf-ul-Hawashi - Saad : 86
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ : فرما دیں مَآ : نہیں اَسْئَلُكُمْ : میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ : اس پر مِنْ اَجْرٍ : کوئی اجر وَّمَآ اَنَا : اور نہیں میں مِنَ : سے الْمُتَكَلِّفِيْنَ : بناوٹ کرنے والے
اے پیغمبر لوگوں سے کہہ دے میں اللہ کے حکم پہنچانے کا تم سے کچھ نیک نہیں مانگتا5 اور نہ میں اپنے تئیں بنانا چاہتا ہوں6
5 یعنی میں تم تک اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے کا جو فریضہ سر انجام دے رہا ہوں اس سے میری کوئی ذاتی غرض وابستہ نہیں ہے۔6 کہ خواہ مخواہ اپنی بڑائی جتانے کے لئے پیغمبر کا جھوٹا دعویٰ کروں یا وہ کچھ بننے کی کوشش کروں جو فی الواقع میں نہیں ہوں۔” تکلیف “ کے معنی تصنع ( یعنی خواہ مخواہ بننا) کے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ ” ہمیں تکلف سے منع کیا گیا “ طبرانی و بیہقی وغیرہ میں حضرت سلمان ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہمیں مہمان کے لئے تکلف سے منع فرمایا۔ ( شوکانی)
Top