Asrar-ut-Tanzil - Al-Faatiha : 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
الْحَمْدُ : تمام تعریفیں     لِلّٰہِ : اللہ کے لیے     رَبِّ : رب     الْعَالَمِينَ : تمام جہان
تمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو سب عالموں کے پروردگار ہیں
رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 7 دعا مانگنے کا طریقہ : اللہ کریم نے نوع انسانی کو ایک جامع اور مکمل دعا تعلیم فرمائی ، ایک ایسی دعا جس میں اللہ کی تعریف اقرار عبودیت کے ساتھ استعانت و امداد کی درخواست اور پھر ہر دو عالم کی بھلائی اور اچھائی کا سوال ہے یہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دعا کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جائے ، پہلے اللہ کی تعریف پھر اپنا اقرار عجز ، وعدہ بندگی اور پھر اپنی آرزو تمنا۔ تعوذ و تسمیہ کے بعد انسان سب سے پہلے یہ اقرار کرتا ہے کہ جو کمالات اور ساری خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں ، حسن و جمال ہو یا جاہ و جلال قوت و طاقت ہو یا علم و ہنر جہاں بھی جس چیز کی خوبی بیان ہوگی وہ دراصل تصویر کی وساطت سے سہی ، تعریف تو مصور کی ہی ہوگی ، کیونکہ اللہ رب العالمین ہے تمام کائنات کو تمام کمالات عطا کرنے والا ہے ، اس کا نظام ربوبیت اس قدر جامع ہے کہ ساری مخلوق بیک وقت ایسے مستفید ہورہی ہے گویا یہ سارا کارخانہ اسی ایک کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس نے مخلوق کو نہ صرف وجود عطا فرمایا بلکہ اس کی تعمیر و بقا اور اصلاح کے طور طریقے بھی تعلیم فرما دییے اور پھر ساری مخلوق کو اس کی ضروریات کا ادراک بخشا ، ساتھ ہی تکیمل ضرورت کے اسباب مہیا فرمائے ، اس کارگہ حیات کو تعمیر ہی اس انداز سے فرمایا کہ جہاں شاہی محلات کو سورج سے روشن کیا وہاں غریب کا جھونپڑا بھی اسی سے منور ہے اور جہاں باغات ہیں پھل پک رہے ہیں وہاں چیونٹی کے انڈے بھی سینچے جا رہے ہیں ، یہ ہوا ، یہ روشنی ، یہ بارش اور یہ پانی ، موسم کا تغیر و تبدل اور دن رات کی آمد و رفت بیک وقت ساری مخلوق کو متاثر کرتی سب کی تربیت کرتی ، سب تک رزق پہنچاتی اور سب کو مستفید کرتی نظر آتی ہے ۔ مخلوق کو احساس ضرورت اور تکمیل ضرورت کی تعلیم کا خدائی انداز : یہ اس کی ربوبیت کا کمال ہے کہ جہاں اشیائے ضرورت مہیا فرمائی ہیں وہاں ہر شے کو احساس ضرورت بخشا اور تکمیل ضرورت کے طریقوں سے بھی آشنا فرما دیا۔ گائے کا بچھڑا پیدا ہوتے ہی جان لیتا ہے کہ اس کی غذا ماں کا دودھ ہے اور وہ کہاں ملے گا ، فورا کھڑا ہوتے ہی پیٹ کے نیچے تھن تلاش کرتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تھن سے دودھ کس طرح چوسنا ہے ، اسی طرح مچھلی کا بچہ پیدا ہوتے ہی تیرنا شروع کردیتا ہے حتی کہ ایک چیونٹی تک کو علم ہے کہ اسے کیا کرنا ہے یہی ہوا جو پھولوں کو خوشبو لیے پھرتی ہے چیونٹی تک دانے کی خوشبو بھی پہنچا رہی ہے اور چیونٹی کو اپنی ضرورت اس کی تکمیل کی صورت کا اس حد تک جو دانہ بل میں لے کر جاتی ہے اسے دو ٹکڑے کر کے رکھتی ہے مبادا زمین کی نمی سے اگ آگئے اور اس کی محنت اکارت جائے حتی کہ اگر دھنیا بھی لے کر بل میں رکھے تو اس کے چار ٹکڑے کرتی ہے کیونکہ وہ آدھا بھی اگ آتا ہے۔ یہ سب کیا ہے ؟ اس کی ربوبیت کی شان ہے کہ احساس ضرورت اور پھر تکمیل ضرورت کا علم حسب ضرورت ہر صاحب ضرورت کو بخشا۔ قرآن کریم نے ربوبیت جیسی عظیم صفت کو بھی عظمت باری کی دلیل اور اس کے معبود برحق ہونے اور انسان پر عبادت کے ضروری ہونے کی بنیادی دلیل کے طور پر ارشاد فرمایا ہے۔ نبوت اثبات ربوبیت کی دلیل ہے : یا ایھا الناس اعبدوا ربکم۔ اور یہی ربوبیت اثبات نبوت کی دلیل ہے کہ انسان صرف جسم کا نام نہیں بلکہ جسم اور روح سے مرکب ہے ۔ جہاں اسے بدن اس کی ضروریات اور ان کی تکمیل کے طریقوں کا علم اور اشیا کی ضرورت ہے وہاں اسے روح کی ضروریات اور ان کی تکمیل کے طریقوں کا جاننا بھی ضروری ہے ، بدن کی تعمیر کا علم دماغ کو بخشا اور پھر سارے دماغ یکساں نہیں ہیں ، بلکہ ہر فن کے صاحب فن سے رجوع کرنا پڑتا ہے ، اسی طرح روحانی تکمیل کے لیے دل کو چنا اور اس کی تربیت کے لیے انبیا مبعوث فرمائے جو اس موضوع پر کامل تھے ، اور اپنے اپنے وقت میں نوع انسانی نے ان سے استفادہ کر کے اپنی روحانی زندگی درست کرلی۔ جو رہ گئے وہ روحانی موت سے دوچار ہوئے جس طرح غذا سے محروم انسان جسمانی موت سے ہمکنار ہوتا ہے اور جو رب چیونٹی سے بات کرتا اور بچھڑوں کے دلوں میں بات ڈالتا ہے جو شہد کی مکھی کو پھول تک رسائی کی قوت اور پھول کے رس کو شہد میں ڈھالنے کا طریقہ تعلیم فرماتا ہے کہ یہ اس کی ربوبیت کے مظاہر ہیں اگر وہ کسی ہستی کو نبوت عطا فرماتا ہے تو یہ بھی شان ربوبیت ہے کہ روح کی غذا کا سبب پیدا فرماتا ہے اور اس سے ہم کلام ہوتا ہے وحی یا القاء والھام کی نعمت عطا فرماتا ہے تو اس میں کوئی استبعاد نہیں پھر انبیا کے صحیح اور سچے جانشین اور ان کے متبعین وہ ہوتے ہیں جو اپنی زندگی ان کے نقش قدم پر نثار کرتے ہیں انہیں بقدر ہمت کوئی قطرہ نصیب ہوتا ہے تو باتباع نبی ہی اور اس کے کمال کا پر تو ہوتا ہے اور اسی کو کشف الہام یا القا کہا جاتا ہے نبی پہ یہ جو کچھ وارد ہوتا ہے وہ اسے ٹھیک ٹھیک سمجھتا ہے۔ ولی کے کشف میں غلطی کا امکان اور سبب : مگر ولی کی قوت اس درجہ کی نہیں ہوتی کشف تو اس کا بھی برحق ہوتا ہے کہ اعلام من اللہ ہوتا ہے ہاں یہ ممکن ہے کہ وہ سمجھنے میں ٹھوکر کھا جائے ، اسی لیئے ضروری ہے کہ ولی کا کشف نبی کے ارشاد سے متصادم نہ ہو اگر ہوا تو ناقابل عمل ہوگا ، گویا سمجھنے میں خطا ہوئی نیز نبی کا اتباع پوری امت پر فرض جبکہ ولی کا کشف دوسرے کے لیے حجت نہیں ہوتا۔ الرحمن الرحیم۔ اللہ کی ہی حمد بیان کرتے ہوئے اس کی صفت رحمت کا دو ناموں سے بیان ہے جو ہم معنی ہیں۔ الرحمن فعلان کے وزن پر ہے جو عموما جذباتیت سے متعلق اور وقتی صفت ہوتی ہے جیسے غضبان ، عطشان ، حسیران ، غصے ہونا ، پیایا ہونا پریشان ہوتنا اور صاف دوامی نہیں ہیں اسی طرح رحمانیت کی صفت کا سبب بھی اس کی ربوبیت ہے چونکہ وہ سارے جہاں کا خالق ہے رب ہے اس لیے رحمان بھی ہے یہ اسے زیب نہیں دیتا کہ کسی سے تکمیل حیات کے ذرائع چھین لے ، سو جب تک یہ جہان قائم ہے تمام مخلوق اپنی ضروریات اپنی غذا اور بقائے حیات کے لیے ضروری اشیا حاصل کر رہی ہے۔ اس عموم رحمت کے ساتھ رحمت خاصہ بھی ہے کہ الرحیم ہے یہ اسم فعیل کے وزن پر ہے ۔ عربی زبان میں اس وزن پر جو اوصاف بیان ہوتے ہیں وہ دوامی اور ابدی ہوتے ہیں جیسے علیم ، حکیم وغیرہ تو ظہور رحمیت اس قدر وسیع ہے کہ ازلی و ابدلی ہے ، دوامی ہے جس میں نہ کبھی کمی ہوگی نہ انقطاع وقوع میں آئے گا۔ اگر صفت رحمت کو دیکھا جائے تو یوں نظر آتا ہے کہ ربوبیت کے باوجود اپنی وسعت کے اس میدان کا ایک ذرہ ہے اور رحمت ہی کا ایک شعبہ ، ساری کائنات کی ہر موضوع پر تربیت علمی و عملی خود تعمیر حیات و تعمیر حیات پر شرف و عزت کی عطا اور حسن و خوبی کی بخشش سب کا اصل رحمت ہے ورنہ نہ کوئی مجبوری تھی اور نہ کوئی مجبور کرنے والا ، جو علوم اللہ نے تکمیل ضرورت کے لیے بخشے یہ بھی مظہر رحیمیت ہیں۔ فیض رحیمیت کا حصول انسانی ضرورت ہے : اور اعلی علم وہ ہے جو انبیا کے واسطے سے حاصل ہوا اور مکلف مخلوق کے لیے حصول رحیمیت کا سبب بنا ، ساتھ یہ انتباہ بھی ہے کہ اے لوگو رحمانیت بقائے دنیا تک ہے اس کے صدقے سب مومن و کافر مستفید ہو رہے ہیں۔ مگر جب یہ دنیا نہ رہے گی جو اس وصف کے ظہور کا مقام ہے تو یہ وصف بھی ظاہر نہ ہوگا تمہیں چونکہ رہنا ہے اس لیے تمہاری ضرورت ہے کہ تم رحیمیت باری حاصل کرو جو بواسطہ انبیا نصیب ہوگی اگر اس سے مستغنی رہے اور رحمانیت پر خوش رہے تو اس دار فانی کی زندگی کے بعد وہ تو حاصل ہوگی نہیں اور رحیمیت تم نے حاصل نہ کی تو پھر غضب کا شکار ہوجاؤ گے۔ اسی لیے رحمن الدنیا اور رحیم الاخرہ کہا گیا ہے یہ رحمت ہی ہے جو سارے جہاں کو نہ صرف تعمیر کرتی ہے بلکہ ایک تناسب ایک حسن اور ایک جمال عطا فرماتی ہے گویا ہر تغیر ایک تعمیری پہلو رکھتا ہے اگرچہ سطحی نظر میں وہ تخریب ہی نظر آئے اور ہم اسے ٹوٹ پھوٹ کا نام دیں گے مگر ہر غنچے کی فنا میں کلی کی آمد کی نوید ہے ، اور ہر کلی کے جانے پر پھول کا ظہور گویا ایک کاریگر جو خوبصورت بربط بناتا ہے وہ یونہی نغمے بکھیرنے کے قابل نہیں ہوتا بلکہ اس کی تعمیر کے ساتھ کسی درخت کی تخریب بھی وابستہ ہوتی ہے۔ مالک یوم الدین۔ انسانی افعال کا محرک ان سے حصول فوائد و نتائج کا جذبہ ہے اور جو اس فعل کا اجر دینے والا ہوگا یقینا اس کی نگاہ امید کا مرکز ہوگا اور کوئی بھی انسان نہ چاہے گا کہ اس کی کسی بات پر وہ ہستی اس سے ناراض ہوجائے۔ نتائج کا عطا کرنا تو ہر وقت اسی ذات کے متعلق ہے مگر ایک ان ایسا بھی ہے جس دن کوئی متنفس غیر حاضر بھی نہ ہوگا اور کوئی متنفس اپنی عارضی ملکیت اور وقتی بادشاہت کا مدعی بھی نہ ہوگا اور وہ دن آخرت کا روز جزا کا ہوگا یعنی صرف اللہ ہی کی ایسی ذات ہے جس کی ملکیت و حکومت کا اقرار ایک روز ساری کائنات بڑے بڑے من کروں سمیت کرلے گی تمام کمالات کا منبع بھی اسی کی ذات ہے ساری کائنات کی پرورش بھی وہی کرتا ہے وقتی نعمتیں ہوں یا ابدی سب اسی کی رحمانیت و رحمیت کے مطہر ہیں اور وہ ایسا مالک ہے جس کی ملکیت کا اقرار آخر کو سب ہی کرلیں گے۔ ہے تو ازل سے وہی مگر ایک روز تو سب منکرین کا انکار بھی خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا تو یہ سب بیان کرنے سے انسان کو ایک خاص قرب اور ایک طرح کی حضوری حاصل ہوگئی۔ دفعتا خود کو اس عظیم ذات کے سامنے پایا تو فورا غائب سے حاضر کی طرف پلٹا اور عرض کیا اور ہم تو صرف اور صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں کہ میں نے سارے عالم کو دیکھا مگر سب کو محتاج ہی پایا۔ معطی صرف تو ہی ہے۔ لہذا میں تو صرف تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور میں خود بھی اپنی ذات میں لاشے محض ہوں۔ اے اللہ مجھے ہر لمحہ تیری ہی مدد و استعانت کی ضرورت و احتیاج ہے۔ ایاک نعبد وایاک نستعین۔ جب تو ایسا کریم ہے اور ہم اتنے عاجز و بےکس اور پھر تیری بارگاہ میں حاضر بھی ہیں اور تجھ سے ہی مدد کے طالب بھی کہ ہماری جبین نیاز تیری ہی بارگاہ عالی میں سجدہ ریز ہے تو اے اللہ ! ہم کو سیدھی راہ دکھا۔ اھدنا الصراط المستقیم۔ متکلم احد سے یکا یک جمع کی طرف پلٹا اکیلا متکلم تھا کہ ساری کائنات کو وہاں سجدہ ریز پایا جب اظہار عبودیت کے لیے سر زمین پر رکھا وہاں مقربین و مقبولین کے ہجوم سجدہ ریز پائے پھر اپنے آپ کو ان سے جدا نہ کرسکا اور کہنے ل گا ۔ اے اللہ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں اے اللہ تو ہم کو سیدھی راہ دکھا۔ اس ہم میں صالح اور نیک بندوں سے لے کر شہید صدیق اور انبیا تک سب شامل ہیں اور سب یہی عرض گزار ہیں کہ اے اللہ ! ہمیں سیدھی راہ دکھا اور اس پر قائم رکھ ، ان کی اس ہم کے صدقے نہ جانے کس قدر خطا کار بھی بخشش و عطا سے سرفراز ہوئے۔ سبحان اللہ کس قدر عجیب دعا تعلیم فرمائی جو کبھی بھی رد ہونے والی نہیں۔ نہ ہی اللہ کی عطمت میں فرق آسکتا ہے اور نہ سائل کی ہم خالی جاسکتی ہے کہ اس ہم میں کثرت ان مقربان بارگاہ کی ہے جو ہمہ وقت لطف عمیم کے سزاوار ہیں اور اللہ کی شان کریمی سے یہ بعید ہے کہ اتنے جم غفیر کا سوال تو قبول فرمائے اور اس بھیڑ میں کسی ایک سائل کو رد کردے۔ اللہ ، اللہ دراصل ہماری صلوۃ خواہ اس میں ہمارا سارا خشوع و خضوع بھی شامل ہو اس بارگاہ میں درجہ پانے کی اہلیت و استعداد نہیں رکھتی کہ اس کی عظمت و جلالت اس سے کہیں زیادہ کی مستحق ہے اور حال یہ ہے کہ یہاں سرے سے خشوع ندارد۔ سبحان اللہ ! ساتھ ہی ساتھ ایک بات اور مجھ میں آگئی کہ عظمت باری تو پہلے سے ذہن میں تھی مالک یوم الدین تو پہلے سے جان چکا تھا اب جو تمام مقربین کو بھی سجدہ ریز پایا تو تاکید مزید ہوگئی کہ معطی و منعم صرف ایک ذات ہے باقی تمام کائنات اس کی محتاج تو پکار اٹھا ایاک نستعین کہ اے اللہ ! ہم سب تیری ہی مدد کے طلبگار ہیں اور اس ہم میں بھی وہی راز پوشیدہ ہے کہ کم از کم انبیا سے لے کر صالحین تک سب لوگ مدد کا وعدہ دے گئے ہیں ان کی مدد تو یقینی ہوگی یہاں سائل نے اپنے آپ کو بھی ان کے صدق مدد و اسمتداد الہی سے بہرہ ور کرلیا اور یہ سب تعلیمات چونکہ اعلام من اللہ ہیں اس لیے اس قدر گہرے اور دور رس اثرات مرتب فرماتے ہیں ورنہ انسانی ذہن کی رسائی ان بلندیوں کو نہیں پاسکتی تھی۔ وسیلہ کی حقیقت : حقیقی وسیلہ یا توسل بھی یہی ہے کہ خود کو اطاعت و اتباع کا قلادہ گردن میں ڈال کر نیکوں کے گروہ تک پہنچائے ، شاید ان کے ساتھ ان کے طفیل گو ہر مقصد کو پالے ، مگر وائے محرومی کہ بعض سرے سے انکار کیے بیٹھے ہیں اور بعض نے ان کے نام پر بدعات کی طرح ڈال دی ہے اب دیکھیے انسان اپنی ان حرکات کے آگے کیسا بند باندھتا ہے کہ : جب اجابت دعا کا وقت آیا تو انسان مزید تعین کرتا ہے اس لے نہیں کہ معاذ اللہ خدا کو سمجھا رہا ہے بلکہ مخاطب اللہ سے ہے اور سمجھا خود کو رہا ہے کہ صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین۔ آمین۔ یعنی ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام فرمایا نہ ان کی جو تیرے غضب کا شکار ہوئے یا گمراہ ہوگئے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے سامنے مزیدار دودھ سے بھرا ہوا پیالہ بھی ہو ، اور دوسرا زہر سے پر رکھا ہو اب وہ شخص زندگی کا طالب بھی ہو تو یہ دعا کرتا ہوا کہ اللہ مجھے زندگی دے کبھی زہر نہیں پیے گا کہ عمل قول سے زیادہ موثر ہوتا ہے اس نے عملا تو خود کشی کی اور زبانی دعوی طلب حیات کرتا رہا ، ہاں ! اگر وہ طالب حیات ہے تو وہ دودھ اٹھائے گا اور کہے گا اے اللہ ! میں زہر کے قریب نہیں جاتا تو مجھے اس سے محفوظ رکھ اور دودھ میں میرے لیے خیر و برکت اور صحت عطا فرما۔ یہ قول و عمل کی مطابقت ہوگی یہاں یہی حال ہے کہ اے اللہ ! مجھے اس راہ پر چلا جو انبیا صدیقین شہدا اور صالحین کی ہے تو گویا اپنے آپ سے بھی یہ کہہ رہا ہے کہ اب مجھے وہ کردار اپنانا ہوگا جو ان متزکرہ ہستیوں کا تھا گو کہ میں عمل اپنی حیثیت کے مطابق کرپاؤں۔ صالحین شہدا اور صدیقین انبیا سے مستفید ہوتے ہیں اور انبیا براہ راست ذات باری سے ، سو یہ ایسی راہ ہے کہ انسان اپنا تعلق اللہ سے قائم کرلیتا ہے اور تعلق دل کا ہے کہ حاکم تو دل ہی ہے ، بدن اس کا ملک ہے اور اس کے حکم کے مطابق کام کرتا ہے اور دل میں سنت کی محبت ذکر الہی سے پیدا ہوتی ہے اس کو شکار کرنے کا تیر یہی ہے اسی وجہ سے قرآن کریم نے کم و بیش آٹھ صد سے زیادہ آیات میں کہیں بالواسطہ اور کہیں براہ راست ذکر الہی کا حکم فرمایا ہے اور انبیا و صلحا کا راستہ بھی یہی ہے اور یہی تصوف ہے کہ دل منور ہو اور ہر کام ہر عبادت نور الہی سے مزین ہو۔ اگر دل میں اس راہ میں ساتھ نہ ہو تو یہ محض زبانی دعوی ہے جس کا اعتبار نہیں۔ مضضوب اور ضالین کفر کی دو اقسام ہیں پہلے لوگ وہ ہیں جو قولا و فعلا انبیا کی مخالفت پر اتر آئے اور ضالین وہ لوگ ہیں جو قولا تو خود کو انبیا کے مطیع کہتے ہیں مگر نظریاتی اور عملی دنیا میں اس کے خلاف نظر آتے ہیں ظالب کے لیے ضروری ہے کہ اس تعیین کو مد نظر رکھ کر عملی زندگی میں قدم رکھے یہ نہ ہو کہ زہر پی کر زندگی کی دعا کرے یعنی چنگ و رباب کے سروں پر سر دھن رہا ہو اور امید رکھتا ہو کہ آخرت سنور ہی رہی ہے اور حیات ابدی کا سامان ہورہا ہے حالانکہ اس کا مقام مسجد اور طریقہ اتباع سنت ہے نبی کریم نے مغضوب سے مراد یہود اور ضالین سے مراد نصاری کا ہونا بیان فرمایا ہے تو آیے دیکھیں کہ وہ کن خصلتوں کی وجہ سے مغضوب ہوئے۔ انبیا علیھم السلام کی کھلی مخالفت اور ان کا نہ صرف منکر بلکہ شدید مخالف ہونے کی وجہ سے انہوں نے زور و قوت سے اپنی ایجاد کردہ خرافات کو رائج کرنا چاہا اور ساتھ ہی ساتھ ساری قوت انبیا کی تعلیم کو مٹانے پر لگا دی ، آج کو ایسا مفکر جو تعلیمات دینی کو عبث بتاتا ہے حج کو فضول سفر اور قربانی کو مال کا ضیاع جانتا ہے اور اس کے بدلے آج کی غیر مہذب تہذیب کا احیا چاہتا ہے اپنے کردار میں ان سے شدید ہے۔ اور دوسری طرف وہ جہلا ہیں جو دعوی تو محبت کا کرتے ہیں مگر اظہار محبت کو ڈھنگ خود تجویز کرتے ہیں جو سراسر خلاف سنت اور بدعات کا مجموعہ ہوتے ہیں بےچارے یہ نہیں جان سکے کہ اس بارگاہ میں عشق و محبت بھی حدود وقیود توڑ سکتے اور اظہار محبت کا طریقہ صرف اتباع سنت ہے اور بس۔ لہذا اللہ نے ان سب امراض کا شافی علاج اسی دعا کو مقرر فرمایا ہے اور یہ اس قدر ضروری ہے اور انسانی زندگی میں اس کی اتنی زیادہ ضرورت ہے کہ ہر صلوۃ کی ہر رکعت میں باوضو دست بستہ اس کا عرض کرنا ضروری ٹھہرا۔ اللہ ہم سب کو ہدایت نصیب فرما۔ آمین۔
Top