Tafseer-e-Baghwi - An-Noor : 44
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ
اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : جو لوگ يُحِبُّوْنَ : پسند کرتے ہیں اَنْ : کہ تَشِيْعَ : پھیلے الْفَاحِشَةُ : بےحیائی فِي الَّذِيْنَ : میں جو اٰمَنُوْا : ایمان لائے (مومن) لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ : عذاب اَلِيْمٌ : دردناک فِي الدُّنْيَا : دنیا میں وَالْاٰخِرَةِ : اور آخرت میں وَاللّٰهُ : اور اللہ يَعْلَمُ : جانتا ہے وَاَنْتُمْ : اور تم لَا تَعْلَمُوْنَ : تم نہیں جانتے
اور خدا ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے اہل بصارت کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے
تفسیر۔ 44۔ یقلب اللہ اللیل والنھار، اللہ تعالیٰ ان کو پھیر دیتا ہے رات کے بعد دن کو لاتا ہے اور دن کے بعد رات کو لاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے ابن آدم دکھ پہنچاتا ہے۔ زمانے کو گالیاں دیتا ہے حالانکہ میں زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں حکم ہے میں ہی رات دن کا ادل بدل کرتا ہوں، ان فی ذالک ، یعنی جو اشیاء ہم نے ذکر کی ہیں، لعبرۃ لاولی الابصار، ، عقل والوں کے لیے اور بصیرت والوں کے لیے الل ہ کی قدرت و توحید کے دلائل ہیں، ان سے عبرت حاصل کرو۔
Top