Tafseer-e-Baghwi - Saad : 18
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ
اِنَّا سَخَّرْنَا : بیشک ہم نے مسخر کردیے الْجِبَالَ : پہاڑ مَعَهٗ : اس کے ساتھ يُسَبِّحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت وَالْاِشْرَاقِ : اور صبح کے وقت
ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کردیا تھا کہ صبح و شام ان کے ساتھ (خدائے) پاک (کا ذکر) کرتے تھے
18، انا سخرنا الجبال معہ، جیسا کہ ارشاد باری ہے، وسخرنامع داؤ د الجبال ،۔۔۔۔۔۔۔ ، یسبحن، تسبیح کرتے تھے۔ ، بالعشی والاشراق، کلبی کا بیان ہے کہ اس سے مراد صبح وشام ہے۔ اشراق کا مطلب ہے روشنی کی چمک کا انتہاء کو پہنچ جانا۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک اس سے صلوۃ اشراق مراد ہے۔ عطاء نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے ارشاد فرمایا اس آیت کے متعلق کہ اس آیت پر میرا ایمان تو تھا لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ اس کا معنی کیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ام ہانی بنت ابو طالب ؓ نے فرمایا کہ ایک روزرسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور وضوکاپانی طلب فرمایا، پھر وضو کیا اور چاشت کی نماز پڑھی اور نماز کے بعد فرمایا، ام ہانی ! یہ اشراق کی نماز ہے۔
Top