Tafseer-e-Baghwi - Saad : 27
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ
وَ : اور مَا خَلَقْنَا : نہیں پیدا کیا ہم نے السَّمَآءَ : اور زمین وَالْاَرْضَ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان کے درمیان بَاطِلًا ۭ : باطل ذٰلِكَ : یہ ظَنُّ : گمان الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ : جن لوگوں نے کفر کیا فَوَيْلٌ : پس خرابی ہے لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر) مِنَ : سے النَّارِ : آگ
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کائنات اس میں ہے اسکو خالی از مصلحت نہیں پیدا کیا یہ انکا گمان ہے جو کافر ہیں سو کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے
27، وما خلقنا السماء والارض ومابینھما باطل، ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ نہ اس میں کوئی ثواب ہوگا اور نہ ہی کوئی عقاب ۔ ، ذلک ظن الذین کفروا، اس سے مراد اہل مکہ ہیں۔ وہ لوگ یہ گمان کرتے تھے کہ ان کو کسی اور مقصد کے لیے پیدا کیا گیا۔ ان کونہ قیامت کے دن اٹھایاجائے گا اور نہ ہی کوئی حساب لیاجائے گا۔ ، فویل للذین کفروامن النار،
Top