Tafseer-e-Baghwi - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے
41، واذکرعبد نا ایوب اذنادی ربہ انی مسنی الشیطان بنصب ، نصب کا معنی مشقت اور تکلیف ۔ ابوجعفر نے نون کے ضمہ اور صاد کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ دونوں صورتوں میں معنی ایک ہی ہیں ۔ قتادہ اور مقاتل کا بیان ہے مشقت اور تکلیف جسم میں ہوتی ہے۔ یعنی اس کا تعلق جسم سے ہے۔ ، و عذاب ، مال میں ، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قصہ اور ان کا ابتلاء آزئش انبیاء (علیہم السلام) کے قصوں میں ذکر کیا گیا۔ جب ان کی مدت آزمائش پوری ہوگئی تو ان سے کہا گیا :
Top