Tafseer-e-Baghwi - Saad : 7
مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ
مَا سَمِعْنَا : ہم نے نہیں سنا بِھٰذَا : ایسی فِي : میں الْمِلَّةِ : مذہب الْاٰخِرَةِ ښ : پچھلا اِنْ : نہیں ھٰذَآ : یہ اِلَّا : مگر۔ محض اخْتِلَاقٌ : من گھڑت
یہ پچھلے مذہب میں ہم نے کبھی سنی ہی نہیں یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے
7، ماسمعنا بھذا، جو کچھ محمد ( ﷺ ) کہہ رہے ہیں یہ اس سے پہلے ہم نے کسی سے نہیں سنا۔ ، فی الملۃ الا خرۃ، حضرت ابن عباس ؓ، کلبی ، مقاتل نے کہا کہ ، الملۃ الا خرۃ، سے مراد عیسائیت ہے۔ آخری مذہب یہی تھا۔ عیسائی بھی توحید کے قائل نہیں تھے بلکہ خدا کو تین ، اقانیم، میں تیسراکہتے تھے۔ مجاہد اور قتادہ سے مراد ہے، الملۃ الا خرۃ، سے قریش کا مذہب جس پر وہ چلتے تھے۔ ، ان ھذا الا اختلاق، جھوٹی اور من گھڑت ہیں۔
Top