بصیرتِ قرآن
Baseerat-e-Quran · 10. Yunus · Ayah 26
لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿26﴾
- لِلَّذِيْنَوہ لوگ جو کہ
- اَحْسَنُواانہوں نے بھلائی کی
- الْحُسْنٰىبھلائی ہے
- وَزِيَادَةٌاور زیادہ
- وَلَا يَرْهَقُاور نہ چڑھے گی
- وُجُوْهَھُمْان کے چہرے
- قَتَرٌسیاہی
- وَّلَا ذِلَّةٌاور نہ ذلت
- اُولٰٓئِكَوہی لوگ
- اَصْحٰبُ الْجَنَّةِجنت والے
- ھُمْوہ سب
- فِيْهَااس میں
- خٰلِدُوْنَہمیشہ رہیں گے
Translation · Baseerat-e-Quran
وہ لوگ جنہوں نے نیکی اور بھلائی کا راستہ اختیار کیا ان کے لئے بھلائی بھی ہے۔ اور فضل و کرم بھی ۔ نہ ان کے چہروں پر کدورت ہوگی نہ ذلت و رسوائی، یہی لوگ جنتی ہیں جس جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 30
الحسنی (بھلائی، نیکی) لا یرھق (نہ ڈھانپ لے گی) فتر (سیاہی، اندھیرا) کسبوا (انہوں نے کمایا) السیئات (سیتہ) ، برائیاں عاصم (بچانے والا) اغشیت (ڈھانپ لی گئی) قطع (ٹکڑے) مظلم (سیاہی) نحشر (ہم جمع کریں گے) مکانکم (تم اپنی جگہ رہو) زیلنا (ہم پھوٹ ڈال دیں گے) ھنالک (اسی جگہ) اسلفت (اس نے پہلے سے کیا تھا) ضل (گم ہوگیا، گم ہوجائیں گے)
تشریح :- آیت نمبر 26 تا 30
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم یعنی اچھے اور برے اعمال کے نتائج اور انجام کی وضاحت فرمائی ہے ۔ فرمایا کہ وہ دن جب سارے انسان میدان حشر میں جمع ہوں گے اس وقت اہل جنت کے چہرے تو چمک رہے ہوں گے جب کہ کفار، فساق اور مشرکین کے چہروں پر سیاہی اور تاریکی چھائی ہوئی ہوگی۔ اس دن ان پر یہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی کہ زندگی بھر وہ جن بتوں اور انسانوں کو اپنا معبود سمجھ کر ان کی عبادت و بندگی کرتے رہے ہیں وہ محض ان کے اپنے خیالات، توہمات اور خود ساختہ جذبات تھے۔ پھر بھی ان کے دلوں میں ایک نامعلوم سی امید ہوگی کہ آخر وہ معبود جن کی ہم زندگی بھر عبادت و بندگی کرتے رہے ہیں ہمارے کچھ تو اکم آئیں گے، خیالات کی اسی کشمکش میں ان کے جھوٹے معبود خود ہی بول اٹھیں گے کہ اے ہمارے پروردگار آپ اس بات کے گواہ ہیں کہ جو لوگ ہماری عبادت و بندگی کرتے تھے انہوں نے ہمیں اپنا معبود بنا رکھا تھا وہ ان کا اپنا فعل تھا۔ ہمیں تو پتہ بھی نہیں تھا کہ یہ لوگ ہمیں معبود کیوں بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے فہم و فکر کی غلطی تھی۔ اگر یہ کہیں سے پتھر اٹھا کرلے آئے اور اس میں اپنے ہاتھوں سے شکل صورت بنا کر انہوں نے سجدے کرنے شروع کردیئے تو اس میں ہمارا کیا قصور ؟ اس کی سرا سر ذمہ داری ان کے سروں پر ہے یہ سنتے ہی اہل جہنم کے چہرے اور بھی سیاہ پڑجائیں گے کہ وہ معبود تو ہمارے کچھ بھی کام نہ آسکے۔ دوسری طرف اہل جنت ہوں گے جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کے ساتھ زندگی گذاری ہوگی ان کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہوں گے۔ اس دن ان پر اللہ کا خصوصی فضل و کرم ہوگا اور ان کے چہروں پر کسی طرح کی سیاہی یا ذلت و رسوائی کا شائبہ تک نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان پر جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ وہ بڑی عزت و سربلندی کے ساتھ ان جنتوں میں داخل ہوں گے اور یہ تصور ان کی خوشیوں میں اور اضافہ کر دے گا کہ یہ آخرت کا گھر یہ جنت کی راحتیں انہیں وقتی طور پر نہیں دی گئی ہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عطا کردی گئی ہیں۔
جہاں اہل جنت کے لئے یہ تصور بڑا حسین ہوگا کہ وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے وہیں اہل جہنم کی مایوسیوں کی انتہا یہ ہوگی کہ اب وہ کبھی اس آگ سے باہر نکل سکیں گے۔