Baseerat-e-Quran - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ : اور کیا اَتٰىكَ : آپ کے پاس آئی (پہنچی) نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ : خبر جھگڑنے والے اِذْ : جب تَسَوَّرُوا : وہ دیوار پھاند کر آئے الْمِحْرَابَ : محراب (مسجد)
کیا آپ کے پاس جھگڑنے والے ( دو اہل مقدمہ) لوگوں کی خبر پہنچی ۔ جب وہ دیوار پھاند کر ( حضرت دائود (علیہ السلام) کی) عبادت گاہ میں داخل ہوئے۔
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 26 : الخصم ( جھگڑنے والا ، فریق) تسوروا (انہوں نے دویوار کو پھاند لیا) المحراب (محراب ، عبادت گاہ) فزع (وہ گھبرا گیا) بغی ( اس نے زیادتی کی) لا تشطط ( اشطاط) بےانصافی نہ کر) تسع و تسعون ( ننانوے) نعجۃ ( دنبی ( دنبہ کی مونث) اکفلنی ( میرے حوالے کر دے) عزنی ( اس نے مجھے دبا لیا ، مغلوب کردیا) الخطائ ( شریک ، شرکائ ( تجارتی پارٹنر) خر ( وہ گر پڑا) اناب ( اس نے رجوع کیا ، وہ پلٹا) نسوا ( انہوں نے بھلا دیا) تشریح : آیت نمبر 21 تا 26 :۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے نبی بھی ہیں اور صاحب کتاب رسول بھی ۔ جالوت جیسے ظالم بادشاہ کو قتل کرنے کے بعد وہ بنی اسرائیل کی آنکھ کا تارا بن گئے تھے۔ حضرت طالوت جن کی سربراہی میں جالوت کے زبردست لشکر کو مٹھی بھر مسلمانوں نے بد ترین شکست دے کر میدان سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا انہوں نے حضرت دائود (علیہ السلام) کی شجاعت و بہادری ، تقویٰ اور پرہیز گاری کو دیکھ کر ان سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا تھا ۔ حضرت طالوت کے انتقال کے بعد حضرت دائود (علیہ السلام) نے نظام حکومت کو سنبھالا اور بڑی تیزی سے کفار و مشرکین کو شکست پر شکست دے کر بنی اسرائیل کی عظیم مملکت کی بنیاد رکھ دی ۔ یہ حضرت دائود (علیہ السلام) کی عظمت ہے کہ آپ نبی اور رسول ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انصاف پسند حکمران ، بادشاہ اور ایک اصول پسند انسان تھے جن کی نبی کریم ﷺ نے بھی بہت تعریف فرمائی ہے۔ انہوں نے اپنے گھر میں ایک ایسا نظام بنا رکھا تھا کہ چوبیس گھنٹوں میں کوئی ایسا وقت نہ ہوتا تھا جس میں حضرت دائود (علیہ السلام) اور آل دائود میں سے کوئی نہ کوئی اللہ کی عبادت و بندگی میں مشغول نہ ہوتا ۔ حضرت دائود (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔ انہوں نے رات کے اوقات کو بھی اسی طرح تقسیم کر رکھا تھا کہ جس میں ایک تہائی رات عبادت کرتے اور بہت کم آرام فرماتے تھے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اپنے دنوں کو اس طرح تقسیم کر رکھا تھا کہ ایک دن دربار عام ہوتا دوسرے دن آپ مقدمات کو سن کر عدل و انصاف سے لوگوں کے درمیان فیصلے کرتے اور ایک دن آپ نے اپنے گھر والوں کے لئے مخصوص کر رکھا تھا ۔ آپ کے اصول اتنے مضبوط تھے کہ اس کے خلاف کسی بات کو پسند نہ فرماتے تھے ۔ ایک رات آپ اپنے محل میں اللہ کی عبادت و بندگی میں مشغول تھے چاروں طرف پہرے دار موجود تھے آپ نے دیکھا کہ دو آدمی دیوار پھاند کر اندر آگئے ہیں ۔ انہوں نے آتے ہی بڑی بےباکی سے کہا کہ آپ گھبرایئے مت ہم دونوں ایک مسئلہ میں فریق ہیں اگر آپ ہمارے درمیان فیصلہ کرا دیں اور ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے دیں گے تو ہماری مشکل حل ہو سکتی ہے ۔ حالانکہ حضرت دائود (علیہ السلام) ایک اصول پسند ، عبادت گزار تھے انہوں نے ان دونوں کے آنے پر حیرت تو کی مگر نہ تو ان دونوں کو سزا دی نہ ان کو برا بھلا کہا بلکہ ان کی بات کو نہایت توجہ سے سن کر جو بھی عدل و انصاف کا تقاضا تھا اس کے مطابق فیصلہ فرما دیا ۔ ان دونوں میں سے ایک نے کہا یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس نناوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے۔ اب یہ کہتا ہے کہ وہ ایک دنبی مجھے دے دو چونکہ یہ طاقت ور ہے تو اس نے مجھے اس بات میں دبا رکھا ہے۔ اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ حضرت دائود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ واقعی اس نے تیری دنبی اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کی درخواست کر کے بڑی زیادتی کی ہے۔ آپ نے ایک اصول کی بات بھی فرما دی کہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ آپس میں شریک لوگ ایک دوسرے پر زیادتی کر جاتے ہیں ۔ البتہ وہ لوگ جنہوں نے ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کر رکھا ہے اگرچہ وہ بہت تھوڑے سے ہیں لیکن وہ اس ظلم و زیادتی سے بچے رہتے ہیں ۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے فیصلے کے بعد وہ دونوں جیسے ہی گئے وہ سوچنے لگے کہ اتنے زبردست پہرے کے باوجود دو آدمیوں کا اچانک ان کی خلوت گاہ اور عبادت گاہ میں آجانا اور بڑی بےباکی سے انصاف کا طلب کرنا بڑا عجیب واقعہ ہے۔ ایک دم حضرت دائود (علیہ السلام) کو احساس ہوا کہ شاید یہ دونوں اللہ کی طرف سے میری آزمائش کے لئے بھیجے گئے تھے۔ ممکن ہے مجھے اپنی سلطنت ، فوج ، مال و دولت اور عبادت پر فخر اور نازہو گیا تھا تو اللہ نے مجھے آگاہ کرنے کے لئے ان کو بھیجا ہوگا کہ ہزار پہروں کے باوجود یہ اللہ کی قدرت تھی کہ دو اجنبی اندر داخل ہوگئے تھے۔ جیسے ہی آپ اس نتیجے تک پہنچے تو نہایت عاجزی سے سجدہ میں گر پڑے اور اپنے قصور کی اللہ سے معافی مانگنے لگے اور سب چیزوں کی طرف سے اپنی طبیعت کو ہٹا کر اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اللہ جس کو بندوں کی عاجزی و انکساری بہت پسند ہے اس نے حضرت دائود (علیہ السلام) کی توبہ کو قبول کرلیا ان کے قصور کو معاف فرما دیا اور فرمایا کہ بلا شبہ ہمارے پاس ان کا بہترین مقام اور رتبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے دائود (علیہ السلام) بیشک میں نے تمہیں زمین پر اپنا خلیفہ بنا دیا ہے۔ تم لوگوں کے درمیان حق و انصاف سے فیصلے کرو ۔ اپنی خواہشات کی طرف نہ دیکھو کیونکہ اگر تم نے اپنی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ تمہیں راستے سے بھٹکا دے گا اور جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں ان کو سخت سزا دی جاتی ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس دن کا بھلا دیا ہے جب تمام لوگوں کو ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا ۔ ان آیات سے متعلق چند باتیں۔ (1) جو دو فریق معاملہ حضرت دائود (علیہ السلام) کی محراب یعنی عبادت گاہ میں داخل ہوئے تھے وہ کون تھے اور کیا چاہتے تھے ؟ تو عرض ہے کہ غالباً یہ دونوں اللہ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے تھے جو ان کو کسی خاص واقعہ یا کسی خاص بات سے آگاہ اور خبردار کرنے آئے تھے۔ اس سلسلہ میں توریت یعنی اسرائیل روایات میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ ایک افسانے سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے کیونکہ ایک جلیل القدر پیغمبر اس سطح تک نہیں گر سکتا کہ وہ اپنی خواہش کے لئے دوسروں کے گھر برباد کر دے۔ یہودیوں کے سازشی ذہن نے یہ قصہ گھڑ کر توریت میں شامل کردیا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کسی شادی شدہ عورت پر فریفتہ ہوگئے تھے اور انہوں نے اس کے شوہر سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اپنی بیوی کو آزاد کر دے تا کہ وہ اس سے نکاح کرسکیں ۔ ایسا ممکن تو ہو سکتا تھا کیونکہ بنی اسرائیل میں اس طرح کی خواہش کوئی عیب کی بات نہ تھی بلکہ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ ایک شخص دوسرے کی خواہش کے احترام میں اپنی بیوی کو طلاق دے کر چھوڑ دیتا اور دوسرا اس سے نکاح کرلیا کرتا تھا ۔ ممکن ہے کسی درجہ میں حضرت دائود (علیہ السلام) نے سوچا ہو لیکن ان کے مقام اور رتبہ کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی اس ارادہ سے رک جانے کے لئے آگاہ کیا گیا ہو اور اسی لئے دو فرشتوں کو آدمیوں کی شکل میں بھیجا گیا ہوتا کہ ان کی آزمائش بھی کی جائے اور ان کو اس ارادے سے روک دیا جائے۔ (2) نناوے کے لفظ سے بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے گھر میں نناوے بیویاں تھیں اور ایک اور سے نکاح کرنے کی خواہش تھی ۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے کہ ان کے گھر نناوے بیویاں تھیں بلکہ ان کے گھر میں کثرت سے بیویوں کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔ (3) انبیاء کرام اور ان کے طریقے پر چلنے والوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ اگر غفلت میں ان سے کوئی کوتاہی ہوجائے تو وہ فوراً جھک کر عاجزی و انکساری سے اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنی بےبسی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ سے معافی مانگ لیتے ہیں اور اللہ ایسے لوگوں کے قصور کو اسی وقت معاف فرما دیتا ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) جنہیں اللہ نے ایک بڑا مقام عطاء کیا تھا جب انہیں اس کا احساس ہوا کہ شاید مجھ سے کوتاہی ہوگئی ہے تو وہ فوراً ہی سجدہ میں گر گئے اور اللہ سے معافی مانگنے لگے۔ اسی لئے سورة ص کی اس آیت پر سجدہ کرنا واجب ہے۔ جس طرح حضرت دائود (علیہ السلام) نے اللہ کے سامنے سجدہ کیا تھا۔ چناچہ حضرت سعید ابن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة ص کی اس آیت پر سجدہ فرمایا تھا ۔ آپ نے فرمایا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے توبہ کے طور پر سجدہ کیا تھا اور ہم شکر کے طور پر سجدہ کر رہے ہیں ۔ اسی طرح حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے خطبہ میں سورة ص کی آیت سجدہ کو پڑھا تو آپ منبر سے نیچے اتر آئے جب آپ نے سجدہ کیا تو حضور ﷺ کو دیکھ کر تمام صحابہ کرام ؓ نے بھی سجدہ کیا ۔ (4) اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ دو صاحب معاملہ لوگ ایک دوسرے پر زیادتی کر جاتے ہیں ۔ طاقت ورکمزور کو کچلنے کی کوشش کرتا ہے اور مال دار مفلس اور غر یب آدمی کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جو لوگ اللہ پر ایمان لا کر اس کی رضا و خوشنودی کے لئے اس کی عبادت کرتے ہیں وہ دوسروں پر ظلم و زیادتی سے پوری طرح بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگرچہ ایسے لوگ دنیا میں بہت تھوڑی سے ہوتے ہیں مگر وہ سچائی کو قائم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ (5) اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) سے فرمایا کہ تم دنیا میں اللہ کے خلیفہ اور نائب ہو تمہارا کام یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ عدل و انصاف سے کام لو اور اپنی خواہشات کو بھلا دو کیونکہ اپنی خواہشات کے پیچھے وہی لوگ لگے رہتے ہیں جو گمراہ ہیں اور آخرت میں زندگی کے ہر لمحے کا حساب دینے پر یقین نہیں رکھتے۔
Top