Baseerat-e-Quran - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
(اے نبی ﷺ ! ) ہمارے بندے ایوب کا ذکر کیجئے جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ (میرے پروردگار ) مجھے شیطان نے ( وسوسوں کے ذریعہ) ایذا اور دکھ پہنچا رکھا ہے
لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 44 :۔ نصب ( بیماری ، تکلیف ، مشقت) ارکض (ہلا کر زور سے مارو) رجل ( پاؤں) مغتسل ( نہانے کا پانی) شراب ( پینے کی چیز ، مشروب) اول الالباب ( عقل و فہم والے) ضغثا (تیلیوں یا سینکوں کا مٹھا) لاتحنث (قسم نہ توڑ) تشریح : آیت نمبر 41 تا 44 :۔ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ ” واصبر علی مایقولون “ یعنی جو کچھ لوگ باتیں بناتے ہیں ان پر صبر کیجئے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے ایک نبی تھے ان کی مثال بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے خوش حالی کے زمانہ میں شکر اور شدید مشکلات اور بیماریوں میں صبر کا دامن تھا مے رکھا ۔ شیطان نے ہر طرح وسوسے ڈالنے اور ان کی خدمت گزار بیوی کو گمراہ کرنے کی کوششیں کیں لیکن اللہ نے اپنی رحمت خاص سے ان کو شیطان کی گمراہیوں سے محفوظ رکھا۔ اسرائیلی روایات سے قطع نظر قرآن کریم میں اس جگہ کے علاوہ تین اور مقامات پر حضرت ایوب (علیہ السلام) اور ان کے صبر و شکر کا ذکر فرمایا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو اللہ نے خوش حالی ، گھر کا سکون ، بچوں کی رونق اور مال و دولت سے نواز رکھا تھا لیکن اچانک میں ایسی زبردست تبدیلی آئی کہ ان کا گھر بار ، مال و دولت ( اور ان کی بیوی کے سوا) ساری اولاد ختم ہوگئی ۔ اس کے بعد وہ شدید بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ۔ تمام رشتہ داروں اور دوستوں نے ان سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور وہ شہر سے باہر کسی جھونپڑی میں رہنے پر مجبور ہوگئے سوائے ان کی بیوی جن کا نام رحمت تھا وہ ان کے ساتھ رہ گئیں اور انہوں نے دن رات بےمثال خدمات سر انجام دیں ۔ ایک دن شیطان نے انسانی شکل میں آ کر ان کی بیوی سے یہ کہا کہ میں ایک طبیعت ہوں تمہارے شوہر کو شفاء حاصل کرنے کی دادا دے سکتا ہوں اس پر میں تم سے کوئی اجرت نہیں لیتا بس اتنا چاہتا ہوں کہ جب تمہارے شوہر کو شفاء مل جائے تو یوں کہہ دینا کہ تو نے ان کو شفا دی ، چونکہ سخت تنگی اور بد حالی کے زمانہ میں آدمی کے ذہن میں صرف ایک ہی بات رہتی ہے کہ بیماری کو شفاء مل جائے۔ جب اس بات کا ذکر انہوں نے حضرت ایوب (علیہ السلام) سے کیا تو انہیں اس سے سخت رنج اور تکلیف اور انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب مجھے شفاء مل جائے گی تو تمہاری اس حرکت پر تمہیں سو لکڑیاں ماروں گا ۔ ادھر شیطان نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کے دل میں طرح طرح کے وسوسے پیدا کرنے شروع کردیئے۔ اگرچہ حضرت ایوب (علیہ السلام) صبر و شکر کے پیکر تھے مگر ان تمام حالات کے بعد انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں درخواست کی کہ الٰہی اب تو شیطان نے بھی مجھے تکلیف اور رنج و غم دینا شروع کردیا ہے مجھے ان حالات سے نکالئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جہاں آپ موجود ہیں وہاں زمین پر زور سے پاؤں ماریئے آپ دیکھیں گے کہ وہاں سے پانی کا ایک چشمہ ابلنے لگے کا وہ ٹھنڈا اور میٹھا پانی ہوگا اس سے غسل کیجئے اور بیجئے۔ چنانچہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا جب ٹھنڈے میٹھے پانی کا چشمہ بہہ نکلا تو آپ نے اس سے پیا اور غسل کیا جس سے تمام بیماریاں ختم ہوگئیں اور وہ مکمل طور پر صحت مند ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرا کرم یہ کیا کہ صحت و شفاء حاصل ہونے کے بعد ان کے تمام گھر والے جو مر گئے تھے نہ صرف ان کو زندہ کردیا بلکہ اس سے زیادہ ان کو اولاد اور دولت و حشمت عطاء فرما دی جس سے پہلے جیسی چہل پہل شروع ہوگئی۔ بیماری کے دوران حضرت ایوب (علیہ السلام) نے جو اپنی بیوی کو سو لکڑیوں سے مارنے کی قسم کھائی تھی اس کے لئے فرمایا کہ آپ اپنی قسم پوری کریں اور اپنی قسم کو نہ توڑیں لیکن ان کی بیوی کی عظیم خدمات تھیں اس لئے فرمایا کہ سو سینکوں کا ایک گٹھا بنا لیں یا کھجور کی ایک ایسی شاخ لے لیں جس میں سو لکڑیاں ہوں ان کی ایک ہی دفعہ ماریں تو اس سے تمہاری قسم پوری ہوجائے گی ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ان کی قسم پوری ہوگئی۔ اس مرحلہ پر فقہاء کرام (رح) نے فرمایا ہے کہ اب ہر شخص کو اس طرح کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ساتھ خصوصی طور پر معاملہ کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تمام حالات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) نے جس طرح صبر اور برداشت کا دامن تھامے رکھا وہ اپنی جگہ ایک بہترین مثال ہے۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ سے فرمایا جا رہا ہے کہ دیکھو حضرت ایوب (علیہ السلام) نے شدید حالات میں بھی صبر ، برداشت اور اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ کی بارگاہ میں جھگ کر مانگا تو ان کو پہلے سے زیادہ عطاء کیا گیا ۔ ہر شخص جو اللہ کے دین کی سر بلندی اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے صبر و شکر کرتا رہے گا اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو دنیا اور آخرت میں ہر طرح کی کامیابی اور عظمتوں سے ہم کنار کرتا جائے گا لیکن جو بےصبری اور نا شکری کا طریقہ اختیار کرے گا اور شیطان کے بہکائے میں آ کر غلط سلط راستہ اختیار کرے گا اس کو دنیا میں اور آخرت میں تو خاص طور پر ذلتوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
Top