بصیرتِ قرآن
Baseerat-e-Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 53
وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ﴿53﴾
- وَيَقُوْلُاور کہتے ہیں
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓاجو لوگ ایمان لائے (مومن)
- اَهٰٓؤُلَآءِکیا یہ وہی ہیں
- الَّذِيْنَجو لوگ
- اَقْسَمُوْاقسمیں کھاتے تھے
- بِاللّٰهِاللہ کی
- جَهْدَپکی
- اَيْمَانِهِمْاپنی قسمیں
- اِنَّهُمْکہ وہ
- لَمَعَكُمْتمہارے ساتھ
- حَبِطَتْاکارت گئے
- اَعْمَالُهُمْان کے عمل
- فَاَصْبَحُوْاپس رہ گئے
- خٰسِرِيْنَنقصان اٹھانے والے
Translation · Baseerat-e-Quran
اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے۔ ارے۔ یہ تو وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام پر بڑی بڑی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے سارے اعمال اکارت چلے جائیں گے اور وہ ناکام و نامراد ہو کر رہ جائیں گے۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
آیت نمبر 53
لغات القرآن : اھؤلاء (کیا یہی لوگ ہیں) ۔ اقسموا (انہوں نے قسم کھائی) ۔ جھد (طاقت۔ انتہا درجہ کی کوشش) ۔ ایمان (قسمیں) ۔ اصبحوا (وہ ہوگئے) ۔
تشریح : قیامت کے دن جب کامیابی مسلمانوں کی ہوگی اور منافقین کی ندامت ان کے چہرے سے ظاہر ہوگی اور وہ خوب پہچان لئے جائیں گے اس وقت مخلص مومنین حیران رہ جائیں گے وہ کہہ اٹھیں گے یہ تو وہی لوگ ہیں جو قسمیں کھا کھا کر ہمیں اپنی دوستی اور وفاداری کا یقین دلایا کرتے تھے۔ ہم لوگ کتنے دھوکے میں تھے مگر اللہ کی شان کہ اس نے ہمیں ہی سرخرو کردیا۔
یہ منافقین دنیا میں تو تباہ وہ برباد ہو ہی گئے، آخرت میں بھی ان کے تمام نمائشی اعمال ضائع ہوجائیں گے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کیئ پیشین گوئی کردی ہے جس کے بعد دشمنان اسلام کا زور ٹوٹ گیا تھا۔