Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 124

  1. وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ﴿124﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. جَآءَتْهُمْان کے پاس آتی ہے
    3. اٰيَةٌکوئی آیت
    4. قَالُوْاکہتے ہیں
    5. لَنْ نُّؤْمِنَہم ہرگز نہ مانیں گے
    6. حَتّٰيجب تک
    7. نُؤْتٰىہم کو دیا جائے
    8. مِثْلَ مَآاس جیسا جو
    9. اُوْتِيَدیا گیا
    10. رُسُلُرسول (جمع)
    11. اللّٰهِاللہ
    12. اَللّٰهُاللہ
    13. اَعْلَمُخوب جانتا ہے
    14. حَيْثُکہاں
    15. يَجْعَلُرکھے (بھیجے
    16. رِسَالَتَهٗاپنی رسالت
    17. سَيُصِيْبُعنقریب پہنچے گی
    18. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    19. اَجْرَمُوْاانہوں نے جرم کیا
    20. صَغَارٌذلت
    21. عِنْدَ اللّٰهِاللہ کے ہاں
    22. وَعَذَابٌاور عذاب
    23. شَدِيْدٌسخت
    24. بِمَااس کا بدلہ
    25. كَانُوْا يَمْكُرُوْنَوہ مکر کرتے تھے
Translation · Baseerat-e-Quran
جب ان کے پاس ہماری کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ اس وقت تک نہ مانیں گے جب تک ہمیں بھی وہ چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب یہ مجرمین اپنے کرتوتوں کے باعث اللہ کے حضور سخت ذلت اور سخت عذاب سے دور چارہوں گے۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن : آیت نمبر 124 : حتی نئوتی ( جب تک ( ہمیں ) نہ دیا جائے) حیث یجعل ( جیسے وہ ڈالتا ہے۔ جیسے وہ بناتا ہے) ‘ رسلتہ (اپنا پیغام) صغار ( ذلت۔ رسوائی) ۔ تشریح : آیت نمبر 124 : حضرت قتادہ ؓ سے منقول ہے کہ بنو مخزوم کے سردار ابو جہل نے ایک بار کہا کہ بنو عبد مناف (یعنی نبی کریم ﷺ کے خاندان) سے ہم کسی محاذ میں پیچھے نہیں رہے۔ لیکن اب وہ یوں کہتے ہیں کہ تم اب شرافت و بزرگی میں ہمارا مقابلہ یوں نہیں کرسکتے کہ ہمارے خاندان میں ایک نبی آگیا ہے جس پر وحی الٰہی آتی ہے۔ اس نے کہا جب تک ہمارے پاس بھی وحی نہ آجاء اور ہم بھی نبوت میں برابر نہ ہوجائیں اس وقت تک ہم کسی بات کو نہ مانیں گے۔ ایک اور جگہ لکھا ہے ابو جہل نے کہا ہم اسے اللہ کا کلام نہیں مانیں گے جب تک فرشتہ ہمارے پاس نہ آئے اور تصدیق نہ کردے کہ یہ اللہ ہی کا کلام ہے۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کا انتخاب اللہ خود کرتا ہے۔ وہ اللہ علیم ہے اور حکیم ہے۔ یہ کوئی دنیاوی عہدہ نہیں ہے کہ درخواست دینے سے مل جائے یا مجاہدہ و ریاضت کرنے سے مل جائے۔ یہ کسی قوم یا قبیلہ کو عزت بخشنے کے لئے نہیں دیا جاتا۔ نہ اس انتخاب کے پیچھے کوئی سیاسی مصلحت ہوتی ہے۔ یہ عہدہ کسبی اور نسبی نہیں ہے۔ یہی حال حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ بھی تھا۔ دنیا میں تشریف آوری اور دنیا سے جانے کے درمیان تمام عمر آپ کی الگ شان رہی اگر چہ نبوت چالیس سال کی عمر میں ملی تھی۔