Bayan-ul-Quran - Al-Baqara : 35
وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ
وَاِذْ قُلْنَا : اور جب ہم نے کہا ادْخُلُوْا : تم داخل ہو هٰذِهِ : اس الْقَرْيَةَ : بستی فَكُلُوْا : پھر کھاؤ مِنْهَا : اس سے حَيْثُ شِئْتُمْ : جہاں سے تم چاہو رَغَدًا : با فراغت وَادْخُلُوْا : اور تم داخل ہو الْبَابَ : دروازہ سُجَّدًا : سجدہ کرتے ہوئے وَقُوْلُوْا : اور کہو حِطَّةٌ : بخش دے نَغْفِرْ : ہم بخش دیں گے لَكُمْ : تمہیں خَطَايَاكُمْ : تمہاری خطائیں وَسَنَزِيْدُ : اور ہم عنقریب زیادہ دیں گے الْمُحْسِنِیْنَ : نیکی کرنے والوں کو
اور جس وقت حکم دیا ہم نے فرشتوں کو ( اور جنوں کو بھی) کہ سجدے میں گر جاؤ آدم کے سامنے (ف 8) سو سب سجدے میں گرپڑے بجز ابلیس کے اس نے کہنانہ مانا اور غرور میں آگیا اور ہوگیا کافروں میں سے۔ (ف 9) (34)
8۔ غالبا فرشتوں کو بلاواسطہ حکم کیا ہوگا اور جنوں کو کسی فرشتہ وغیرہ کے ذریعے سے کہا گیا ہوگا۔ 9۔ اس پر تکفیر کا فتوی اس لیے دیا گیا کہ اس نے حکم الہی کے مقابلہ میں تکبر کیا اور اس کے قبول کرنے میں عار کیا اور اس کو خلاف حکمت و خلاف مصلحت ٹھیرایا۔
Top