Bayan-ul-Quran - Al-Baqara : 213
وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا
وَلَيْسَتِ : اور نہیں التَّوْبَةُ : توبہ لِلَّذِيْنَ : ان کے لیے (انکی) يَعْمَلُوْنَ : وہ کرتے ہیں السَّيِّاٰتِ : برائیاں حَتّٰى : یہاں تک اِذَا : جب حَضَرَ : سامنے آجائے اَحَدَھُمُ : ان میں سے کسی کو الْمَوْتُ : موت قَالَ : کہے اِنِّىْ : کہ میں تُبْتُ : توبہ کرتا ہوں الْئٰنَ : اب وَلَا : اور نہ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو يَمُوْتُوْنَ : مرجاتے ہیں وَھُمْ : اور وہ كُفَّارٌ : کافر اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ اَعْتَدْنَا : ہم نے تیار کیا لَھُمْ : ان کے لیے عَذَابًا : عذاب اَلِيْمًا : دردناک
(ایک زمانہ میں) سب آدمی ایک ہی طریق کے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیجا جو کہ خوشی (کے وعدے) سناتے تھے اور ڈراتے تھے۔ اور ان کے ساتھ (آسمانی) کتابیں بھی ٹھیک طور پر نازل فرمائیں۔ اس غرض سے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں میں ان کے امور اختلافیہ (مذہبی) میں فیصلہ فرمائیں۔ (ف 1) اور اس کتاب میں (یہ) اختلاف کسی نے نہیں کیا مگر صرف ان لوگوں نے جن کو (اولا) وہ (کتاب) ملی تھی بعد اس کے کہ ان کے پاس دلائل واضحہ پہنچ چکے تھے باہمی ضداضدی کی وجہ سے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے (ہمیشہ) ایمان والوں کو وہ امرحق جس میں (مختلفین) اختلاف کیا کرتے تھے بفضلہ بتلادیا۔ اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں اس کو راہ راست بتلادیتے ہیں۔ (213)
1۔ اول دنیا میں حضرت آدم (علیہ السلام) مع اپنی بی بی کے تشریف لائے اور جو اولاد ہوتی گئی ان کو دین حق کی تعلیم فرماتے رہے اور وہ ان کی تعلیم پر عمل کرتے رہے ایک مدت اسی حالت میں گزر گئی پھر اختلاف طبائع سے اغراض میں اختلاف ہوناشروع ہوا حتی کہ ایک عرصہ کے بعد اعمال و عقائد میں اختلاف کی نوبت آگئی۔
Top