Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Baqara : 44
اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ
اِنَّمَا : اس کے سوا نہیں يُرِيْدُ : چاہتا ہے الشَّيْطٰنُ : شیطان اَنْ يُّوْقِعَ : کہ دالے وہ بَيْنَكُمُ : تمہارے درمیان الْعَدَاوَةَ : دشمنی وَالْبَغْضَآءَ : اور بیر فِي : میں۔ سے الْخَمْرِ : شراب وَالْمَيْسِرِ : اور جوا وَيَصُدَّكُمْ : اور تمہیں روکے عَنْ : سے ذِكْرِ اللّٰهِ : اللہ کی یاد وَ : اور عَنِ الصَّلٰوةِ : نماز سے فَهَلْ : پس کیا اَنْتُمْ : تم مُّنْتَهُوْنَ : باز آؤگے
بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اسی کے مطابق انبیاء جو (خدا کے) فرمانبردار تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی۔ کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کئے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں
(44) ہم نے حضرت موسیٰ ؑ پر توریت نازل کی تھی، جس میں رجم کا بیان تھا، حضرت موسیٰ ؑ کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانہ تک اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار انبیاء کرام اسی کے مطابق حکم دیا کرتے تھے۔ اور وہ تقریبا ایک ہزار نبی آئے ہیں، اسی طرح اہل اللہ بھی اور علماء بھی توریت کے مطابق حکم دیا کرتے تھے اور وہ پارسا بھی جو گرجاؤں میں رہتے تھے، کیونکہ اس کتاب اللہ پر عمل کرنے اور اس کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لہذا آیت رجم اور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت چھپانے میں مجھ سے ڈریں، اور آپ کی نعت وصفت اور آیت رجم کو چھپا کر کھانے کی معمولی چیز مت لو اور توریت میں حضور کی نعت وصفت اور آیت رجم کرو جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے اسے جو بیان نہیں کرتے، وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول کے منکر ہیں۔
Top