Dure-Mansoor - Yaseen : 18
قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ
قَالُوْٓا : وہ کہنے لگے اِنَّا تَطَيَّرْنَا : ہم نے منحوس پایا بِكُمْ ۚ : تمہیں لَئِنْ : اگر لَّمْ تَنْتَهُوْا : تم باز نہ آئے لَنَرْجُمَنَّكُمْ : ضرور ہم سنگسار کردیں گے تمہیں وَلَيَمَسَّنَّكُمْ : اور ضرور پہنچے گا تمہیں مِّنَّا : ہم سے عَذَابٌ : عذاب اَلِيْمٌ : دردناک
ان لوگوں نے کہا کہ بیشک ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں ضرور ضرور درد ناک تکلیف پہنچے گی۔
11:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا انا تطیرنا بکم “ (انہوں نے کہا کہ ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں) کہنے لگے کہ اگر ہم کو نقصان پہنچ گیا تو وہ تمہاری وجہ سے ہوگا (آیت) ” لئن لم تنتھوا لنرجمنکم “ (اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو رجم کردیں گے) یعنی پتھروں کی بارش کردیں گے (آیت) ” قالوا طائرکم معکم “ (انہوں نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے) یعنی تمہارے اعمال تمہارے ساتھ ہیں (آیت) ” ائن ذکرتم “ فرماتے ہیں اگر ہم تمہارے سامنے اللہ کا ذکر کریں تو تم ہمارے ساتھ بدشگونی لینے لگتے ہو۔ 12:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لنرجمنکم “ (البتہ ہم تم کو رجم کردیں گے) یعنی ہم تم کو برابھلا کہیں گے اور فرمایا قرآن مجید میں جہاں بھی رجم کا ذکر ہے اس سے برا بھلا کہنا مراد ہے اور فرمایا (آیت) ” قالوا طائرکم معکم “ (تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے اگرچہ تم نصیحت کئے جاتے ہو) فرمایا تمہارے بارے میں جو لکھا جا چکا ہے۔ وہ تم پر ضرور واقع ہو کر رہے گی۔
Top