Dure-Mansoor - Saad : 17
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
اِصْبِرْ : آپ صبر کریں عَلٰي : اس پر مَا يَقُوْلُوْنَ : جو وہ کہتے ہیں وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عَبْدَنَا : ہمارے بندے دَاوٗدَ : داؤد ذَا الْاَيْدِ ۚ : قوت والا اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : خوب رجوع کرنے والا
یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے اور ہمارے بندہ داؤد کو یاد کیجئے جو قوت والے تھے، بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” داؤد ذا الاید “ (اور داؤدجو طاقتور تھے) یعنی اللہ کی اطاعت کرنے والے عمل میں قوت والے تھے۔ 2:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذالاید “ یعنی عبادت میں قوت والے تھے۔ 3:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذکر عبدنا داؤد ذالاید “ یعنی ان کو عبادت میں قوت دی گئی، اور سلام میں سمجھ بوجھ دی گئی۔ 4:۔ عبد بن حمید نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” ذالاید “ سے مراد ہے عبادت کرنے میں قوت اور ہدایت میں بصیرت۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) سب سے زیادہ عبادت گذار تھے : 5:۔ بخاری (رح) نے اپنی تاریخ میں ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ انسانوں میں سب سے زیادہ عبادت کرنے والے تھے۔ 6:۔ دیلمی (رح) نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی آدمی کو یہ لائق نہیں کہ یوں کہے کہ میں داؤد (علیہ السلام) سے زیادہ عبادت کرنے والا ہوں۔ 7:۔ احمد نے الزھد میں ثابت ؓ سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) رات کو لمبی نماز پڑھتے تھے۔ ایک رکوع کرتے پھر اپنا سر اٹھاتے تھے تو آسمان کی طرف دیکھتے تھے پھر فرماتے تھے میں نے تیری طرف اپنے سر کو اٹھایا ہے۔ اے آسمان کے آباد کرنے والے جس طرح غلام اپنے مالک کی طرف دیکھتے ہیں۔ 8:۔ احمد نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے خدا کون سارزق زیادہ پاکیزہ ہے فرمایا اے داؤد ! تیرے ہاتھ کا پھل (یعنی تیرے ہاتھ کی کمائی) 9:۔ احمد نے عروہ بن زبیر (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کھجور کے پتے سے ٹوکری بناتے تھے اور وہ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے پھر اس کو بازار کی طرف بھیجتے اس کو بیچ کر اس کی قیمت میں سے کھانا کھاتے تھے۔ 10:۔ احمد نے سعید بن ابی ہلال (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) جب رات کو کھڑے ہوتے تھے تو کہتے تھے اے اللہ آنکھیں سو گئیں ستارے دور چلے گئے اور تو حی وقیوم ہے۔ اور آپ کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ 11:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت ) ” الاواب “ سے مراد ہے تسبیح بیان کرنے والا۔ 12:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الاواب “ سے مراد ہے تسبیح بیان کرنے والا۔ 13:۔ ابن ابی حاتم نے عمر و بن شرجیل (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الاواب “ حبشہ کی لغت میں تسبیح بیان کرنے والے کو کہتے ہیں۔ خلوت میں استغفار : 14:۔ دیلمی (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے۔ 15:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انہ الاواب “ سے مراد ہے اللہ کی طرف رجوع کرنے والے (اور) گناہوں سے لوٹ جانے والا۔ 16:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الاواب “ توبہ کرنے والا گناہوں سے لوٹنے والا۔ 17:۔ عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انہ الاواب “ کہ وہ اپنے رب کی اطاعت کرنے والے تھے کثرت سے نماز پڑھنے والے تھے۔ 18:۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الاواب “ سے مراد ہے یقین کرنے والے۔
Top