Dure-Mansoor - Saad : 18
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ
اِنَّا سَخَّرْنَا : بیشک ہم نے مسخر کردیے الْجِبَالَ : پہاڑ مَعَهٗ : اس کے ساتھ يُسَبِّحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت وَالْاِشْرَاقِ : اور صبح کے وقت
بیشک ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا وہ تسبیح میں مشغول ہوتے تھے شام کو اور اشراق کے وقت
1:۔ عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا سخرنا الجبال معہ یسبحن “ (ہم نے پہاڑوں کو حکم دے رکھا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کیا کریں) یعنی جب داؤد (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پہاڑ بھی آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے (آیت ) ” بالعشی والاشراق “ (صبح شام تسبیح بیان کریں) اس میں الاشراق سے مراد ہے جب سورج چمکتا ہے۔ 2:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” بالعشی الاشراق “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا جب سورج چمک جائے تو نماز واجب ہوجاتی ہے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے اعشی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : لم ینم لیلۃ التمام لکی یصیخ حتی اضاء ۃ الاشراق۔ ترجمہ : وہ ساری رات نہیں سویا تاکہ سورج کے روشن ہونے تک آواز دیتا رہے۔ 3:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میرے دل میں چاشت کی نماز کے بارے میں کوئی چیز (مانع) رہی یہاں تک کہ میں نے یہ (آیت) ” انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی والاشراق “ پڑھی۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے چاشت کی نماز نہیں پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ قرآن میں کہاں ہے یہاں تک کہ بعد میں انہوں نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے (آیت ) ” یسبحن بالعشی والاشراق “ کہ یہ ہے اشراق اس کے بعد ابن عباس ؓ نے اس کو پڑھا۔ 5:۔ ابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مجھ پر ایسا زمانہ آیا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ اس آیت کا معنی کیا ہے ؟ یعنی یہ (آیت ) ” یسبحن بالعشی والاشراق “ پھر فرمایا میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ 6:۔ طبرانی (رح) فی الاوسط وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں اس آیت کے پڑھنے کا حکم دیتا تھا یعنی یہ (آیت ) ” یسبحن بالعشی والاشراق “ اور میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کیا ہے یہاں تک کہ مجھے ام ھانی بنت ابی طالب نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن چاشت کی نماز آٹھ رکعات پڑھی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں نے گمان کرلیا کہ اس وقت کی نماز اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” یسبحن بالعشی والاشراق “ کے مطابق ہے۔ چاشت واشراق کی نماز : 7:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن حارث ؓ سے روایت کیا کہ میں ام ہانی ؓ کے پاس آیا انہوں نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے چاشت کی نماز پڑھی، میں باہر نکلا اور میں ابن عباس ؓ سے ملا اور میں نے ام ھانی کے پاس چلنے کو کہا، ہم دونوں ان کے پاس آئے تو میں نے اپنے چچا کے بیٹے سے کہا کہ نبی ﷺ کی چاشت کی نماز کے بارے میں بیان کیجئے ؟ انہوں نے وہ حدیث بیان کی تو ابن عباس ؓ نے فرمایا اس آیت کا معنی صلاۃ الاشراق ہے اور یہی چاشت کی نماز ہے۔ 8:۔ ابن مردویہ (رح) نے مجاہد کے طریق سے ام ھانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور آپ پر غبار چڑھا ہوا تھا تو آپ نے ایک بڑے پیالے (میں پانی لانے کا) حکم فرمایا میں نے آٹے کے اثر کی طرف دیکھا تو میں نے اس (جگہ) میں پانی ڈالا۔ آپ نے ایسے کپڑے کا حکم فرمایا جو میرے اور آپ کے درمیان تھا اور اسے پردہ کیا گیا آپ کھڑے ہوئے اور اپنے اوپر پانی ڈالنے لگے، پھر آپ کھڑے ہوئے اور چاشت کی آٹھ رکعات پڑھی۔ مجاہد (رح) نے کہا میں یہ حدیث ابن عباس ؓ کو بیان کی تو انہوں نے فرمایا یہ اشراق کی نماز ہے۔ 9:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن حرث ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عثمان ؓ کی خلافت میں چاشت کی نماز کے بارے میں پوچھا جبکہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ میں نے کسی کو نہ پایا جو میرے لئے رسول اللہ ﷺ کی نماز کو ثابت کردے۔ مگر ام ہانی ؓ نے (ثابت کردیا) انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک مرتبہ اس کو پڑھتے ہوئے دیکھا جو آٹھ رکعات تھیں یہ فتح مکہ کا دن تھا اور آپ صرف ایک چادر پہنے ہوئے تھے اس چادر کی دونوں جانب ایک دوسری سمت پر ڈالی ہوئی تھی، میں نے آپ کو اس سے پہلے یا اس کے بعد اس کو پڑھتا ہوا نہیں دیکھا۔ میں نے ابن عباس ؓ کو یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا میں اس آیت کے مصداق کے بارے میں شک میں تھا یعنی (آیت ) ” یسبحن بالعشی والاشراق “ اور میں کہتا تھا کہ اشراق کی نماز کون سی نماز ہے تو یہی وہ اشراق کی نماز ہے۔ 10:۔ ابن جریر وحاکم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ چاشت کی نماز نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ ہم ان کو ام ہانی ؓ کے پاس لے گئے۔ ہم نے ان سے کہا کہ ابن عباس کو بتائیے۔ جو آپ نے ہم کو خبر دی تھی تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر داخل ہوئے تو آپ نے آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی۔ ابن عباس باہر نکلے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں نے پڑھ لیا جو ہو تختیوں کے درمیان ہے (یعنی میں نے مکمل قرآن مجید پڑھا) مجھے یہ پتہ نہ چل سکا کہ اشراق کی نماز کیا ہے مگر اب پتہ چلا کہ (آیت ) ” یسبحن بالعشی والاشراق “ (یہ اشراق کی نماز مراد ہے۔ ) 11:۔ سعید بن منصور نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے قرآن میں چاشت کی نماز کو تلاش کیا تو میں نے اس کو (اس آیت میں پایا) (آیت ) ” بالعشی والاشراق “ 12:۔ بخاری (رح) نے اپنی تاریخ میں وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) و طبرانی (رح) نے الاوسط میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چاشت کی نماز کی نہیں حفاظت کرتے مگر اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے اور یہ اوبین کی نماز ہے۔ 13:۔ اصہبانی (رح) نے الترغیب میں انس ؓ سے روایت کیا کہ میرے خلیل (یعنی محمد ﷺ نے مجھے نصیحت فرمائی اور فرمایا : اے انس ! چاشت کی نماز پڑھ کیونکہ یہ اوابین کی نماز ہے۔ 14:۔ ابن ابی شیبہ (رح) ومسلم (رح) و طبرانی (رح) نے زید بن ارقم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قباء والوں کے پاس تشریف لائے اور وہ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے، اور دوسرے لفظوں میں یوں ہے کہ وہ سورج طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا کہ یہ اس وقت اوابین کی نماز ہے جب فصال (اونٹ کے بچوں کے پاؤں) گرم ہوجائیں۔ 15:۔ بیہقی (رح) نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چاشت کی نماز کی کوئی حفاظت نہیں کرتا مگر اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والا۔ چاشت کی نماز کی فضیلت : 16:۔ ترمذی (رح) وابن ماجہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے بارہ رکعت چاشت کی نماز پڑھی تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ جنت میں سونے کا ایک محل بنادیں گے۔ 17:۔ ابونعیم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چاشت کی نماز پڑھ کیونکہ یہ اوابین کی نماز ہے۔ 18:۔ حمید بن زنجویہ نے فضائل الاعمال میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حسن بن علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے فجر کی نماز پڑھی پھر اپنی جگہ پر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا پھر اس نے اشراق کی دو رکعت پڑھیں۔ تو اللہ تعالیٰ اسے آگ پر حرام کردیتا ہے کہ وہ اس کو جھلسائے یا اس کو کھائے۔ 19:۔ حمید بن زنجویہ و طبرانی (رح) و بیہقی (رح) نے عتبہ بن عبداللہ اور امامہ باہلی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے صبح کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھی پھر اس میں بیٹھا رہا یہاں تک کہ اشراق کی نماز پڑھ لی تو اس کا اجر حج اور عمرہ کرنے والے کے برابر ہوگا۔ اور اس کا حج اور عمرہ ہوگیا۔ 20:۔ ابوداؤد و طبرانی (رح) و بیہقی (رح) نے معاذ بن انس جہنی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنی نماز کی جگہ میں بیٹھا رہا جب وہ نماز سے فارغ ہوا یہاں تک کہ اس نے چاشت کی دو رکعت پڑھیں اور اس نے خیر کے علاوہ کوئی بات نہیں کی تو اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اگر وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں گے۔ 21:۔ طبرانی (رح) نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے دو رکعت پڑھی تو وہ غافلین میں نہیں لکھا جائے گا اور جس نے چار رکعت پڑھی تو وہ عابدین میں لکھا جائے گا اور جس نے چھ رکعات پڑھیں تو اس دن اس کی کفالت کی جائے گی اور جس نے آٹھ رکعت پڑھیں تو قانتین میں لکھا جائے گا اور جس نے بارہ رکعت پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنادیں گے۔ 22:۔ حمید بن زنجویہ والبزار و بیہقی (رح) نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تو نے چاشت کی دو رکعت پڑھیں تو تجھے غافلین میں نہ لکھا جائے گا اور اگر چار رکعت پڑھیں تو تو محسنین میں سے ہوگا اگر چھ رکعت پڑھیں تو قانتین میں لکھا جائے گا اور اگر آٹھ رکعت پڑھیں تو فائزین میں رکھا جائے گا اور اگر دس رکعت پڑھیں تو اس دن تیرا کوئی گناہ نہیں لکھا جائے گا اور اگر بارہ رکعت پڑھیں تو اللہ تعالیٰ تیرے لئے ایک گھر جنت میں بنادیں گے۔ 23:۔ ابن ابی شیبہ (رح) و ترمذی (رح) واحمد (رح) وابن ماجہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے چاشت کی نماز کی حفاظت کی تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگر وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں گے۔
Top