Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Dure-Mansoor - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ
: اور کیا
اَتٰىكَ
: آپ کے پاس آئی (پہنچی)
نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ
: خبر جھگڑنے والے
اِذْ
: جب
تَسَوَّرُوا
: وہ دیوار پھاند کر آئے
الْمِحْرَابَ
: محراب (مسجد)
اور کیا آپ کے پاس جھگڑا کرنے والوں کی خبر پہنچی ہے جبکہ وہ دیوار پھاند کر محراب میں آگئے
1:۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کے دل میں یہ بات پیدا ہوئی اگر وہ کسی آزمائش میں ڈالے گئے اور تو وہ اپنا بچاؤ کریں گے ان سے کہا گیا آپ عنقریب آزمائش میں مبتلا کئے جائیں گے اور عنقریب آپ اس دل کو جان لیں گے کہ جس میں آپ مبتلا کئے جائیں گے لہذا اپنا بچاؤ کرلیجئے پھر ان سے کہا گیا کہ وہ یہ وہ دن ہے جس میں آپ آزمائش میں ڈالے جائیں گے تو انہوں نے زبور لی اور عبادت گاہ میں داخل ہوگئے اور عبادت گاہ کا دروازہ بند کردیا زبور کو اپنی گود میں رکھ لیا اور دروازے پر ایک مصنف کو بٹھا دیا اور اس سے کہا کہ آج کے دن میرے پاس آنے کی کسی کو اجازت نہ دینا۔ اس درمیان کہ وہ تورات پڑھ رہے تھے اچانک ایک سنہری پرندہ آیا اس بہترین خوبصورتی کے ساتھ جو پرندے میں ہوسکتی ہے اس میں ہر رنگ تھا اس نے ان کے آگے چلنا شروع کیا اور ان سے قریب ہوگیا اور اس کا پکڑنا ممکن ہوگیا اس کو پکڑنے کے لئے انہوں نے اپناہاتھ بڑھایا تو وہ اڑ گیا آپ نے اس کی طرف جھانکا تاکہ دیکھیں کہ وہ کہاں بیٹھا ہے، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عورت تھی جو اپنے حوض کے پاس حیض کا غسل کررہی تھی جب اس عورت نے ان کا سایہ دیکھا تو اپنے سر کو حرکت دی۔ اور اپنے جسم کو ڈھانپ لیا اور اپنے بالوں کو جمع کیا اس کا خاوند اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا تھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فوج کے سپہ سالار کو لکھا خیال رکھو اور اس عورت کے خاوند کو تابوت اٹھانے والوں میں شامل میں شامل کردیا تو وہ آدمی شہید ہوگیا۔ جب اس عورت کی عدت گزرگئی تو داؤد (علیہ السلام) نے اس کو نکاح کا پیغام بھیجا تو اس عورت نے ان پر شرط لگائی کہ جو بچہ میں جنوں گی وہ آپ کے بعد خلیفہ ہوگا اور اس نے اس پر بنی اسرائیل میں سے پانچ آدمیوں کو گواہ بنایا اور اس پر تحریر لکھوائی اور انہوں نے محسوس کیا کہ انہوں نے تحریر لکھ دی ہے یہاں تک کہ سلیمان (علیہ السلام) پیدا ہوا اور جوان ہوگئے ان کے پاس دو فرشتے دیوار پھاند کر عبادت گاہ میں آئے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے داؤد (علیہ السلام) سجدہ کرتے ہوئے گرپڑے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی اور ان کی توبہ بھی قبول کرلی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا امتحان : 2:۔ حاکم (رح) (وصححہ) و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کو یہ مصیبت اس وجہ سے آئی کہ انہوں نے فخر کیا تھا اور یہ اس طرح ہوا کہ انہوں نے کہا اے میرے رب کوئی وقت دن اور رات میں ایسا نہیں ہے مگر بنی اسرائیل کا کوئی عبادت گزار تیری عبادت کررہا ہوتا ہے تیرے لئے نماز پڑھتا ہے تیری تسبیح بیان کرتا ہے۔ تیری بڑائی بیان کرتا ہے اور دوسری چیزوں کا ذکر فرماتا اللہ تعالیٰ نے اس کو ناپسند فرمایا اور فرمایا اے داؤد ! یہ سب کچھ میری توفیق سے ہے اگر میری مدد نہ ہوتی تو تو اس پر قوت نہ رکھتا۔ میرے جلال کی قسم ! میں تجھ کو سپرد کردوں گا تیرے نفس کی طرف صرف ایک دن کے لئے عرض کیا اے میرے رب ! مجھے اس کو بتا دیجئے پھر اسی دن ان کو آزمائش پہنچ گئی۔ 3:۔ الحکیم ترمذی (رح) فی نوادرالاصول وابن جریر وابن ابی حاتم نے ضعیف سند کے ساتھ انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ داؤد (علیہ السلام) نے جب عورت کی طرف دیکھا تو بنی اسرائیل پر یہ امر لازم ہوگیا اور لشکر کے امیر کو حکم دیا جب دشمن حاضر ہو تو فلاں آدمی کو تابوت کے سامنے کردینا۔ اس زمانہ میں یہ تابوت کے وسیلہ سے مدد طلب کی جاتی تھی جو شخص اس تابوت کے سامنے رکھا جاتا وہ واپس نہیں لوٹتا تھا یہاں تک کہ شہید کردیا جاتا یا اس سے لشکر شکست کھا جاتا تھا وہ آدمی شہید ہوگیا اور آپ نے اس عورت سے شادی کرلی، دو فرشتے داؤد (علیہ السلام) کے پاس نازل ہوئے آپ نے سجدہ کیا اور چالیس راتیں سجدہ میں رہے یہاں تک کہ آپ کے آنسوؤں سے آپ کے سر کے برابر تک سبزہ آگ آیا زمین نے ان کی پیشانی کو کھالیا اور وہ اپنے سجدوں میں فرماتے تھے اے میرے رب ! داؤد (علیہ السلام) نے ایسی لغزش کی ہے جو مشرق ومغرب کے درمیان دوری سے بھی بڑھ کر ہے اے میرے رب ! اگر آپ نے رحم نہ فرمایا تو داؤد کمزور ہوجائے گا اگر تو نے اس کے گناہوں کو بخشا۔ اس کے گناہ کو مخلوق میں اس کے بعد نیا کردینا۔ جبرائیل (علیہ السلام) چالیس راتوں کے بعد تشریف لائے اور فرمایا اے داؤد بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تیری مغفرت فرمادی ہے داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا تو اس بات کو جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ناانصافی نہیں فرماتے اس وقت کیا ہوگا جب فلاں آئے گا اور عرض کرے گا اے میرے رب ! میرا خون داؤد (علیہ السلام) کے سر ہے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : میں اپنے رب سے اس بارے میں سوال نہیں کیا اگر تو چاہے تو میں ضرور ایسا کروں گا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کہا ہاں پھر داؤد (علیہ السلام) نے سجدہ کیا اور ٹھہرے رہے جو اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر نازل ہوا اور فرمایا : میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا اس چیز کے بارے میں جس کے لئے آپ نے مجھے بھیجا تھا اور فرمایا داؤد (علیہ السلام) کو کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا۔ اور فرمایا ابھی تیرا خون جو داؤد (علیہ السلام) کے ذمہ ہے وہ مجھے ہبہ کردے وہ کہے گا اے میرے رب ! یہ آپ کے لئے ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تیرے لئے جنت میں وہ کچھ ہے جو تو چاہے اور جس عوض کی تو خواہش کرے وہ تیرے لئے ہے۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وہنادوابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب داؤد (علیہ السلام) کو غلطی ہوگئی اور ان کی غلطی یہ تھی اور جب انہوں نے اس عورت کو دیکھا تو حکم فرمایا اس سے الگ تھلگ رہے۔ اور اس کے قریب نہ گئے ان کے پاس دو جھگڑا کرنے والے آئے اور دیوار پھاند کر عبادت گاہ میں آگئے جب ان کو دیکھا تو ان کے پاس گئے اور فرمایا میرے پاس سے نکل جاؤ میرے پاس کس لئے آئے ہو ؟ ان دونوں نے کہا ہم آپ سے تھوڑی سی بات کرنا چاہتے ہیں (آیت) ” ان ھذا اخی لہ تسع وتسعون نعجۃ “ (یہ میرا بھائی ہے اس کی ننانوے دنبیاں ہیں) (آیت ) ” لی نعجۃ واحدۃ “ (اور میری ایک دنبی ہے) اور مجھ سے وہ ایک بھی لینے کا ارادہ رکھتا ہے داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ کی قسم میں زیادہ حقدار ہوں کہ میں اس کا یہاں سے لیکر یہاں تک پھاڑ دوں یعنی ناک سے لے کر سینے تک آدمی نے کہا یہ داؤد ہے جس نے یہ کیا ہے اور داؤد (علیہ السلام) نے پہچان لیا کہ اس کی یہ مراد ہے اور اپنے گناہ کو پہچان لیا پھر اللہ تعالیٰ کے لئے چالیس رات سجدے میں رہے اور وہ غلطی لکھی ہوئی تھی ان کے ہاتھ میں وہ اس کی طرف دیکھتے تھے تاکہ غافل نہ ہوجائیں یہاں تک کہ انکے ارد گرد ان کے آنسوؤں سے سبزہ اگ آئی۔ جس نے ان کے سرکو ڈھانک لیا پھر آواز لگائی کی تو بھوکا ہے تو تجھ کو کھلایا جائے، تو ننگا ہے تو کپڑا پہنایا جائے، تو مظلوم ہے کہ تیری مدد کی جائے جب آپ کو گناہ یاد نہ رہا تو آپ نے سخت گریہ کیا یہاں تک کہ ارد گرد کا سبزہ سوکھ گیا، تو اس وقت آپ کی مغفرت کردی گئی۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو ان کا رب ان سے فرمائے گا میرے سامنے کھڑا ہوجا تو وہ عرض کریں گے اے میرے رب میرا گناہ میرا گناہ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے پیچھے ہوجا پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے قدم کو پکڑ لے تو داؤد (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کا قدم پکڑ لیں گے۔ محراب پھلانگنے کا واقعہ : 5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وھل اتک نبؤا الخصم، اذ تسوروالمحراب “ (اور کیا آپ کے پاس اہل مقدم کی خبر پہنچی ہے جب وہ دیوار پھلانک کر عبادت خانہ میں پہنچے) داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب آپ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کو اور یعقوب (علیہ السلام) کو وہ شان عطا فرمائی کہ میں بھی پسند کرتا ہوں کہ مجھے بھی ایسی شان عطا فرمائیں گے اللہ عزوجل نے فرمایا میں نے ان کو آزمائش میں ڈالا کہ جس آزمائش میں، میں نے تجھ کو نہیں ڈالا اگر تو چاہے تو میں تجھ کو اس طرح کی آزمائش میں مبتلاکردوں اور پھر تجھ کو وہ شان عطا کر دوں جو ان کو عطا کی گئی عرض کیا ہاں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تو عمل کریہاں تک کہ میں تیری آزمائش کو دیکھوں۔ پس وہ ہوا جو اللہ تعالیٰ نے چاہا اور وہ آزمائش ان پر لمبی ہوگئی قریب تھا کہ وہ اس کو بھول جاتے اس درمیان کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں تھے اچانک ایک کبوتری ان پر واقع ہوئی انہوں نے اس کو پکڑنے کا ارادہ کیا وہ محراب کے روشندان کی طرف اڑ گئی وہ اس کو پکڑنے کے لئے گئے تو وہ پھر اڑ گئی انہوں نے روشندان میں سے جھانکا ایک عورت کو غسل کرتے ہوئے دیکھا تو وہ عبادت گاہ سے نیچے اترآئے اور اس کو پکڑنے کے لئے گئے اس عورت کو بلوایا وہ ان کے پاس آئی تو اس کے شوہر کے بارے میں پوچھا اور اس کے حالات کے بارے میں بھی اس عورت نے ان کو بتایا کہ اس کا شوہر غائب ہے تو انہوں نے اس لشکر کے امیر کو لکھا کہ وہ اس کے شوہر کو لشکر کا امیر بنایا جائے تاکہ اس عورت کا خاوند فوت ہوجائے اس امیر نے ایسا ہی کیا اس کے ساتھی مارے جاتے اور وہ بچ جاتا اور بعض اوقات وہ غالب آجاتے اور اللہ عزوجل نے جب دیکھا کہ جب معاملہ میں داؤد (علیہ السلام) پڑے ہیں۔ تو ارادہ فرمایا کہ اس کے معاملہ کو نافذ فرمائیں اس درمیان کہ داؤد (علیہ السلام) ایک دن اپنی عبادت گاہ میں تھے دو فرشتے سامنے سے دیوار کو پھاند کر اندر داخل ہوئے جب ان دونوں کو دیکھا اور آپ پڑھ رہے تھے تو گھبرائے اور خاموش ہوگئے۔ اور فرمایا میں تو کمزور ہوگیا ہوں اپنے مالک میں یہاں تک کہ لوگ دیوار پھاند کر میری عبادت خانہ میں آگئے ان دونوں نے ان سے کہا (آیت) ” لاتخف، خصمن بغی بعضنا علی بعض “ (خوف نہ کیجئے ہم دونوں اہل مقدمہ ہیں، ایک نے دوسرے سے کچھ زیادتی کی ہے اور ہمارے پاس آپ کے پاس آنے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا ہم سے سینے ان میں سے ایک نے کہا (آیت ) ” ان ھذا اخی لہ تسع وتسعون نعجۃ ولی نعجۃ واحدۃ فقال اکفلنیھا “ (یہ میرا بھائی ہے اس کی ننانوے دنبیاں ہیں اور میری صرف ایک دنبی ہے) اور وہ سو پورا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور میرے لئے کوئی چیز بھی نہیں چھوڑتا۔ (آیت) ” وعزنی فی الخطاب “ (اور بات چیت میں اس نے مجھ کو دبایا ہے) فرمایا اگر وہ بلاتے تو اس ساتھیوں کی تعداد زیادہ ہوگی اگر میں اور یہ ایک دوسرے کو پکڑیں تو یہ مجھ سے قوت میں بڑھ کر ہے اسی کو فرمایا (آیت ) ” عزنی فی الخطاب “ (کہ اس نے مجھے بات چیت میں دبایا ہے) داؤد (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کہ تو زیادہ مستحق ہے اپنی دنبی کا اس سے (آیت ) ” لقد ظلمک بسؤال نعجتک لی نعاجہ “ سے لے کر ( آیت) ” سے لیکر (آیت ) ” وقلیل ماھم “ تک۔ (اور اس نے ظلم کیا تیری دنبی کو مانگ کر اپنی دنبیوں کی طرف) اور اس بات چیت میں اپنے آپ کو بھول گئے جب داؤد (علیہ السلام) نے یہ بات کی تو دونوں فرشتوں میں سے ایک نے دوسرے کی طرف دیکھا اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرایا، داؤد (علیہ السلام) نے اسے دیکھا تو گمان کیا کہ ایک آزمائش ہے (آیت ) ” فاستغفر ربہ وخرراکعا واناب “ (تو انہوں نے اپنے رب سے استغفار کیا اور جھک گئے رکوع کرنے کے لئے اور اللہ کی طرف توبہ کی) چالیس رات سجدے میں رہے یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں سے سبزہ اگ آیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ملک کو مضبوط کردیا۔ 6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے اپنے وقت کو چار حصوں میں بانٹا ہوا تھا۔ ایک دن اپنی عورتوں کے لئے ایک عبادت کیلئے ایک دن بنی اسرائیل کے درمیان فیصلے کرکے لئے اور ایک دن بنی اسرائیل کے لئے انہوں نے پوچھا اور کہنے لگے کہ انسان پر کوئی ایسا دن آئے گا کہ جس میں وہ کوئی گناہ نہ کرے، داؤد (علیہ السلام) نے اپنے دل میں یہ بات کی کہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں جب ان کی عبادت کا دن تھا تو اپنے دروازے بند کرلئے، اور حکم دیا کہ آج کوئی ان کے پاس داخل نہ ہو اور جھک گئے تو رات پر۔ اس درمیان کہ وہ تورات کی تلاوت کررہے تھے کہ اچانک سونے کی ایک کبوتری جس میں ہر رنگ تھا آپ کے سامنے آکرگر پڑی آپ اس کی طرف جھکے تاکہ اسے پکڑلیں وہ کبوتری اڑ گئی آپ کے بیٹھنے کی جگہ سے وہ تھوڑی دور جا گری آپ برابر اس کے پیچھے لگے رہے یہاں تک کہ ایک عورت پر ائے جو غسل کررہی تھی اس کے حسن اور صورت کی وپسند کیا جب اس عورت نے آپ کے سائے کو زمین میں دیکھا تو اس نے اپنے بالوں کو ڈھانپ لیا یہ چیز اور زیادہ آپ کو اچھی لگی آپ نے اس کے شوہر کو کسی مہم پر بھیجا تھا آپ نے حکم دیا کہ اسے فلاں فلاں جگہ بھیجا جائے جب وہ وہاں جائے تو قتل ہوجائے واپس نہ لوٹے انہوں نے ایسا ہی کیا (کہ اس کو ایسی جگہ بھیج دیا) وہاں اس کو موت پہنچ گئی توداؤد (علیہ السلام) نے اس عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا اور اس سے شادی کرلی۔ اس درمیان کہ آپ عبادت گاہ میں تھے اچانک دو فرشتے دیوار پھاند کر ان کے پاس آگئے اور دونوں آپس میں جھگڑا کرنے والے تھے جب انہوں نے عبادت گاہ کی دیوار پھاندی تو داؤد (علیہ السلام) ان سے گھبرا گئے اور انہوں نے کہا (آیت) ” لاتخف، خصمن بغی بعضنا علی بعض “ فاحکم بیننا بالحق ولا تشطط “ (آپ کچھ خوف نہ کریں ہم دونوں اہل مقدمہ ہیں ایک نے دوسرے پر کچھ زیادتی کی ہے آپ انصاف سے ہمارے درمیان فیصلہ کردیجئے۔ اور بےانصافی نہ کیجئے یعنی آپ ایک طرف مائل نہ ہوں۔ (آیت ) ” واھدنا الی سوآء الصراط “ ( اور ہم کو معاملے کی سیدھی راہ بتادیجئے) یعنی اس کام میں انصاف کیجئے۔ اور اس میں بھلائی کو اختیار کیجئے (آیت ) ” ان ھذا اخی لہ تسع وتسعون نعجۃ ولی نعجۃ واحدۃ “ (یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے) یعنی داؤد (علیہ السلام) کی ننانوے بیویاں تھیں اور اس آدمی کی صرف ایک بیوی تھی (آیت ) ” اکفلنیھا وعزنی فی الخطاب “ (سو وہ کہتا ہے کہ وہ ایک بھی مجھے دیدے بات چیت میں اس نے مجھے دبایا ہے) یعنی مجھ پر زبردستی کی اور مجھ پر ظلم کیا (آیت ) ” قال لقد ظلمک بسؤال نعجتک الی نعاجہ، وان کثیرا من الخلطآء لیبغی بعضھم علی بعض الا الذین امنوا وعملوا الصلحت وقلیل ماھم وظن داؤد انما فتنہ فاستغفر ربہ وخر راکعا واناب (24) (داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : بلاشبہ اس نے تجھ پر ظلم کیا اپنی دنبیوں میں تیری دنبی کو ملا لینے کا طلبگار ہوا اور اکثر شرکاء کی عادت ہے کہ ایک دوسرے پر زیادتی کیا کرتے ہیں مگر ہاں ! جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں وہ مستثنی ہیں اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں، اور داؤد (علیہ السلام) کو خیال آیا کہ ہم نے ان کا امتحان لیا ہے فورا وہ اپنے رب سے معافی کے خواستگار ہوئے اور سجدے میں گرپڑے اور ہماری طرف رجوع ہوئے۔ فرمایا چالیس رات سجدہ کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میں نے آپ کو بخش دیا ہے عرض کیا اے میرے رب کس طرح آپ نے مجھے بخش دیا حالانکہ آپ انصاف کا حکم فرماتے ہیں اور کسی پر ظلم نہیں فرماتے فرمایا میں تیرے معاملے میں اس کے حق میں فیصلہ کروں گا پھر میں تیرا خون اس سے بطور رہبہ طلب کروں گا۔ پھر میں اس کو بدلہ میں جنت دوں گا یہاں تک کہ وہ راضی ہوجائے گا۔ عرض کیا اے میرا رب ! میرا دل خوش ہوا اور میں جان لیا کہ آپ نے میری مغفرت فرما دی اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” فغفرنا لہ ذلک وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب (25) ۔ (پس ہم نے ان کا وہ قصور معاف کردیا۔ اور بلاشبہ ان کے لئے ہماری بارگاہ میں خاص قرب اور اچھا انجام ہے ) ۔ 7:۔ احمد نے الزھد میں ابوعمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وھل اتک نبؤا الخصم “ (اور کیا ان اہل مقدمہ کی خبر آپ کے پاس پہنچی ہے) وہ دونوں فرشتے بیٹھ گئے داؤد (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : کیا فیصلہ ہے اس میں سے ایک نے دوسرے کی طرف کہا (آیت ) ” ان ھذا اخی لہ تسع وتسعون نعجۃ ولی نعجۃ واحدۃ “ فقال اکفلنیھا وعزنی فی الخطاب “ (یہ میرا بھائی ہے اس کی ننانوے دنبیاں ہیں اور میری ایک دنبی ہے۔ اور اس نے کہا اس کو بھی مجھے دیدے اور اس نے بات چیت میں مجھ کو دبایا ) ۔ داؤد (علیہ السلام) نے تعجب کیا اور فرمایا (آیت ) ” قال لقد ظلمک بسؤال نعجتک الی نعاجہ “ (داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا بلاشبہ اس نے تجھ پر ظلم کیا کہ اپنی دنبیوں میں تیری دنبی کو ملا لینے کا طلبگار ہوا۔ یعنی ان میں سے ایک نے سختی کا اظہار کیا اور (آواز کو) بلند کیا تو داؤد (علیہ السلام) نے پہچان لیا کہ یہ میرے گناہ کی وجہ سے ہے تو انہوں نے چالیس دن اور رات سجدہ کیا اور اپنے سر کو نہیں اٹھایا مگر فرض نماز کی طرف تیری یہاں تک کہ ان کے آنسو خشک ہوگئے اور پیشانی ہتھیلیاں اور گھٹنے زخمی ہوگئے ان کے پاس ایک فرشتہ آیا اور کہا : اے داؤد ! میں تیری طرف تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں۔ اور وہ آپ کو فرماتے ہیں کہ اپنے سر کو اٹھائیے۔ میں نے تیری مغفرت کردی ہے۔ عرض کیا : اے میرے رب ! آپ نے کس طرح (مغفرت کردی ہے ؟ ) اور آپ انصاف کا فیصلہ کرنے والے ہیں، میں نے ایک آدمی پر ظلم کیا کس طرح آپ نے میری مغفرت فرمادی ؟ اس حال پر داؤد (علیہ السلام) کو چھوڑ دیا جتنا عرصہ اللہ نے چاہا پھر ان کے پاس دوسرا فرشتہ آیا اور کہا اے داؤد ! میں تیری طرف تیرے رب کا قاصد ہوں اور وہ آپ کے لئے فرماتے ہیں کہ بلاشبہ تو آئے گا میرے پاس قیامت کے دن اور ابن صوریا بھی کہ تم دونوں میرے پاس جھگڑا لے کر آؤگے تو میں اس کے لئے تیرے خلاف فیصلہ کروں گا پھر میں اس سے سوال کروں گا وہ مجھے ہبہ کردے گا پھر میں اس کو جنت میں سے دوں گا یہاں تک کہ وہ راضی ہوجائے گا۔ 8:۔ ابن جریر (رح) وحاکم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے اپنے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کرلیا تھا ایک دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے تھے اور ایک دن اپنے رب کی عبادت کے لئے خلوت اختیار کرتے تھے اور ایک دن اپنی بیوی کے پاس گزارتے اور ان کی ننانوں بیویاں تھیں آپ جو کتابوں میں پڑھتے تو عرض کیا اے میرے رب میں خیر کو دیکھتا ہوں کہ سب میرے آباؤ اجداد لے گئے جو مجھ سے پہلے تھے مجھے بھی عطا فرمائیے جیسے آپ نے ان کو عطا فرمائی تھی اور میرے ساتھ وہی معاملہ کیجئے جیسے آپ نے ان کے ساتھ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ بلاشبہ تیرے آباؤ و اجداد آزمائے گئے ایسی آزمائش کے ساتھ کہ جس میں آپ نہیں آزمائے گئے اپنے لڑکے کے ذبیحہ کے ساتھ اور اسحاق (علیہ السلام) کو بصارت کے چلے جانے سے آزمائے گئے اور یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے غم کے ساتھ آزمائے گئے اور آپ مجھے بھی اس طرح کی آزمائش میں مبتلا کردیجئے اور مجھے بھی وہ خیر عطا فرمائیے جیسے آپ نے ان کو عطا فرمائی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی : بلاشبہ تو آزمائش میں پڑنے والا ہے سو تو حفاظت کرلے۔ پھر وہ ٹھہرے رہے جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ ٹھہرے رہیں اچانک ان کے پاس شیطان کبوتری کی صورت میں آیا یہاں تک کہ وہ آپ کے قدموں کے قریب گرپڑا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اس کو پکڑنے کے لئے انہوں نے ہاتھ بڑھایا تو وہ ہٹ گیا اس کے پیچھے لگے تو وہ دور ہوگیا یہاں تک کہ روشندان میں جا بیٹھا۔ وہ اس کو پکڑنے کے لئے گئے تو وہ روشندان سے بھی اڑ گیا پھر آپ دیکھنے لگے کہ وہ کہاں جا بیٹھا ہے آپ پیچھے ہوئے اچانک ایک عورت کو دیکھا جو اپنی چھت پر غسل کررہی تھی آپ نے اس عورت کو سب سے زیادہ خوبصورت دیکھا شکل و صورت کے لحاظ سے اس عورت کی توجہ ہوئی تو اس عورت نے بھی آپ کو دیکھ لیا پھر اس نے اپنے بالوں سے پردہ کرلیا۔ اس بات سے ان کی رغبت اور زیادہ ہوئی۔ اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس کا شوہر غائب ہے۔ اور فلاں فلاں فوجی مہم میں گیا ہوا ہے آپ نے اس لشکر کے امیر کے پاس حکم بھیجا کہ وہ اس عورت کے شوہر کو فلاں فلاں دشمن کی طرف بھیج دے امیر نے اس کو بھیج دیا اسے فتح ہوئی امیر نے داؤد (علیہ السلام) کی طرف یہ بات لکھ دی تو انہوں نے اس کی طرف لکھا کہ وہ اس کو فلاں فلاں دشمن کی طرف بھیج دے انہوں نے اس کو بھیج دیا تو وہ تیسری مرتبہ میں قتل کردیا گیا اور داؤد (علیہ السلام) نے اس کی عورت سے شادی کرلی۔ جب وہ عورت انکے پاس آئی تھوڑی دیرٹھہری تھی کہ اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کو انسان کی صورت میں بھیجا دونوں نے اندر آنے کا مطالبہ کیا اور دیوار پھاند کر محراب میں داخل ہوگئے آپ کو محسوس بھی نہ ہوا اور وہ نماز پڑھ رہے تھے اچانک وہ دونوں سامنے بیٹھ گئے داؤد (علیہ السلام) ان سے ڈر گئے تو انہوں نے (آیت ) ” لا تخف “ مت ڈریئے کیونکہ (آیت) ” خصمن بغی بعضنا علی بعض فاحکم بیننا بالحق ولا تشطط “ ہم دونوں جھگڑا لے کر آئے ہیں۔ (آیت ) ” واھدنا الی سوآء الصراط “ یعنی انصاف والے فیصلے کے ساتھ ہماری رہنمائی کریں پھر فرمایا مجھ پر اپنا واقعہ بیان کرو ان میں سے ایک نے کہا (آیت ) ” ان ھذا اخی لہ تسع وتسعون نعجۃ ولی نعجۃ واحدۃ “ دوسرے نے کہا اور میں نے ارادہ یہ کیا کہ میں اس دنبی کو لے لوں تاکہ میری سو دنبیاں ہوجائے تو اس نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں ! تو اس نے کہا پھر تو میں نہ تجھ کو چھوڑوں گا اور نہ اس کو۔ اس نے کہا : اے میرے بھائی ! تو اس پر قادر ہے۔ فرمایا اگر تو نے اس کا ارادہ کیا تو ہم تیرا یہ یہ اڑا دیں گے یعنی ناک اور پیشانی۔ اس نے کہا : اے داؤد (علیہ السلام) آپ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ تیری اس جگہ پر ضرب لگائی جائے کیونکہ آپ کی ننانوے بیویاں تھیں جبکہ اور یا کی صرف ایک بیوی تھی۔ آپ لگاتار اسے قتل کے لئے پیش کرتے رہے یہاں تک کہ اس کو قتل کردیا اور اس کی بیوی سے شادی کرلی انہوں نے نظر کی تو کسی چیز کو نہ دیکھا تو پہچان گئے کہ وہ کسی مصیبت میں پڑگئے اور کسی آزمائش میں مبتلا کئے گئے ہیں (آیت ) ” فخر سجدا “ (یعنی سجدہ کرتے ہوئے گرپڑے اور رونے لگے چالیس دن تک روتے رہے اپنے سرکو اوپر نہیں اٹھایا مگر کسی حاجت کے لئے پھر روتے ہوئے سجدے میں گرپڑے پھر دعا مانگی یہاں تک کہ آپ کے آنسوؤں سے گھاس اگ آئی اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی چالیس دنوں کے بعد اے داؤد ! اپنا سر اٹھائیے تیری مغفرت کردی گئی عرض کیا اے میرے رب ! میں کس طرح جانوں کہ آپ نے میری مغفرت فرما دی ہے اور آپ انصاف کا حکم کرنے والے ہیں کہ فیصلے میں ظلم نہیں فرماتے، جب قیامت کے دن آئے گا وہ اپنا سر دائیں بائیں جانب سے پکڑے گا رگیں خون بہائیں گی میری وجہ سے اور کہیں گے اے میرے رب ! اس سے پوچھئے کس وجہ سے مجھے اس نے قتل کیا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی جب ایسا ہوگا میں اور یا کو بلاؤں گا میں تیرے بارے میں اس سے مطالبہ کروں گا تو وہ مجھے تیرا خون ہبہ کردے گا تو اس کے بدلے میں میں اس کو جنت دوں گا۔ عرض کیا کہ اے میرے رب ! اب میں نے جان لیا کہ آپ نے میری مغفرت فرما دی ہے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو طاقت نہ ہوئی کہ آسمان کو آنکھ بھر کر دیکھیں اپنے رب سے حیا کرتے ہوئے یہاں تک کہ ان کی روح قبض کرلی گئی۔ 9:۔ ابن المنذر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا ہے۔ 10:۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا یہ (آیت ) ” اذ تسوروا المحراب “ سے مسجد مراد ہے۔ 11:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابو الا حوص ؓ سے روایت کیا کہ دو جھگڑا کرنے والے داؤد (علیہ السلام) کے پاس داخل ہوئے اور ہر ایک ان میں سے اپنے ساتھی کے سر کو پکڑے ہوئے تھا۔ 12:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ففزع منھم “ سے مراد ہے کہ جھگڑا کرنے والے دروازے سے داخل ہوئے تھے تو وہ گھبرا گئے جب ان دونوں نے دیوار کو پھاندا تو آپ گھبراگئے۔ 13:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولا تشطط “ یعنی (کسی ایک کی طرف) مائل نہ ہوجائے۔ 14:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان ھذا اخی “ سے دینی بھائی مراد ہے۔ 15:۔ عبد الرزاق وفریابی (رح) واحمد فی الزھد وابن جریر و طبرانی (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے اس سے زیادہ بات نہ کی صرف یہی فرمایا (آیت ) ” اکفلنیھا “ 16:۔ عبدالرزاق وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فقال اکفلنیھا “ یعنی داؤد (علیہ السلام) نے صرف یہی بات کہی کہ اسے میرے حوالے کردیے۔ 17:۔ ابن جریر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے اس سے زیادہ بات نہیں کی اسے میرے حوالے کردے۔ 18:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اکفلنیھا “ سے مراد ہے کہ اسے مجھے دے دے، اسے میرے لئے طلاق دیدے (تاکہ) میں اس سے نکاح کرلو اور تو اس کو رات چھوڑ دے (آیت ) ” وعزنی فی الخطا ب “ (اور بات چیت میں اس نے مجھے دبایا ہے) یعنی مجھے مغلوب کردیا ہے اس کے عزت والے کلام اور خطاب نے۔ 19:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اکفلنیھا “ یعنی اس کو مجھے دیدے (آیت ) ” وعزنی فی الخطا ب “ یعنی جب وہ بات کرتا ہے تو وہ مجھ سے زیادہ بلیغ ہے جب وہ ساتھیوں کو بلاتا ہے تو اس کے حمایت کرنے والے زیادہ ہیں۔ دو فرشتوں میں سے ایک نے کہا اس کی کیا سزا ہے ؟ فرمایا اسے مارا جائے یہاں اور یہاں اور اپنا ہاتھ پیشانی اور ناک پر رکھا پھر ناک کے نیچے رکھا فرشتے نے پوچھا آپ اس کی یہی سزا دیکھتے ہیں کہ وہ اس بات کو دہراتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے جان لیا کہ وہ فرشتے ہیں، جب فرشتہ باہر چلا گیا تو داؤد (علیہ السلام) سجدہ میں گرپڑے یہ بھی ذکر کیا گیا کہ انہوں نے چالیس دن تک اپنا سر نہیں اٹھایا اور روتے رہے یہاں تک کہ آنسوؤں نے سبزہ اگا دیا جو ان کے اردگرد تھا جب چالیس دن گزر گئے تو انہوں نے لمبی آہ بھری جس نے سبزہ کو خشک کردیا جو ان کے سر کے ارد گرد تھا۔ 20:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقلیل ما ھم “ یعنی وہ تھوڑے ہیں جو ان میں سے ہیں (آیت ) ” انما فتنہ “ یعنی ہم نے ان کا امتحان لیا۔ 21:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وظن داؤد “ یعنی داؤد (علیہ السلام) نے جان لیا۔ 22:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وظن داؤدانما فتنہ “ یعنی انہوں نے گمان کیا کہ وہ اس کے ذریعہ آز مائش میں ڈالے گئے۔ 23:۔ سعید بن منصور (رح) وابن ابی شیبہ (رح) نے سعیدبن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش کو دیکھتا تھا۔ 24:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وخرراکعا “ یعنی آپ سجدہ کرتے ہوئے گرپڑے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا طویل سجدہ : 25:۔ عبد بن حمید (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) نے چالیس دن سجدہ کیا اور چالیس راتیں اپنے سر کو نہیں اٹھایا یہاں تک کہ ان کے آنسوں بند اور خشک ہوگئے آپ نے جب آخری دعا کی اس وقت بھی آپ سجدہ میں تھے عرض کیا اے میرے رب ! مجھے عافیت عطا فرمائیے جبکہ میں نے آپ سے آزمائش کا سوال کیا تھا جب آپ نے مجھے آزمائش میں ڈالا تو میں نے صبر نہ کیا اگر آپ مجھے عذاب دیں تو میں اس کا اہل ہوں اگر آپ میری مغفرت فرمائیں تو آپ اس کے اہل ہیں اور اچانک جبرائیل (علیہ السلام) ان کے سر کے پاس کھڑے تھے فرمایا : اے داؤد ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی مغفرت فرما دی ہے اپنا سراٹھائیے مگر انہوں ان کی طرف توجہ نہ کی اور اپنے رب سے مناجات کرتے رہے سجدے میں کی حالت میں عرض کیا اے میرے رب آپ نے کس طرح میری مغفرت فرما دی جبکہ آپ تو انصاف کرنے والے ہیں فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا میں تجھ کو اور یا کی طرف بھیج دوں گا پھر میں تجھے اس سے مانگ لوں گا تو وہ تجھ کو مجھے ہبہ کردے گا تو میں اس کے بدلہ میں میں جنت دوں گا۔ عرض کیا اے میرے رب اب میں نے جان لیا کہ آپ نے واقعی میری مغفرت فرما دی آپ نے اپنے سر کو اٹھایا تو وہ خشک ہوچکا تھا اس کے اٹھانے کی آپ میں طاقت نہ تھی۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کے بعض بالوں کو چھوا تو وہ پھیل گئے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی : اے داؤد ! میں نے تیرے لئے اور یا کی عورت حلال کردی ہے تو آپ نے اس سے شادی کرلی تو سلیمان (علیہ السلام) پیدا ہوئے پھر اس عورت کے ہاں نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد کوئی ولادت ہوئی، کعب ؓ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم داؤد (علیہ السلام) اس کے بعد گرم دن میں روزہ رکھتے تھے پانی کو اپنے منہ کے قریب کرتے تو اپنی غلطی یاد آجاتی تو آپ کے آنسوں پانی میں گرتے تو آپ اسے بہا دیتے پھر اسے واپس کردیتے اور نہ پیتے۔ 26:۔ احمد وعبد بن حمید (رح) نے یونس بن خباب (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) چالیس رات روئے یہاں تک کہ اس کے آنسوؤں سے ان کے اردگرد سبزہ اگ آیا پھر عرض کیا : اے میرے رب ! پیشانی زخمی ہوگئی اور آنسو بند ہوگئے اور اپنے گناہ مجھ پر ویسے ہی ہیں جیسے تھے تو آواز دی گئی : اے داؤد ! کیا تو بھوکا ہے کہ تجھے کھلایا جائے ؟ کیا تو پیاسا ہے کہ تجھے پلایا جائے ؟ یا تو مظلوم ہے کہ تیری مدد کی جائے ؟ آپ نے ایک لمبی آہ بھری تو جو وہاں سبزہ تھا وہ سوکھ گیا تو اس وقت ان کی مغفرت کردی گئی۔ 27:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) نے عبید بن عمیر قریشی (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے سجدہ فرمایا یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں کی وجہ سے ان کے ارد گرد سبزہ اگ آیا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی : اے داؤد ! تو نے سجدہ کیا تو ارادہ رکھتا ہے کہ میں اضافہ کردو تیری ملک میں اور تیری اولاد میں اور تیری عمر میں، عرض کیا : اے میرے رب ! کیا آپ مجھے یہ جواب دیں گے اور میں تو ارادہ رکھتا ہوں کہ آپ میری مغفرت فرما دیجئے۔ 28:۔ احمد فی الزھد و حکیم ترمذی (رح) نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ داؤد (علیہ السلام) کی آنکھوں کی مثال دو مشکوں جیسی ہے جو پانی گرا رہی ہیں اور یقینی طور پر آنسوؤں نے ان کے چہرے میں یوں گڑھے بنادیئے تھے (جیسے) پانی گھڑے بنا دیتا ہے زمین میں۔ 29:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) وعبد بن حمید (رح) نے عطاء بن السائب کے طریق سے ابو عبید اللہ (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے اپنا سر آسمان کی طرف نہیں اٹھایا غلطی کے بعد یہاں تک کہ اس دنیا سے وفات پاگئے۔ 30:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) وعبد بن حمید (رح) نے صفوان بن محرز (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کا ایسا دن تھا جس میں آپ کہتے رہے : اوہ من عذاب اللہ، اوہ من عذاب اللہ، اوہ من عذب اللہ (ہائے اللہ کا عذاب) کہا گیا اور نہ کہو۔ 31:۔ ابن مردویہ یہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی اپنا سراٹھائیے میں نے تیری مغفرت کردی۔ عرض کیا کہ اے میرے رب یہ مغفرت کیسے ہوگی میں نے اس کا حق غصب کیا اور میں نے اس کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کیونکہ اے داؤد بلاشبہ تم سب میرے پاس جمع ہوگے تو میں اس کے حق میں تیرے خلاف فیصلہ کروں گا۔ جب تیرے خلاف حق ظاہر ہوجائے گا۔ تو میں تجھے اس سے طلب کرلوں گا، وہ تجھے ہبہ کردے گا اور میں اپنے پاس سے اس کو راضی کرلوں گا اور میں اس کو جنت میں داخل کردوں گا داؤد (علیہ السلام) نے اپنے سر کو اٹھایا اور ان کا دل خوش ہوگیا اور عرض کیا : ہاں اے میرے رب ! اسی طرح مغفرت ہوگی۔ 32:۔ عبداللہ بن احمد فی زوائد الزھد وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب داؤد (علیہ السلام) سے غلطی ہوگئی (آیت ) ” خرساجدا “ تو سجدے میں چالیس دن تک پڑے رہے یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں سے سبزہ اگ آیا جس نے ان کے سرکو ڈھانک لیا پھر اپنے رب کو پکارا اے میرے رب میری پیشانی زخمی ہوگئی آنکھیں خشک ہوگئیں اور داؤد (علیہ السلام) کی کوئی غلطی معاف نہیں ہوئی پھر آواز دی گئی کیا تو بھوکا ہے کہ تجھے کھلایا جائے کیا تو مریض ہے کہ تجھے شفا دی جائے، کیا تو مظلوم ہے کہ تیری مدد کی جائے ؟ پھر آپ نے لمبی آہ بھری تو اس سے ساری وادی کا سبزہ سوکھ گیا اس وقت ان کی مغفرت ہوگئی آپ کے پاس برتن لائے جاتے آپ پانی پیتے اور اپنی غلطی یاد کرتے پھر آہ بھرتے قریب تھا کہ آپ کے جوڑ ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں آپ برتن سے کچھ نہ پیتے یہاں تک کہ وہ برتن بھرجاتا آپ کے آنسوؤں میں سے اور کہا جاتا تھا داؤد (علیہ السلام) کے آنسوں ساری مخلوق کے آنسوؤں کے برابر ہیں، اور آدم (علیہ السلام) کے آنسوں داؤد (علیہ السلام) اور ساری مخلوق کے آنسوؤں کے برابر ہیں، وہ قیامت کے دن آئے گا تو لکھا ہوا ہوگا اس کی ہتھیلی میں وہ اسے پڑھے گا، ا ورک ہے گا : میرے گناہ ! داؤد (علیہ السلام) عرض کریں گے مجھے آگے جانے دو ، وہ آگے آئیں گے تو امن نصیب نہیں ہوگا پھر پیچھے ہٹیں گے تو امن نصیب نہ ہوگا یہاں تک کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائیں گے میرے قدم کو پکڑ لو۔ 33:۔ احمد نے الزھد میں علقمہ بن یزید (رح) سے روایت کیا کہ اگر زمین والوں کا رونا داؤد (علیہ السلام) کے رونے کے برابر کیا جائے۔ جب وہ زمین کی طرف اتارے گئے تو اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ 34:۔ احمد نے اسمعیل بن عبد اللہ بن ابی مہاجر (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کثرت سے رونے کی وجہ سے سرزنش کئے جاتے تھے اور فرماتے تھے مجھے چھوڑ دو کہ میں روؤں رونے کے دن سے پہلے ہڈیاں چلنے سے پہلے اور داڑھی کے سفید ہونے سے پہلے اس سے کہ حکم دیا جائے میرے بارے میں (ایسے فرشتوں کو جیسے فرمایا گیا) (آیت ) ” ملئکۃ غلاظ شدادلا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یؤمرون “ (التحریم آیت 6) (یعنی اس پر فرشتے سخت دل قوی ہیکل مقرر ہیں وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انہیں حکم دے اور وہی کہ تم میں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے) ۔ 35:۔ احمد (رح) والحکیم ترمذی (رح) وابن جریر (رح) نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے اپنی غلطی اپنی ہتھیلی پر لکھ لی تھی تاکہ اس کو بھول نہ جائیں اور جب اس کو دیکھتے تھے تو ان کے ہاتھ کانپ جاتے۔ 36:۔ مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ داؤد (علیہ السلام) کو (قیامت کے دن) اٹھالایا جائے گا، اور ان کی غلطی انکی ہتھیلی میں لکھی ہوئی ہوگی۔ 37:۔ احمد نے عثمان بن ابی عاتکہ (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کی دعا میں سے (یہ بھی) تھی ” سبحانک الھی اذ ذکرت خطیئنی “ ‘ (اے میرے خدا تیری ذات پاک ہے جب میں یاد کرتا ہوں اپنی غلطی کو) (آیت ) ” وضاقت علیکم الارض برحبھا “ تو مجھ پر زمین تنگ ہوجاتی ہے باوجود کشادہ ہونے کے اور جب ” واذ ذکرت رحمتک ارتدت الی روحی “ جب میں تیری رحمت کو یاد کرتا ہوں تو میری روح مجھ پر لوت آتی ہے۔” سبحانک الھی فکلھم علیل “ اے میرے خدا تیری ذات پاک ہے ان میں ہر ایک علیل ہے۔ 38:۔ احمد نے ثابت (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے ساتھ بچھونے سعد (یمن کی ایک چادر) سے بنائے اور ان میں راکھ بھردی پھر وہ روئے یہاں تک کہ آنسو جاری ہوگئے۔ اور آپ نے کوئی پینے کی چیز نہیں لی مگر اس میں ان کی آنکھوں کے آنسوؤں کی آمیزش ہوتی تھی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی گریہ وزاری : 39:۔ احمد (رح) نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) اتنا روئے یہاں تک کہ آنسوؤں نے ان کے چہرے میں گھڑے ڈال دیئے اور وہ اپنی بیویوں سے علیحدہ ہوگئے اور اتنا روئے یہاں تک کہ ان پر رعشہ طاری ہوگیا۔ 40:۔ احمد (رح) نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ جب داؤد (علیہ السلام) اپنی قبر سے نکلیں گے اور زمین کو آگ کی صورت میں دیکھیں گے تو اپنے ہاتھ کو اپنے سر پر رکھ دیں گے اور کہیں گے آج کے دن میری خطا مجھے ہلاک کردے گی۔ 41:۔ عبدالرحمن بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) دعا کرتے تھے۔ اللھم ما کتبت فی ھذا الیوم من مصیبۃ مخلصنی منھا ثلاث مرات وما انزلت فی ھذا الیوم من خیر فأتنی منہ نصیبا ثلاث مرات “ ترجمہ : اے اللہ جو آپ نے آج کے دن میرے حق میں مصیبت لکھی ہے تو مجھے اس سے خلاصی عطا فرما یہ دعا تین مرتبہ فرماتے آپ نے اس دن میں خیر نازل فرمائی ہے تو اس میں سے ایک حصہ مجھے عطا فرمائیے (یہ دعا بھی تین مرتبہ فرماتے) اور جب شام ہوتی تو پھر اسی طرح دعا فرماتے اس کے بعد آپ کوئی ناپسندیدہ چیز نہ دیکھتے۔ 42:۔ احمد نے معمر (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) سے جب خطا ہوئی فرمایا اے میرے رب میں خطا کرنے والوں کو ناپسند کرتا تھا آج کے دن میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ آپ ان کی مغفرت کردیجئے۔ 43:۔ عبداللہ بن حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں سعید بن ابی ہلال (رح) سے روایت کیا کہ لوگ داؤد (علیہ السلام) کی عبادت کرتے تھے اور وہ لوگ گماں کرتے تھے کہ وہ بیمار ہیں اور ان کو کوئی تکلیف نہ تھی صرف اللہ سبحان وتعالیٰ کا خوف تھا۔ 44:۔ ابن ابی شیبہ نے کعب (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) جب روزہ افطار کرتے تو قبلہ رخ ہوجاتے اور فرماتے : اللہم خلصنی من کل مصیبۃ نزات فی السماء ثلاثا واذا طلع حاجت الشمس قال اللھم اجعل لی سبھما فی کل حسنۃ نزلت اللیلۃ ان السمائ الی الارض ثلاثا۔ ترجمہ : اے اللہ ! مجھے نجات دیجئے ہر مصیبت سے جو تو نے نازل کی آسمان سے تین مرتبہ فرماتے اور جب سورج طلوع ہوتا تو فرماتے اے اللہ کہ میرے لئے ہر نیکی میں سے ایک حصہ کردے جو اس رات میں آسمان سے نازل ہوئی زمین کی طرف تین مرتبہ فرمایا : 45:۔ احمد (رح) و بخاری (رح) و ابوداؤد و ترمذی (رح) و نسائی (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة ص میں سجدہ لازم نہیں لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے۔ 46:۔ نسائی وابن مردویہ (رح) نے جید سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے سورة ص میں سجدہ کیا اور فرمایا کہ یہ داؤد (علیہ السلام) نے سجدہ کیا اور ہم سجدہ شکر کرتے ہیں۔ 47:۔ ابن ابی شیبہ و بخاری (رح) نے عوام (رح) سے روایت کیا کہ میں نے مجاہد (رح) سے پوچھا سورة ص کے سجدے کے بارے میں تو انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے سوال کیا کہ آپ نے کہاں سجدہ کیا تو انہوں نے فرمایا کیا تو نے نہیں پڑھا (آیت ) ” ومن ذریتہ داؤد وسلیمن “ (الانعام آیت 84) (آیت) ” اولئک الذین ھدی اللہ فبھدھم اقتدہ “ (الانعام آیت 90) اور داؤد (علیہ السلام) ان لوگوں میں سے تھے کہ جن کے بارے میں تمہارے نبی کریم ﷺ نے حکم فرمایا کہ ان کی یہی اقتداء کی جائے داؤد (علیہ السلام) نے اس پر سجدہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے بھی یہی سجدہ کیا۔ 48:۔ سعید بن منصور نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سورة ص میں سجدہ نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ یہ (آیت) ” اولئک الذین ھدی اللہ فبھدھم اقتدہ “ (یہ وہ لوگ تھے جنہیں اللہ نے ہدایت دی سو ان کے طریقے پرچل) نازل ہوئی تو (پھر) اس میں رسول اللہ ﷺ نے سجدہ فرمایا۔ 49:۔ ترمذی (رح) وابن ماجہ و طبرانی (رح) وحاکم (رح) (صححہ) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں نے آج رات وہ دیکھا۔ جو ایک نیند کرنے والا دیکھتا ہے گویا کہ میں درخت کے پاس سجدہ کررہا ہوں اور گویا کہ میں نے سجدہ پڑھی۔ میں نے سجدہ کیا میں نے درخت کو دیکھا کہ میرے سجدے کے ساتھ اس نے بھی سجدہ کیا اور گویا کہ میں سن رہا ہوں کہ وہ کہہ رہا ہے۔ اللہم اکتب لی بھا عتدک ذکر اوضع عنی بھا وزراوجعلنی الی عندک زخر اواعظم بھا اجرا۔ ترجمہ : اے اللہ ! میرے لئے اس کے بدلے میں اپنے پاس سے ذکر لکھ دیجئے اور اس کے بدلے میں مجھ سے ایک گناہ اتار دے اور اس کو میرے لئے اپنے ہاں ذخیرہ بنالیجئے اور اس کے ساتھ میرے اجر کو بڑا کردے۔ اور مجھ سے اس عمل کو اس طرح قبول کیجئے جیسے آپ نے اپنے بندے داؤد (علیہ السلام) سے قبول فرمایا ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت سجدہ پڑھا اور میں نے سنا کہ آپ اپنے سجدہ میں رہی بات کرتے ہی سنا جیسے آدمی نے درخت کی بات کے بارے میں بتایا تھا۔ 50:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرۃ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة ص ٓ میں سجدہ فرمایا۔ 51:۔ ابن مردویہ (رح) نے ساب بن یزید (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت عمر ؓ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی انہوں نے سورة ص پڑھی اور اس میں سجدہ کیا جب نماز ختم ہوگئی تو ایک آدمی نے کہا اے امیر المومنین کیا یہ فرض سجدہ میں سے ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اس میں سجدہ کیا کرتے تھے۔ 52:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة ص میں سجدہ فرمایا۔ 53:۔ الدارمی ابوداؤد ابن خزیمہ وابن حیان والدارقطنی وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة ص پڑھی اور آپ منبر پر تشریف فرما تھے جب سجدہ پر پہنچے تو آپ نیچے اترے اور سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا جب دوسرا دن ہوا تو (پھر) آپ نے اس کو پڑھا جب سجدہ پر پہنچے لوگوں نے سجدے کے لئے تیاری کی تو آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ یہ نبی کی توبہ ہے لیکن میں نے تم کو دیکھا کہ تم نے سجدہ کے لئے تیاری کی پھر آپ نیچے اترے اور سجدہ کیا۔ سورۃ ص کا سجدہ : 54:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة ص ٓ پڑھی اور آپ منبر پر تشریف فرما تھے جب آیت سجدہ پر پہنچے اور اس کو پڑھا تو آپ نیچے اترے اور سجدہ کیا۔ 55:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے سورة ص میں سجدہ کرتے تھے۔ 56:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ سورة ص میں سجدہ ہے۔ 57:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ و طبرانی (رح) و بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ سورة ص میں سجدہ نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ ایک نبی کی توبہ ہے جو ذکر کی گئی۔ 58:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے بعض صحابہ ؓ سورة ص ٓ میں سجدہ کرتے تھے۔ اور بعض سجدہ نہیں کرتے تھے تو جو چاہے کر۔ 59:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو مریم (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ جب شام میں تشریف لائے اور داؤد (علیہ السلام) کی عبادت گاہ میں آئے اس میں نماز پڑھی جس میں سورة پڑھی جب سجدہ پر پہنچے تو سجدہ کیا۔ 60:۔ احمد وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) و بیہقی نے دلائل میں ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک خواب دیکھا کہ وہ سورة ص کو لکھ رہے تھے جب اس آیت میں پہنچے کہ جس کے ساتھ سجدہ کیا جاتا ہے تو دیکھا کہ دوات اور قلم بھی سجدہ کررہے ہیں اور ہر چیز جو حاضر تھے وہ سجدہ میں گرگئی یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کو بیان کیا گیا۔ اس کے بعد وہ ہمیشہ اس کا سجدہ کرتے رہے۔ 61:۔ ابویعلی نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ میں نے خواب دیکھا گویا کہ میں درخت کے نیچے ہوں گویا کہ درخت سورة ص پڑھ رہا ہے جب وہ سجدہ (کی آیت) پر اتارے تو اس نے سجدہ کیا اور اس نے اپنے سجدے میں کہا : اے اللہ ! اس کے ذریعہ مجھے بخش دے اے اللہ اس کے ذریعے مجھ سے گناہ مٹا دے، اور مجھے اس کے بدلے میں شکر کی توفیق عطا فرما، اور اس کو مجھ سے اس طرح قبول کرلے جیسے تو نے اپنے بندے داؤد (علیہ السلام) سے قبول فرمایا جب انہوں نے سجدہ کیا میں صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو یہ واقعہ بتایا، آپ نے فرمایا : اے ابوسعید ! تو نے سجدہ کیا میں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا تو درخت سے زیادہ حقدار ہے سجدہ کرنے کا پھر رسول اللہ ﷺ نے سورة ص پڑھی اور آپ نے سجدہ کیا اور اپنے سجدہ میں وہی کلمات کہے جو درخت نے سجدہ میں کہے تھے۔ 62:۔ طبرانی (رح) اور خطیب (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ سجدہ جو سورة ص میں داؤد (علیہ السلام) نے اس کو بطور توبہ کے کیا تھا اور ہم اس کو بطور شکر کے کرتے ہیں۔ 63:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ان کے ایک سفر میں حاضر ہوا اور آپ سورة ص پڑھ رہے تھے پھر آپ نے اس میں سجدہ فرمایا۔
Top