Dure-Mansoor - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کیجئے جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک مجھے شیطان نے دکھ اور آزار پہنچایا ہے
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا امتحان : 1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذکر عبدنا ایوب، اذ نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب “ (اور ہمارے بندہ ایوب کا تذکرہ کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے) یعنی آپ کے اہل و عیال اور مال سب پر چھا گئے اور وہ تکلیف جو ان کو ان کے جسم میں پہنچی فرمایا اسی تکلیف میں سات سال اور کچھ مہینے مبتلا رہے آخر کو بنی اسرائیل کے کوڑے کرکٹ پر ڈالدیا گیا، مختلف قسم کے کیڑے مکوڑے آپ کے جسم میں پھرتے رہتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ تکلیف دور کردی اور ان کے لئے اجر کو عظیم بنایا اور آپ کو خوبصورتی بھی عطا فرمائی۔ 2:۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بنصب و عذاب “ سے مراد ہے جسم میں تکلیف و عذاب سے مراد ہے مال میں عذاب (یعنی مال کا ہلاک ہوجانا) 3:۔ احمد فی الزھد وابن ابی حاتم وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شیطان آسمان پر چڑھا اور کہا اے میرے رب ! مجھے ایوب (علیہ السلام) پر مسلط کردے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تجھ کو مسلط کردیا اس کے مال پر اور اس کی اولاد پر اور میں نے تجھ کو اس کے جسم پر مسلط نہیں کیا، شیطان نیچے اترا اور اپنے لشکروں کو جمع کرتے ہوئے کہا مجھے ایوب (علیہ السلام) پر غلبہ عطا کیا گیا ہے۔ تم مجھ کو اپنا غلبہ دکھاؤ وہ آگ بن گئے پھر پانی بن گئے اس درمیان کہ اس کے لشکر مشرق میں ہوتے تو پھر مغرب میں ہوتے اور وہ مغرب میں ہوتے پھر مشرق میں ہوتے اس نے لشکروں میں سے ایک جماعت کو آپ کی کھیتی کی طرف بھیجا اور ایک جماعت کو آپ کے اہل و عیال کی طرف بھیجا اور ایک جماعت کو آپ کی گائیوں کی طرف بھیجا اور ایک جماعت کو اس کی بکریوں کی طرف بھیجا شیطان نے کہا وہ تم سے نہیں بچ سکتا مگر نیکی کے ساتھ یہ لشکر ان کے پاس مصیبتیں لے کر آئے جو بعض سے بڑھ کر تھے کھیتوں کا نگہبان آیا اور کہا : اے ایوب ! کیا تو نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے دشمن کو تیری کھیتی پر بھیجا ہے اور وہ اس کھیتی کو ختم کرگئے ہیں اونٹوں کا نگہبان آیا اور کہا اے ایوب ! کیا تو نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے تیرے اونٹوں پر دشمن کو بھیج دیا ہے۔ جو ان کو ہلاک کردیں گے پھر گائیوں کا نگہبان آیا اور کہا کیا تو نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا کہ گائیوں پر اس نے دشمن کو بھیج دیا ہے اور پھر وہ ان کو لے گیا۔ آپ اپنے تمام بیٹوں کے ساتھ ان میں سے سب سے بڑے کے گھر میں تھے۔ اسی اثناء میں وہ سب کھانا کھا رہے تھے اور پانی پی رہے تھے (اچانک) ہوا چلی اس نے گھر کی دیواروں اور اس کے حصوں کو اپنی گرفت میں لے کیا شیطان ایوب (علیہ السلام) کے پاس ایک لڑکے کی شکل میں آیا اور کہا اے ایوب ! کیا تو نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا کہ تیرے بیٹوں کو اس نے ان میں سے بڑے کے گھر میں جمع کیا اور درمیان کہ وہ کھاپی رہے تھے کہ ہوا چلی اس نے گھر کی دیواروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اسے ان پر پھینک دیا اگر تو ان کو دیکھے جب کہ ان کے خون اس کے گوشت ان کے کھانے اور ان کے مشروب کے ساتھ خلط ملط ہوئے ایوب (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کیا تو شیطان ہے پھر اس سے فرمایا آج کی دن میں اس دن کی طرح ہوں جس دن مجھے میری والدہ نے جنا تھا۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اپنے سر کو مونڈا اور نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے (یہ دیکھ کر) ابلیس زور زور سے رونے لگا جس کو آسمان اور زمین والوں نے سنا پھر آسمان کی طرف گیا اور کہا : اے میرے رب ! ایوب (علیہ السلام) تو محفوظ رہا (اتنے نقصانات کے باوجود ان پر کوئی اثر نہیں پڑا) مجھے ان پر غلبہ عطا کر کیونکہ میں طاقت نہیں رکھتا تیری طاقت کے بغیر اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تجھ کو اس کے جسم پر غلبہ دے دیا اور میں نے اس کے دل پر غلبہ نہیں دیا۔ شیطان نیچے اتر آیا اور ان کے قدموں کے نیچے پھونک ماردی جس نے آپ کے قدموں سے لے کر سر کے بالوں تک زخمی کردیا پھر وہ ایک ہی پھوڑا ہوگیا آپ کو راکھ پر ڈال دیا گیا یہاں تک کہ انکے دل کا پردہ ظاہر ہوگیا ان کی بیوی ان کے لئے محبت کرتی تھی یہاں تک کہ اس نے کہا اے ایوب ! کیا تو نے نہیں دیکھا اللہ کی قسم مجھے ایسی مشقت اور فاقہ آپہنچا ہے۔ کہ میں نے اپنی مینڈھیا ایک روٹی کے بدلے میں بیچ دیں۔ جو تجھ کو کھلا رہی ہوں اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کو شفا دے اور راحت دے۔ فرمایا : افسوس ہے تجھ پر کیا ہم ستر سال نعمتوں میں نہیں رہے ؟ پس تو صبر کر یہاں تک کہ ہم تکلیف میں بھی ستر سال رہیں ابھی ان کو سات سال تکلیف میں گزرے تھے کہ آپ نے دعا کی جبرائیل (علیہ السلام) ایک دن تشریف لائے ان کا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا کھڑے ہوجائیے آپ کھڑے ہوئے ان کی جگہ سے ان کو دور کردیا۔ اور فرمایا (آیت ) ” ارکض برجلک، ھذا مغتسل باردو شراب “ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت کا ایک جوڑا پہنایا ایوب (علیہ السلام) اس جگہ سے ہٹ گئے اور ایک کونے میں بیٹھ گئے ان کی بیوی آئی اور ان کو نہ پہچانا اور کہا اے اللہ کے بندے وہ مصیبت زدہ آدمی کہاں ہے جو یہاں تھا شاید کتے اور بھیڑئیے اس کو لے گئے اور وہ کچھ دیرباتیں کرتی رہیں تو انہوں نے کہا افسوس ہے تجھ پر میں ایوب ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر میرے جسم کو واپس کردیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر سونے کی ٹڈیوں کی بارش برسائی، حضرت ایوب (علیہ السلام) اپنے ہاتھ سے ان ٹڈیوں کو پکڑتے رہے پھر ان کو اپنے کپڑوں میں ڈال دیتے اور اپنی چادر کو پھیلا تے جاتے اور اس میں ڈالتے جاتے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی اے ایوب ! کیا تو سیر نہیں ہوا عرض کیا اے میرے رب ! کون ہے جو آپ کے فضل اور آپ کی رحمت سے سیر ہوجائے۔ بیوی کو سوکوڑے مارنے کی نذر : 4:۔ احمد فی الزھد وعبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شیطان راستے پر بیٹھ گیا اس نے ایک صندوق لیا اور لوگوں کا علاج کرنے لگا۔ ایوب (علیہ السلام) کی بیوی نے کہا اے اللہ کے بندے ! یہاں ایک مصیبت زدہ آدمی ہے جسے یہ تکلیف ہے کیا تیرے پاس کوئی اس کا علاج ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ! مگر اس شرط کے ساتھ اگر میں اس کو شفادیدوں تو وہ یوں کہے کہ میں نے اس کو شفا دی ہے اس کے علاوہ میں اس سے کسی اجر کا ارادہ نہیں رکھتا۔ بیوی ایوب (علیہ السلام) کے پاس آئی اور ان کو یہ بات ذکر کی کہ تو ایوب (علیہ السلام) نے فرمایا : افسوس ہے تجھ پر وہ تو شیطان ہے اللہ کیلئے مجھ پر لازم ہے اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا عطا فرمائی توس میں تجھ کو سو کوڑے ماروں گا جب اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا عطاء فرمائی تو (اللہ تعالیٰ نے) حکم فرمایا کہ گھاس کا گٹھا لے لو تو آپ نے ایک شاخ لی جب میں سو شاخیں تھیں اور ایک دفعہ اپنی بیوی کو مارا (تو قسم پوری ہوگئی) 5:۔ ابن ابی حاتم (رح) سے روایت ہے کہ جس شیطان نے ایوب (علیہ السلام) کو چھوا تھا اس کو مسوط کہا جاتا تھا یہاں تک کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت آپ کے پاس سے گزری اور اس کے بعض نے بعض سے کہا کہ ان کو جو تکلیف پہنچی ہے وہ کسی بڑے گناہ کی وجہ سے پہنچی ہے اس وقت (یہ دعا) فرمائی (آیت ) ” ربی انی مسنی الضروانت ارحم الرحمین “ (اے میرے رب ! مجھے تکلیف پہنچی ہے اور آپ سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ 6:۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ارکض برجلک ھذا “ (آپ اپنی ایڑی زمین پر مارئیے) اس میں ھذا سے مراوہ پانی ہے (آیت ) ” ھذا مغتسل بارد و شراب “ (تو یہ ٹھنڈا ہوگا غسل کرنے اور پینے کے لئے) فرمایا پھر آپ نے اپنا دایاں پاؤں مارا تو چشمہ پھوٹ پڑا۔ اور اپنا داہنا ہاتھ مارا اپنی پیٹھ پیچھے تو ایک چشمہ پھوٹ پڑا۔ ان میں سے ایک سے پیا اور دوسرے سے غسل کیا۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اپنے پاؤں کو زمین پر مارا جس کو حمامہ کہا جاتا تھا اچانک دو چشمے پھوٹ پڑے۔ ان میں سے ایک سے پانی پیا اور دوسرے سے غسل کیا۔ 8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کے نبی ایوب (علیہ السلام) کہ جب ان پر مصبیت سخت ہوگئی تو دعا فرمائی یا دعا کا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ پاؤں کو زمین پر مارئیے جس سے ایک چشمہ پھوٹ پڑا۔ آپ نے اس سے غسل فرمایا تو ساری تکلیف جاتی رہی پھر آپ نے چالیس قدم پر پاؤں مارا تو ایک چشمہ پھوٹ پڑا تو آپ نے اس میں سے پیا۔ 9:۔ عبد بن حمید نے معاویہ بن قرہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کے نبی ایوب (علیہ السلام) کو اس کے اہل و عیال عطا کریں اور ان کے ساتھ اتنے اور بھی عطا کریں۔ اور اس کا مال اور اس کی حکومت بھی (دوبارہ) اس کو عطا کردیں (مگر) مجھے اس کے جسم پر مسلط کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا چلا جا میں نے تجھ کو اس کے جسم پر مسلط کردیا۔ اور اے خبیث خاص کر اس کے دل سے دور رہنا۔ راوی نے فرمایا کہ شیطان نے اس کے جسم میں پھونک دیا تو ان کا گوشت گرگیا جب ان سے عاجز آگیا تو زور سے چیخا اس کے لشکر اس کی طرف جمع ہوگئے انہوں نے کہا : اے ہمارے سردار ! کس چیز نے آپ کو غصبناک کیا ؟ شیطان نے کہا : میں کیوں غصہ نہ ہوں۔ بلاشبہ میں نے آدم (علیہ السلام) کو جنت سے نکلا جبکہ اس کا یہ کمزور بیٹا مجھ پر غالب آگیا لشکر والوں نے کہا اے ہمارے سردار اس کی بیوی کا کیا حال ہے اس نے کہا وہ تو زندہ ہے کہا ہاں تیرے لئے کافی ہوگا اس کا معاملہ شیطان نے ایوب (علیہ السلام) سے کہا اگر تو اس کو طلاق دے تو یقینی طور تو ٹھیک ہوجائے گا پھر شیطان ان کی بیوی کے پاس آیا اور اس سے استبراء کے لئے کہا بیوی (علیہ السلام) کے پاس آئی اور اس سے کہا اے ایوب ! کب تک اس بیماری میں پڑے رہوگے ایک کلمہ کہہ لو پھر اپنے سے استغفار کرلینا وہ تجھ کو بخش دے گا ایوب (علیہ السلام) نے اپنی بیوی سے فرمایا تو نے یہ کیا کہا ہے پھر اس سے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت دی تو میں تجھ کو سو کوڑے ماروں گا پھر دعا فرمائی اے میرے رب ! شیطان نے رنج اور آزار پہنچایا ہے اس کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور فرمایا اپنا پاؤں زمین پر مارئیے یہ ٹھنڈا پانی سے نہانے اور پینے کے لئے (جب غسل کیا اور پیا) تو ان کی طرف خوبصورتی اور جوانی لوٹ آئی۔ پھر آپ مٹی کے ایک ٹیلہ پر بیٹھ گئے۔ ان کی بیوی کھانا لے کر آئی ان کا کوئی نشان نہ دیکھا ایوب (علیہ السلام) سے پوچھا جو ٹیلے پر بیٹھے تھے۔ اللہ کے بندے کیا تو نے مصیبت زدہ کو دیکھا ہے جو یہاں تھا انہوں نے اس سے کہا اگر تو اس کو دیکھ لے تو ان کو پہچان لے گی۔ اس نے کہا شاید کہ تو ہی وہ ہے ؟ فرمایا : ہاں ! اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ایک مٹھا اپنے ہاتھ میں لیکر اس کو مار لو اور قسم نہ توڑو۔ راوی نے کہا کہ مٹھا یہ ہے کہ چابک کا ایک گٹھا لے لو اور اس کے ساتھ ایک دفعہ مارلو۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی آزمائش : 10:۔ احمد نے الزھد میں عبدالرحمن بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) آزمائش میں ڈالے گئے اپنے مال اپنی اولاد اور اپنے جسم میں اور ایک کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر ان کو پھینک دیا گیا۔ ان کی بیوی ان کے لئے محنت کرکے ان کے لئے کھانا لاتی تھی شیطان نے اس سے حسد کیا وہ اصحاب الخیر اور مالدار لوگوں کے پاس آتا جو اس عورت پر صدقہ کرتے تھے۔ شیطان نے ان لوگوں سے کہا کہ اس عورت کو دور بھگادو جو تمہارے پاس آتی ہے، کیونکہ یہ اپنے شوہر کا علاج کرتی ہے اور اس کو ہاتھ لگاتی ہے تو لوگ اس وجہ سے تمہارے کھانے بچتے ہیں کہ وہ عورت تمہارے پاس آتی ہے۔ اب وہ آپ کی بیوی کو قریب نہ آنے دیتے اور کہتے ہیں ہم سے دور رہے اور ہم تجھ کو کھانا دیدیں گے اور تو ہمارے قریب مت آ بیوی نے ایوب (علیہ السلام) کو اس بات کی خبردی تو انہوں نے اس پر اللہ کی حمد بینا کی، آپ کی بیوی جب آپ کے پاس سے جاتی تو شیطان اس سے ملتا اور یہ ظاہر کرتا کہ ایوب (علیہ السلام) کی مصیبت پر وہ بڑا دکھ میں ہے اور کہتا ” لج صاحبک وابی الا ما ابی اللہ “ (یعنی تیرے خاوند نے جھگڑا کیا اور انکار کیا مگر اللہ نے انکار نہیں کیا) (شیطان نے کہا) اگر وہ ایک بات کہہ دیتا تو ہر بیماری ان سے ختم ہوجاتی اور ان کی طرف ان کا مال اور ان کی اولادلوٹ آتے بیوی آتی اور ایوب (علیہ السلام) کو (وہ بات) بتاتی ایوب (علیہ السلام) نے بیوی سے فرمایا تجھ کو اللہ کا دشمن ملا ہے اور اس نے تجھ کو یہ بات تلقین کی ہے اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی بیماری سے شفا دی تو میں تجھ کو سو کوڑے ماروں گا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث “ میں ” ضعث “ سے مراد ہے کھجوروں کی شاخوں کا گٹھا۔ 11:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا “ میں ” الضعث “ سے مراد ہے ایک مٹھا پاکیزہ گھاس میں سے۔ 12:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا “ سے مراد گٹھا۔ 13:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ” ضغثا “ سے مراد ایسا گٹھا ہے جس میں ننانوے لکڑیاں ہوتی ہیں اور اصل میں پورا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے ان کی بیوی کو شیطان نے کہا کہ اپنے شوہر کو اس طرح اور اس طرح سے کہہ لے (یہ سن کر) ایوب (علیہ السلام) نے اس کو سوکوڑے مارنے کی قسم کھائی تو آپ نے اسے یہ گٹھا مارا تو اس میں انہوں نے اپنی قسم کو پورا کردیا اور اپنی بیوی سے بھی (سزا کو) ہلکا کردیا۔ 14:۔ ابن المنذر (رح) نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ ایوب (علیہ السلام) نے اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنے کی قسم کھائی وجہ یہ تھی کہ وہ جو روٹی لاتی تھی وہ اس سے زیادہ ہوتی جو وہ کام کرتی آپ کو اس بات کا خوف ہوا کہ اس سے خیانت سے واقع ہوئی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رحم فرمایا اور ان سے تکلیف کو ہٹا دیا تو اس تہمت سے بیوی کے بری ہونے کا علم ہوا، جو آپ نے اس پر لگائی تھی اللہ عزوجل نے فرمایا (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث “ انہوں نے تمام (جنگل کی لکڑی) کا گٹھا لیا جس میں سولکڑیاں تھیں۔ سو اس کے ساتھ اس کو مارا جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا تھا۔ 15:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر ابن ابی نجیع کے طریق سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ رعایت خاص طور پر ایوب (علیہ السلام) کے لئے تھی اور عطا نے فرمایا کہ یہ حکم تمام لوگوں کے لئے عام ہے۔ 16:۔ عبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا “ سے مراد ہے درختوں کی ایک جماعت اور یہ (حکم) ایوب (علیہ السلام) کیلئے خاص تھا۔ اور ہمارے لئے عام تھا۔ 17:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا “ سے مراد ہے کہ ان کو حکم فرمایا کہ گٹھا لے لو جس میں درخت کی لکڑی کے سوا اجزاء ہوں پھر وہ اپنی بیوی کو ماریں جو تم نے اس پر قسم کھائی تھی اور فرمایا کہ یہ اجازت ایوب (علیہ السلام) کے بعد یہ کسی کے لئے جائز نہیں سوائے انبیاء (علیہم السلام) کے۔ 18:۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف (رح) سے روایت کیا کہ بنوسعدہ میں ایک لونڈی زنا سے حاملہ ہوگئی اس سے پوچھا گیا یہ حمل کس آدمی سے ہے ؟ اس نے کہا : فلاں اپاہج سے، اپاہج سے پوچھا گیا تو اس نے کہا : اس عورت نے سچ کہا۔ یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کی طرف لے جایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا : اس کے لئے کھجوروں کا گچھا لے لو جس میں سو شاخیں ہوں پھر اس کے ساتھ اس کو ایک ضرب لگادو تو صحابہ نے ایسا ہی کیا۔ 19:۔ احمد وعبد بن حمید (رح) و طبرانی (رح) وابن عساکر ابوامامہ بن سہل بن حنیف کے طریق سے سعد بن عبادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے گھروں میں ایک ضعیف آدمی تھا جس کے اعضاء کٹے ہوئے تھے گھروالوں کو اس سے کسی بات کا خوف نہ تھا مگر وہ گھر کی ایک باندی سے کھیلتا رہتا۔ (اور اس سے جماع کرلیا) اور وہ مسلمان تھا سعد ؓ نے اس معاملہ کو رسول اللہ ﷺ کے ہاں پیش کردیا۔ آپ نے فرمایا اس پر حد جاری کرو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ اس سے بہت زیادہ کمزور ہے اگر ہم نے اس کو سو کوڑے لگائے تو (گویا) ہم اس کو قتل کردیں گے (پھر) آپ نے فرمایا اس کے لئے کچھ لگا ایک گچھا لے لو جس میں سو شاخیں ہوں اس کو ایک دفعہ ماردو اور اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ 20:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے محمد بن عبدالرحمن سے روایت کیا اور انہوں نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک آدمی نے ایک فاحشہ عورت سے بدکاری کی جبکہ وہ مریض تھا اور مرنے کے قریب تھا اس کے گھر والوں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کے عمل کے بارے میں بتایا تو آپ نے کھجور کے ایک گچھے کا حکم فرمایا جس میں سو شاخیں ہوں پھر اس کو ایک مارنے کا حکم فرمایا۔ 21:۔ طبرانی (رح) نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک بوڑھے آدمی کو لایا گیا کہ اس کی رگیں ظاہر ہوچکی تھیں اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا تو اس کو کھجور کے ایک گچھے کے ساتھ ایک دفعہ مارا گیا جس میں سوشاخیں تھیں۔ اما قولہ تعالیٰ : انا وجدنہ صابرا نعم العبد : 22:۔ ابن عساکر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) قیامت کے دن صبر کرنے والوں کے سردار ہوں گے۔ 23:۔ ابن عساکر (رح) نے سعید بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) کو آواز دی گئی اے ایوب اگر تو نے ہر بال کی جگہ سے صبر کو نہ انڈیلا پھر تو نے صبر نہ کیا۔ صبر پر فخر کرنا بھی جائز نہیں ! 24:۔ ابن عساکر (رح) نے لیث بن ابی سلیمان ؓ سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ اپنے صبر پر فخر نہ کیجئے اگر میں ہر بال کی جگہ تجھ کو صبر عطا نہ کرتا تو تو صبر نہ کرتا۔ 25:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) کی بیوی نے کہا اے ایوب ! تو ایسا آدمی ہے جس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کو شفا دے فرمایا افسوس ہے تجھ پر ہم ستر سال تک نعمتوں میں رہے تو ہم کو رہنے دے تاکہ ہم اس مصیبت میں سات سال تک رہیں۔ 26:۔ ابن عساکر (رح) نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) کی بیوی رحمت ؓ جو بیٹی تھی میشا کی، جو بیٹے تھے یوسف (علیہ السلام) کے، جو بیٹے تھے یعقوب (علیہ السلام) کے، جو بیٹے تھے اسحاق کے، جو بیٹے تھے ابراہیم (علیہ السلام) کے۔ 27:۔ ابن ابی شیبہ اور احمد نے الزھد میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) کو جب بھی کوئی مصیبت پہنچی تو یہ دعا فرماتے۔ اللہم انت اخذت وانت اعطیت مھما تبقی نفسک احمدک علی حسن بلائک : ترجمہ : اے اللہ ! تو نے ہی پکڑا اور تو نے ہی عطا فرمایا جب تک تیری ذات باقی رہے گی میں تیری حمد بیان کرتا رہوں گا تیرے حسن بلاء پر۔
Top