Dure-Mansoor - Saad : 75
قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يٰٓاِبْلِيْسُ : اے ابلیس مَا مَنَعَكَ : کس نے منع کیا تجھے اَنْ تَسْجُدَ : کہ تو سجدہ کرے لِمَا : اس کو جسے خَلَقْتُ : میں نے پیدا کیا بِيَدَيَّ ۭ : اپنے ہاتھوں سے اَسْتَكْبَرْتَ : کیا تو نے تکبر کیا اَمْ كُنْتَ : یا تو ہے مِنَ : سے الْعَالِيْنَ : بلند درجہ والے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابلیس تجھے اس بات سے کس چیز نے روکا تو اسے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا، کیا تو نے تکبر کیا یا یہ کہ تو بڑے درجے والوں میں سے ہے
1:۔ ابن ابی الدنیا (رح) نے صفۃ الجنۃ میں اور ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں عبداللہ بن حارث ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا : آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا۔ تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور جنت الفردوس کے پودے اپنے ہاتھ سے لگائے۔ پھر فرمایا میری عزت کی قسم ! ہمیشہ شراب پینے والا دیوث اس میں نہیں ٹھہرے گا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم نے ہمیشہ شراب پینے والے کو پہچان لیا (مگر) دیوث کیا ہے فرمایا جو شخص اپنے اہل و عیال کو بدکاری کا مشورہ دے۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے اور ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں اور بیہقی (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا عرش کو، جنات عدن کو، قلم کو اور آدم کو۔ پھر ہر ایک چیز کے لئے فرمایا ہوجا پس وہ ہوگئی پھر اپنی مخلوقات سے چار چیزوں کے ساتھ حجاب فرمایا : آگ، اندھیرا اور نور کے ساتھ (چوتھی چیز کو بھول گئے) 3:۔ ہناد نے میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا جنت عدن کے پودے اپنے ہاتھ مبارک سے لگائے اور قلم کو اپنے ہاتھ سے بنایا۔ 4:۔ ہناد نے ابراہیم (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ مبارک سے کسی چیز کو پیدا نہیں فرمایا مگر تین چیزوں کو، آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، اور تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا، جنت عدن کو اپنے ہاتھ سے لگایا۔ 6:۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ الرجیم سے مراد اللعین (لعنت کیا ہوا) (آیت ) ” الا عبادک منھم المخلصین “ نصب کے ساتھ ہے میں نے کہا قرآن مجید میں یہ لفظ جہاں بھی ہے ہم اس کو اسی طرح پڑھیں فرمایا ہاں !
Top