Dure-Mansoor - Saad : 86
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ : فرما دیں مَآ : نہیں اَسْئَلُكُمْ : میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ : اس پر مِنْ اَجْرٍ : کوئی اجر وَّمَآ اَنَا : اور نہیں میں مِنَ : سے الْمُتَكَلِّفِيْنَ : بناوٹ کرنے والے
آپ فرما دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا اے محمد ! فرما دیجئے (آیت ) ” ما اسئلکم “ (یعنی میں تم میں سے کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا) اس چیز پر کہ جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں یعنی اس پر میں تم سے کوئی دنیا کا اجر نہیں مانگتا۔ 2:۔ بخاری (رح) ومسلم و ترمذی (رح) و نسائی (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ایک آدمی مسجد میں بیٹھ کر باتیں کر رہا تھا اور اس (آیت ) ” یوم تاتی السمآء بدخان “ (الدخان آیت 10) (کہ جس دن آسمان دھوئیں کے ساتھ آئے گا) کے بارے میں بات کررہا تھا اور یہ قیامت کا دن ہوگا اور دھوئیں کی وجہ سے منافقین کی آنکھیں اور ان کے کان گرفت میں لے لئے جائیں گے اور مؤمنین کو زکام کی طرح کیفیت طاری ہوگی۔ راوی نے کہا ہم کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ہم عبداللہ کے پاس آئے اور وہ اپنے گھر میں تھے ہم نے ان کو اس بات کی خبردی وہ تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا اے لوگو ! جو کوئی تم میں سے علم رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ وہ کہے اور جو شخص نہیں جانتا اس کو چاہئے کہ اللہ اعلم کہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فرمایا (آیت ) ” قل ما اسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین (آپ فرما دیجئے کہ میں اس کا نہ کوئی معاوضہ چاہتا ہوں نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔ 3:۔ دیلمی (رح) وابن عساکر (رح) نے زیبر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تکلف نہیں کرتا اور میری امت کی اصلاح کرو۔ 4:۔ احمد ابن عدی و طبرانی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں شقیق (رح) سے روایت کیا کہ میں اور میرا ساتھی سلمان ؓ کے پاس آئے انہوں نے ہمارے سامنے روٹی اور نمک کو پیش کیا، راوی نے کہا اگر رسول اللہ ﷺ نے ہم کو منع نہ کیا ہوتا تکلف سے تو میں تمہارے تکلف کرتا ہے۔ میرے ساتھی نے کہا اگر ہمارے نمک میں پہاڑی پودینہ ہوتا تو انہوں نے اپنا لوٹا بھیجا اسے بطور رہن کے رہن کے رکھا اور پہاڑی پودینہ لے آئے جب ہم نے کھایا تو میرے ساتھی نے کہا سب تعریفیں اس ذات کیلئے ہیں جس میں ہم کو قناعت دی جو اس نے ہم کو رزق عطا فرمایا پھر سلیمان ؓ نے فرمایا اگر تو قناعت کرتا تو میرا لوٹا رہن میں نہ ہوتا سبزی فروش کے پاس۔ 5:۔ طبرانی (رح) وحاکم (رح) و بیہقی (رح) نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہم مہمان کے لئے تکلف کریں۔ 6:۔ بیہقی (رح) نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم تکلف نہ کریں کسی مہمان کے لئے اس چیز کا جو ہمارے پاس نہ ہو اور ہم وہی چیز پیش کریں جو ہمارے پاس موجود ہو۔ 7:۔ ابن عدی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو جنت والوں کے بارے میں نہ بتاؤں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیوں نہیں آپ نے فرمایا آپس میں رحم کرنے والے۔ پھر کہا کیا میں تم کو دوزخ والوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ عرض کیا کیوں نہیں ! فرمایا : وہ ناامید ہونے والے اللہ کی رحمت سے اور جھوٹ بولنے والے اور تکلف کرنے والے۔ 8:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن المنذر (رح) سے روایت کیا کہ تکلف کی نشانیاں تین ہیں تکلف کرنا اس بات میں جو وہ نہیں جانتا اور مقابلہ کرنا اپنے سے اونچے (علم والے) سے اور اس چیز کو لینے کے لئے جھگڑا کرنا جس تک نہیں پہنچ سکتا۔ 9:۔ ابن سعید نے ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ جس نے کسی علم کو جانا اس کو چاہئے کہ اس کو سکھائے اور ہرگز وہ بات نہ کہے کہ جس کا اس کو علم نہیں اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ تکلف کرنے والوں میں سے ہوجائے گا اور وہ نکل جائے گا دین سے۔
Top