تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 59. Al-Hashr · Ayah 8
لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ﴿8﴾
- لِلْفُقَرَآءِمحتاجوں کیلئے
- الْمُهٰجِرِيْنَمہاجر (جمع)
- الَّذِيْنَوہ جو
- اُخْرِجُوْانکالے گئے
- مِنْ دِيَارِهِمْاپنے گھروں سے
- وَاَمْوَالِهِمْاور اپنے مالوں
- يَبْتَغُوْنَوہ چاہتے ہیں
- فَضْلًافضل
- مِّنَ اللّٰهِاللہ کا، سے
- وَرِضْوَانًااور رضا
- وَّيَنْصُرُوْنَاور وہ مدد کرتے ہیں
- اللّٰهَاللہ کی
- وَرَسُوْلَهٗ ۭاور اس کے رسول
- اُولٰٓئِكَیہی لوگ
- هُمُوہ
- الصّٰدِقُوْنَسچے
Translation · Dure-Mansoor
ان فقراء کے یے جنہوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دئیے گئے ہیں جو اللہ کا فضل طلب کرتے ہیں اور اللہ کی خوشنودی طلب کرتے ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نصرت کرتے ہیں یہی لوگ سچے ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت للفقراء المہجرین الذین اخرجوا۔ ان فقراء مہاجرین کے یے جن کو وطن سے نکالا گیا۔ سے مراد وہ مہاجرین ہیں جنہوں نے گھروں کو، مالوں، اہل و عیال کو اور اپنے خاندانوں کو چھوڑا۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور سختی کے باوجود انہوں نے اسلام کو اختیار کیا۔ یہاں تک کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ کوئی آدمی اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا۔ تاکہ وہ اس کے ذریعہ بھوک کی وجہ سے اپنی پیٹھ کو سیدھا رکھ سکے۔ اور کوئی آدمی سردی کے موسم میں ایک گڑھا بنالیتا تھا کیو کہ اس کے پاس اس کے سوا کوئی لحاف وغیرہ نہ ہوتا تھا آیت والذین تبوؤ الدار والایمان۔