تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 60. Al-Mumtahana · Ayah 10

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿10﴾

    1. يٰٓاَيُّهَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓاایمان والو
    3. اِذَاجب
    4. جَآءَكُمُتمہارے پاس آئیں
    5. الْمُؤْمِنٰتُمومن عورتیں
    6. مُهٰجِرٰتٍمہاجر عورتیں
    7. فَامْتَحِنُوْهُنَّ ۭتو انکا امتحان کرلیا کرو
    8. اَللّٰهُ اَعْلَمُاللہ خوب جانتا ہے
    9. بِاِيْمَانِهِنَّ ۚان کے ایمان کو
    10. فَاِنْپس اگر
    11. عَلِمْتُمُوْهُنَّتم انہیں جان لو
    12. مُؤْمِنٰتٍمومن عورتیں
    13. فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّتو تم انہیں واپس نہ کرو
    14. اِلَى الْكُفَّارِ ۭکافروں کی طرف
    15. لَا هُنَّوہ عورتیں نہیں
    16. حِلٌّ لَّهُمْحلال ان کیلئے
    17. وَلَا هُمْاور نہ وہ مرد
    18. يَحِلُّوْنَوہ حلال ہیں
    19. لَهُنَّ ۭان عورتوں کیلئے
    20. وَاٰتُوْهُمْاور تم ان کو دیدو
    21. مَّآجو
    22. اَنْفَقُوْا ۭانہوں نے خرچ کیا
    23. وَلَا جُنَاحَاور کوئی گناہ نہیں
    24. عَلَيْكُمْتم پر
    25. اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّکہ تم ان عورتوں سے نکاح کرلو
    26. اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّجب تم انہیں دیدو
    27. اُجُوْرَهُنَّ ۭان کے مہر
    28. وَلَا تُمْسِكُوْااور تم نہ قبضہ رکھو
    29. بِعِصَمِناموس
    30. الْكَوَافِرِکافر عورتیں
    31. وَاسْئَلُوْااور تم مانگ لو
    32. مَآ اَنْفَقْتُمْجو تم نے خرچ کیا
    33. وَلْيَسْئَلُوْااور چاہیے کہ وہ مانگ لیں
    34. مَآجو
    35. اَنْفَقُوْا ۭانہوں نے خرچ کیا
    36. ذٰلِكُمْیہ
    37. حُكْمُ اللّٰهِ ۭاللہ کا حکم
    38. يَحْكُمُوہ فیصلہ کرتا ہے
    39. بَيْنَكُمْ ۭتمہارے درمیان
    40. وَاللّٰهُ عَلِيْمٌاور اللہ جاننے والا
    41. حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Dure-Mansoor
اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ان کے ایمان کو پھر اگر تم ان کو مومن جانو تو تم ان کو کافروں کی طرف واپس مت لوٹاؤ نہ یہ مومن عورتیں ان کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ ان کے لیے حلال ہیں اور تم ان کو دو وہ جو انہوں نے خرچ کیا ہے اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم ان سے نکاح کرو جب ان کو ان کا مہردیدو اور تم کافر عورتوں کے بندھنوں کو پکڑ کر مت روکے رکھو اور تم سوال کرلو وہ جو تم نے خرچ کیا ہے اور انہیں بھی چاہیے کہ وہ سوال کرلیں جو انہوں نے خرچ کیا یہ اللہ کا حکم ہے اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ علم والا حکمت والا ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ بخاری نے مسور بن مخرمہ اور مروان بن الحکم رحمہما اللہ دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے دن جب کفار قریش سے معاہدہ کیا تو مومن عورتیں آئیں (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المومنت مہاجرات۔ اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آجائیں۔ حتی کہ یہاں تک پہنچے آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر اور تم کافر عورتوں کے تعلقات ازدواجی کو باقی مت رکھو۔ تو حضرت عمر ؓ نے اس دن اپنی دونوں عورتوں کو طلاق دیدی جو مشرکہ تھیں۔ صلح حدیبیہ 2۔ بخاری وابو داوٗد ناسخہ اور بیہقی نے السنن میں مروان بن الحکم اور مسور بن مخرمہ رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ جب حدیبیہ کے دن سہیل بن عمرو نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک مدت کے فیصلے کو لکھا۔ تو سہیل کی طرف سے یہ شرط تھی کہ ہم میں سے کوئی اگر آپ کے پاس آئے گا اگرچہ وہ آپ کے دین پر ہوگا مگر یہ کہ آپ اس کو ہماری طرف لوٹا دیں گے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ابوجندل بن سہیل ؓ کو لوٹادیا۔ اور رسول اللہ ﷺ کے پاس مردوں میں سے کوئی آتا تھا تو اس مدت میں آپ اس کو لوٹادیتے تھے اگرچہ وہ مسلمان ہوتا تھا۔ پھر مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں اور وہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط تھی ان عورتوں میں جو رسول اللہ ﷺ کی طرف نکلیں ان کے گھر والے آئے اور رسول اللہ ﷺ سے ان کے لوٹانے کا سوال کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کے بارے میں حکم نازل فرمادیا کہ ان کو واپس نہ کیا جائے۔ 3۔ طبرانی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ عبداللہ بن ابی احمد ؓ سے روایت کیا کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط نے مصالحت کے دور میں ہجرت کی ان کے بھائی عمارہ اور ولید رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ام کلثوم کے بارے میں بات کی کہ آپ اسے ان کے ساتھ واپس لوٹادیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے بارے میں خاص طور پر وہ عہد توڑ دیا جو مشرکین اور ان کے درمیان تھا۔ اور ان کو مشرکین کی طرف واپس لوٹانے سے منع فرمادیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آیۃ الامتحان نازل فرمائی۔ 4۔ ابن درید نے امالیہ میں حدثنا ابو الفضل الریاشی نے ابن ابی رجا سے روایت کیا اور انہوں نے واقدی (رح) سے روایت کیا کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ؓ ان آیات کے ساتھ فخر کرتی تھیں جو اس بارے میں نازل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں پہلی عورت تھی جس نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ جب میرا بھائی ولید میرے پاس آیا تو اللہ تعالیٰ نے اس معاہدہ کو منسوخ کردیا جو نبی ﷺ اور مشرکین کے درمیان تھا۔ اور یہ آیت نازل ہوئی آیت فلاترجعوہن الی الکفار۔ کہ ان کو کافروں کی طرف نہ لوٹاؤ۔ پھر نبی ﷺ نے میر انکاح زید بن حارثہ ؓ سے کردیا میں نے عرض کیا۔ کیا میرا نکاح اپنے غلام سے کر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت وما کان لمومن ولامومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم۔ اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو لائق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دے تو انہیں اپنے کام میں اختیار باقی رہے۔ پھر زید شہید کردئیے گئے تو حضرت زبیر ؓ نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اپنے آپ کو روکے رکھو میں نے کہا ہاں ٹھیک ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت ولا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النساء (البقرہ آیت 235) اور تم پر اس میں گناہ نہیں ہے کہ ان عورتوں کو اشارہ سے پیغام نکاح دو ۔ مومنات مہاجرات کو واپس کرنے کی شرط 5۔ ابن سعد نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مشرکین نے حدیبیہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ شرط لگائی تھی کہ اگر ہماری طرف سے کوئی آدمی آئے گا اگرچہ وہ آپ کے دین پر ہو تو اس کو آپ ہماری طرف لوٹادیں گے اور جو آپ کی طرف سے ہمارے پاس آئے گا ہم اس کو آپ کی طرف نہیں لوٹائیں گے۔ پس اس معاہدے کے تحت آپ ﷺ ہر اس آدمی کو واپس لوٹاتے رہے جو بھی ان کی جانب سے دین اسلام میں داخل ہو کر آپ ﷺ کی طرف آیا۔ لیکن جب ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ؓ ہجرت کر کے آئیں تو اس کے دو بھائی اس ارادہ س آئے کہ وہ اسے نکال لائیں اور قریش کی طرف واپس کردیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المومنت مہاجرت سے لے کر آیت ولیسئلوا ما انفقوا تک فرمایا اس سے مراد مہر ہے یعنی کفار نے جر مہر ان کو دیا وہ مانگ لیں۔ آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الایۃ اور اگر تمہاری بیبیوں میں سے کوئی کافروں کے پاس چلی جائے اور تمہارے بالکل ہاتھ نہ آئے یعنی وہ عورت جو مسلمان ہوجائے تو مسلمان اس کا مہر کفار کی طرف لوٹادیں اور مسلمانوں نے اپنے پاس کفار کی عورتوں سے جن کو طلاق دی تو ان پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے مہر مسلمانوں کو لوٹا دیں۔ اور اگر وہ ان مسلمانوں کے مہر میں سے کچھ روک لیں جو کفار کی عورتوں سے علیحدہ ہوئے۔ تو پھر مسلمان بھی ان مسلمان عورتوں کا مہر روک لیں جو ان کی جانب سے آئیں۔ 6۔ ابن اسحاق وابن سعد وابن المنذر نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے دن اس شرط پر صلح کی کہ جو آدمی قریش کی جانب سے آئے گا تو اس کو قریش پر لوٹا دیں گے جب عورتوں نے ہجرت کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مشرکین کی طرف لوٹانے سے انکار کردیا۔ کہ وہ مشرکین کی طرف واپس لوٹ کر نہ جائیں جبکہ وہ اسلام کی آزمائش کے ساتھ آزمائی گئیں۔ اور مسلمانوں نے جان لیا کہ وہ اسلام میں رغبت اور شوق کے ساتھ آئی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کا مہر ان کی طرف لوٹانے کا حکم دیا۔ جب وہ ان کی طرف سے روک دی گئیں اور وہ بھی مسلمانوں پر ان عورتوں کے مہر لوٹائیں گے جن کو اپنی عورتوں سے روک دیا گیا پھر فرمایا آیت ذلکم حکم اللہ، یحکم بینکم۔ پس رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو روک لیا اور مردوں کو واپس لوٹادیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ حکم نہ ہوتا تو آپ ﷺ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی واپس لوٹادیتے اور اگر معاہدہ نہ ہوتا تو آپ عورتوں کو روک لیتے اور ان کے مہر نہ لوٹاتے۔ 7۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا جاء کم المومنت مہاجرت فامتحنوہن۔ اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کی جانچ کرلیا کرو۔ یعنی ان سے پوچھ لو کہ وہ کس لیے آئی ہیں اگر وہ اپنے شوہروں پر غیظ وغضب یا کسی غیرت یا کسی ناراضگی کی وجہ سے آئی ہیں اور ایمان نہیں لائی تو ان کو ان کے شوہروں کی طرف لوٹادو۔ اور اگر وہ اللہ پر ایمان لانے والی ہیں تو ان کو روک لو اور ان کے مہران کافروں کو دے دو ۔ اور ان سے نکاح کرلو اگر تم چاہو اور انہیں مہر ادا کردو۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر کے بارے میں فرمایا کہ نبی ﷺ کے صحابہ کو حکم کیا گیا اپنی عورتوں کو طلاق دینے کا جو مکہ مکرمہ میں کافروں کے ساتھ بیٹھ گئیں۔ پھر فرمایا آیت واسئلو ما انفقتم ولیسئلوا ما انفقو۔ اور ان سے مانگ لو جو تم نے خرچ کیا ہے اور وہ مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا۔ یعنی جو محمد ﷺ کے اصحاب میں سے ازواج یعنی خاوند کفار کی طرف نہیں گئے تو کافروں کو چاہیے کہ ان کے مہران کو ادا کریں وہ ان عورتوں کو روکے رکھیں اور کفار میں سے ازواج یعنی خاوند محمد ﷺ کے اصحاب کی طرف نہیں گئے تو محمد ﷺ کے اصحاب کو بھی اسی طرح کرنا چاہیے اور یہ بھی صلح کی شرط تھی قریش اور محمد ﷺ کے درمیان پھر فرمایا آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار۔ اور تمہاری بیویوں میں سے کوئی کافروں کے پاس چلی جائے۔ یعنی ان لوگوں کے پاس کہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ فعاقبتم پھر جب تمہاری نوبت آئے تو جو تم غنیمت کا مال پاؤ قریش سے یا ان کے علاوہ کسی اور سے آیت فاٰتوا الذین ذہبت ازواجہم مثل ماانفقوا۔ تو جن کی بیویاں ہاتھ سے نکل گئیں جتنا مہر انہوں نے خرچ کیا تھا اس کے برابر تم ان کو دے دو ۔ یعنی ان کے مہر کے بدلہ میں۔ مہاجر عورتوں سے امتحان لینا 8۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت ہجرت کر کے مدینہ منورہ کی طرف نکلی اس سے پوچھا گیا کیا تجھے اپنے شہر کے بغض نے مکہ مکرمہ سے نکالا یا تو نے اللہ اور اس کے رسول کا ارادہ کیا۔ اس نے کہا بلکہ میں نے اللہ اور اس کے رسول کا ارادہ کیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت فان علمتموہن مومنت فلا ترجعوہن الی الکفار سو اگر تم ان کو مسلمان جانو تو پھر کافروں کی طرف واپس مت کرو۔ اور اگر مسلمانوں میں سے کوئی مرد اس کے ساتھ نکاح کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کے پہلے خاوند کی طرف وہ مہر لوٹادے جو اس نے اس پر خرچ کیا تھا۔ 9۔ عبد بن حمید وابوداوٗد فی ناسخہ وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المومنت مہاجرات کے بارے میں روایت کیا کہ یہ فیصلہ ایسا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے ہدایت یافتہ اور گمراہی والوں کے درمیان فرمایا پھر فرمایا آیت فامتحنوہن یعنی ان کا امتحان کرلو۔ ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ وہ خاوندوں کی نافرمانی کی وجہ سے نہیں نکلیں۔ اور وہ صرف اسلام کی محبت میں اور اس پر حرص کرتے ہوئے نکلی ہیں۔ اگر وہ قسم اٹھائیں تو ان سے قبول کرلو۔ اور فرمایا آیت وسئلوا ما انفقتم ولیسئلوا مانفقوا۔ اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو۔ تو کافروں سے اس کا مطالبہ کرلو اور جو کچھ مہاجر عورتوں پر کافروں نے خرچ کیا تھا وہ مسلمانوں سے مانگ لیں۔ یعنی جب نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے ان کافروں کی طرف بھاگ جائیں کہ جن کا نبی اکرم ﷺ سے عہد تھا۔ اور وہ وہاں شادی کرلیں۔ تو کافر ان کے مہر ان کے پہلے مسلمان خاوندوں کی طرف بھیج دیں اور جب مشرکین کی عورتیں ان مسلمانوں کی طرف بھاگ آئیں کہ ان کے اور نبی ﷺ کے درمیان عہد تھا۔ اور وہ مسلمانوں سے نکاح کرلیں تو مسلمان ان کے مہران کے پہلے مشرک خاوندوں کی طرف بھیج دیں۔ اور یہ فیصلہ تھا۔ نبی ﷺ کے اصحاب اور کفار میں سے ان لوگوں کے درمیان جن سے عہد تھا۔ اور فرمایا آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی کافروں کے پاس چلی جائے اور بالکل تمہارے ہاتھ نہ آئے پھر تمہاری باری آئے یعنی اگر تمہاری بیبیوں میں سے کوئی عورت قریش کے ایسے کافروں کی طرف چلی جائے کہ ان کے اور نبی ﷺ کے اصحاب کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ اس کو پکڑ سکتے ہیں اور اس کا مہر بھی نہیں لوٹایا۔ آیت فعاقبتم پھر جب تمہاری باری آئے تو تم بھی ان کو کچھ نہ دو ۔ اور یہ غنیمت ہے جب وہ اس کے بعد اس غنیمت یعنی عورت کو پالیں۔ پھر یہ فیصلہ اور عہد سورة براءت میں منسوخ کردیا گیا کہ ہر معاہدہ کرنے والے کی طرف اس کے عہد کو پھینک دیا گیا۔ 10۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المومنت مہاجرات فامتحنوہن۔ سے لے آیت واللہ علیم حکیم تک کے بارے میں روایت کیا کہ ان کا امتحان یہ تھا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ جب یہ یقین کرلیں کہ ان عورتوں کی طرف سے یہ اقرار سچا ہے تو پھر ان کو کافروں کی طرف نہ لوٹاؤ۔ اور رسول اللہ ﷺ سے جن کافروں نے معاہدہ کیا ہوا ہے ان میں سے ان کے خاوند کو وہ مہر ادا کردے جو اس نے اس عورت کو دیا تھا اور ان کو ایمان والوں کے لیے حلال قرار دیا جب وہ انہیں ان کے مہر ادا کردیں اور تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے حلال قرادیا جب وہ انہیں ان کے مہر ادا کردیں اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اس سے منع کردیا کہ وہ مہاجر عورتوں کو اپنی ان عورتوں کی وجہ سے پکاریں جو کافروں میں ہیں۔ اور عورتوں کا امتحان یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر بن خطاب ؓ سے فرمایا کہ وہ ان عورتوں سے کہیں کہ رسول اللہ ﷺ تم کو اس شرط پر بیعت لیں گے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ اور ہند بنت عتبہ بن ربیعہ جس نے حمزہ ؓ کا پیٹ چاک کیا تھا۔ وہ بھی عورتوں میں بھیس بدل کر موجود تھی۔ کہنے لگی اگر میں بات کروں گی تو مجھے پہچان لیا جائے گا اور اگر مجھے پہچان لیا گیا تو مجھے قتل کردیا جائے گا۔ اور اس نے اپنا بھیس بدل لیا رسول اللہ ﷺ سے خوف کرتے ہوئے وہ عورتیں خاموش ہوگئیں جو ہند کے ساتھ تھیں اور انہوں نے بات کرنے سے انکار کردیا۔ ہند نے کہا اور اس نے بھیس بدلا ہوا تھا کہ عورتوں سے وہ چیز کیسے قبول کرلیں گے جبکہ مردوں سے قبول نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ وہ چوری نہیں کریں گی۔ تو ہند نے کہا اللہ کی قسم ! کہ میں ابو سفیان کے مال سے حاجت کے مطابق لے لیتی ہوں، میں نہیں جانتی کہ کیا یہ اسے حلال قرار دے گا یا نہیں ؟ ابو سفیان نے کہا میری جو چیز بھی ہے چاہے وہ ختم ہوچکی ہے یا باقی ہے وہ تیرے لیے حلال ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور اس کو پہچان لیا۔ پھر اس کو بلایا وہ آگئی اور اس نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ پناہ لینے لگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو ہند ہے کہنے لگی اللہ تعالیٰ معاف فرمائے جو کچھ ہوچکا پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیرلیا۔ اور فرمایا آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم الایۃ۔ یعنی اگر مہاجرین میں سے کوئی عورت کافروں سے مل جائے تو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ غنیمت میں سے ان کو اتنا دیا جائے جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا۔ سورة ممتحنہ کا شان نزول 11۔ ابن مردویہ نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا ہم کو یہ بات پہنچی کہ سورة ممتحنہ اس مدت کے بارے میں نازل ہوئی جو رسول اللہ ﷺ نے کفار قریش کے لیے مقرر فرمائی تھی اس عہد کی وجہ سے جو رسول اللہ ﷺ اور کفار قریش کے درمیان مدت کے بارے میں قائم ہوا تھا۔ اور آپ ﷺ کفار قریش پر وہ مال لوٹادیتے تھے جو انہوں نے ان عورتوں پر خرچ کیا ہوتا۔ جو مسلمان ہوگئیں اور انہوں نے ہجرت کرلی اور ان کے شوہر کافر تھے۔ اگر انہوں نے جنگ کی تو رسول اللہ ﷺ اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ کی ضرورت نہیں اور ان کی طرف ایسی کوئی چیز لوٹائی جائے گی جو انہوں نے خرچ کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے بھی کفار اہل مدت کے خلاف اس طرح کا فیصلہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ولاتمسکوا بعصم الکوافر واسئلوا ما انفقتم ولیسئلوا ما انفقوا، ذالکم حکم اللہ، یحکم بینکم، واللہ علیم حکیم۔ تم کافر عورتوں کے تعلقات کو باقی مت رکھو اور اپنی بیویوں پر جو کچھ خرچ کیا ہو تو ان کافروں سے اس کا مطالبہ کرلو اور جو کچھ مہاجر عورتوں پر کافروں نے خرچ کیا ہو وہ مسلمانوں سے مانگ لیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ علیم اور حکیم ہے۔ حضرت عمر ؓ نے اپنی بیوی بنت ابی امیہ بن المغیرۃ کو طلاق دے دی تو اس سے معاویہ بن ابی سفیان نے نکاح کرلیا اور جرول خزاعی کی بیٹی کی شادی رسول اللہ ﷺ نے ابوجہم بن حذیفہ العدوی ؓ سے نکاح کردیا۔ اور اسے حکم بنادیا اسی کے مطابق ایمان والوں نے اور مشرکین کے درمیان اس عہد کی مدت کے دوران فیصلہ کیا جو ان کے درمیان قائم تھا اور ایمان والوں نے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو تسلیم کیا اور مشرکین کے وہی اخراجات میں سے جو انہوں نے اپنی عورتوں پر کیے تھے اللہ کے حکم کی تعمیل میں انہوں نے وہ ادا کردئیے۔ اور مشرکین نے اس مال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر مسلمانوں کے اخراجات کی ادائیگی کے سلسلہ میں ان پر فرض کیا سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم فاٰ توا الذین ذہبت ازواجہم مثل ما انفقوا۔ واتقوا اللہ الذی انتم بہ مومنون۔ اس آیت کے بعد جو عورت چلی گئی ایمان والوں کی بیویوں میں سے مشرکین کی طرف تو مومنین ان کے کافر خاوندوں کی طرف اس خرچے کے لیے رجوع کرتے جو کسی نے اس عورت پر کیا ہوتا اور یہ اس کا انجام تھا جو ان کے سامنے تھا کہ ان کو حکم دیا گیا کہ وہ مشرکین کی طرف ان کے وہ اخراجات لوٹادیں۔ جو انہوں نے اپنی بیویں پر کیے جو اب ایمان لے آئیں اور ہجرت کی۔ پھر مومنین نے مشرکین کی طرف زائد بھی لوٹایا اگر وہ ان کے لیے مناسب ہوا۔ 12۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر سے مراد ہے کہ وہ ایک آدمی جس کی عورت دار الحرب چلی گئی۔ تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنی بیویوں میں سے شمار نہ کرے۔ 13۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ 14۔ عبد بن حمید نے عامر شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی بیوی زینب ان عورتوں میں سے تھی جنہوں نے آپ سے کہا آیت واسئلو ماانفقتم ولیسئلو ما انفقوا۔ 15۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی عورت اہل مکہ میں سے مسلمانوں کے پاس آئے تو وہ اس کے خاوند کو معاوضہ دیں۔ اور کوئی عورت مسلمانوں میں مشرکین کے ایسے آدمی کے پاس چلی جائے جس کے ساتھ کوئی عہد نہیں۔ تو یہ فرمایا گیا فعاقبتم یعنی پھر تم غنیمت کو پالو۔ آیت فاٰ توا الذین ذہبت ازواجہم مثل ما انفقوا تو تم اس کے خاوند کو غنیمت میں سے اس کے مہر کے مثل دے دو ۔ 16۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا سہیل بن عمرو ؓ نکلے تو اس کے ساتھیوں میں سے ایک آدمی نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور وہ باطل پر نہیں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں۔ پھر اس نے کہا کہ جو ان میں سے اسلام قبول کر کے آئے تو اسے ان کی طرف لوٹادیا جائے گا اور ہم میں جو ان کی اتباع کرے گا اور تو ہم اسے انہیں کے پاس رہنے دیں گے۔ تو آپ نے فرمایا جو ان میں سے اسلام لے آیا تو اللہ تعالیٰ اس کی سچائی اور صدق کو خوب جانتا ہے وہ اس کو نجات عطاکردے گا اور جو ہم میں ان کی طرف لوٹ کرگیا تو گویا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے محفوظ کرلیا۔۔ راوی کا بیان ہے کہ سورة ممتحنہ اس صلح کے بعد نازل ہوئی۔ اور ان کی عورتوں میں سے جو اسلام لاتی تو اس سے سوال کیا جاتا تھا کہ کس چیز نے تجھے نکالا ہے اگر وہ نکلی ہے اپنے شوہر سے فرار ہو کر اور اس سے اعراض کر کے نکلی تو اس کو لوٹا دیا جاتا اور اگر وہ نکلی ہے اسلام میں رغبت کرتے ہوئے تو اس کو روک لیا جاتا اور اس کے شوہر کے پاس اتنا مال لوٹادیا جاتا جو اس نے خرچ کیا ہوتا۔ 17۔ ابن ابی حاتم نے یزید بن ابی حبیب (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا جاء کم المومنت مہاجرات۔ ابو حسان بن دحداحہ کی بیوی کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ امیمہ بنت بسر بنی عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والی عورت ہے جب یہ بھاگ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی۔ سہل بن حنیف ؓ نے اس سے شادی کرلی۔ اور اس سے عبداللہ بن سہل ؓ پیدا ہوئے۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اور مکہ والوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا اور اس میں یہ شرط تھی کہ عورتوں کو لوٹا دیا جائے گا۔ تو ایک عورت آئی جس کا نام سعیدہ تھا۔ وہ صیفی بن الراہب کے نکاح میں تھی۔ اور وہ مشرک تھا اہل مکہ میں سے انہوں نے اس کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت اذا جاء کم المومنت مہاجرات۔ 19۔ عبد بن حمید وابو داوٗد فی ناسخہ وابن جریر وابن المنذر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ آیت نازل ہوئی اور وہ لوگ یعنی صحابہ کرام ؓ حدیبیہ میں تھے۔ جب عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمایا کہ ان کا مہر ان کے شوہروں کو لوٹادیں۔ اور مشرکین کو بھی اسی طرح حکم فرمایا کہ جب ان کے پاس مسلمانوں میں سے کوئی عورت آئے تو اس کا مہر ان کے خاوند کی طرف لوٹادیں۔ تو مومنین نے اللہ کے حکم کو تسلیم کرلیا مگر مشرکین نے انکار کردیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار سے لے کر مثل ما انفقوا تک۔ نو ایمان والوں کو حکم فرمایا کہ جب مسلمانوں میں سے کوئی عورت چلی جائے اور ان میں سے ان کا خاوند موجود ہو تو مسلمان ان کی بیوی کا مہر اس کی طرف اتنا لوٹا دیں جتنا انہیں مشرکین کو دینے کا حکم دیا گیا۔ 20۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے آیت اذا جاء کم المومنت کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ایک معاہدہ تھا۔ جب ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آتی تھی تو وہ اس کا امتحان لیتے تھے پھر وہ اس کے شوہر پر اتنا مال لوٹادیتے جو اس نے اس پر خرچ کیا تھا اگر کوئی عورت مسلمانوں میں سے مشرکین سے مل جاتی اور مسلمان غنیمت کا مال پاتے تو وہ اس میں سے اتنا مال اس کے خاوند کو دیتے جتنا اس نے اس پر خرچ کیا تھا شعبی (رح) نے فرمایا مشرکین کسی چیز سے راضی نہ ہوئے حتی کہ وہ اس آیت سے بھی راضی نہ ہوئے اور کہنے لگے یہ نصف ہے۔ 21۔ ابن ابی اسامہ والبزار وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے سند حسن کے ساتھ ابن عباس ؓ سے اذا جاء کم المومنت مہاجرت فامتحنوہن کے بارے میں روایت کیا اور یہ الفاظ ابن المنذر کے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا نبی اکرم ﷺ عورتوں سے کس طرح امتحان لیتے تھے۔ تو فرمایا جب کوئی عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آتی تھی۔ تو اس سے عمر ؓ اللہ کی اس سے قسم لیتے تھے کہ تو اس زمین کی رغبت اور پسند میں اس زمین سے نہیں نکلی اور اللہ کی قسم میں خاوند سے ناراض ہو کر نہیں نکلی اور اللہ کی قسم کہ تو دنیا کی تلاش میں نہیں نکلی۔ اور اللہ کی قسم میں نہیں نکلی مگر اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہوئے۔ 22۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ عورت سے پوچھا جاتا تھا کہ تو ہم میں سے کس آدمی کا عشق محبت تجھے یہاں نہیں لایا اور اپنے شوہر سے بھاگ کر تو نہیں آئی تو وہ کہتی کہ میں نہیں نکلی مگر اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہوئے۔ 23۔ ابن منیع نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ اسلام لائے اور ان کی بیوی مشرکین میں پیچھے رہ گئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر۔ 24۔ طبرانی نے وابو نعیم وابن عساکر نے یزید بن اخنس ؓ سے روایت کیا کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کے ساتھ ان کے سارے گھروالے بھی مسلمان ہوگئے۔ مگر ان کی ایک بیوی نے مسلمان ہونے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر ان سے کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس عورت اور اس کے شوہر کے درمیان تفریق کردی ہے مگر یہ کہ وہ مسلمان ہوجائے تو اس کے لیے ایک سال کی مدت مقرر کردی گئی جب سال گزرنے میں ایک دن رہ گیا تو وہ بیٹھ گئی اور سورج کی طرف دیکھنے لگی یہاں تک کہ جب سورج غروب کے قریب ہوا تو مسلمان ہوگئی۔ 25۔ ابن ابی حاتم نے طلحہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ولا تمسکوا بعصم الکوافر نازل ہوئی تو میں نے اپنی بیوی اروی بنت ربیعہ کو طلاق دے دی اور عمر ؓ نے قریبہ بنت ابی امیہ اور ام کلثوم بنت جرول الحزاعیہ کو طلاق دے دی۔ 26۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ولاتمسکوا بعصم الکوافر مسلمانوں میں سے ایک عورت کے بارے میں نازل ہوئی جو مشرکین سے مل جاتی ہے اور کفر اختیار کرلیتی ہے تو اس کا شوہر اس کے بچانے کے لیے نہ روکے کیونکہ وہ اس سے بری ہوگیا۔ 27۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفارحکیم بن ابی سفیان کی بیوی کے بارے میں نازل ہوئی جو مرتد ہوگئی اور ایک ثقفی مرد نے اس سے شادی کرلی۔ اس کے علاوہ قریش میں سے کوئی عورت مرتد نہیں ہوئی پھر جب بنی ثقیف اسلام لے آئے تو وہ بھی ان کے ہاتھ مسلمان ہوگئی۔ 28۔ ابو داوٗد فی ناسخہ وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت فامتحنوہن الایۃ کے بارے میں میں نے عطا (رح) سے پوچھا کیا آپ اس کے بارے میں جانتے ہیں تو انہوں نے فرمایا نہیں۔