تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 60. Al-Mumtahana · Ayah 7

  1. عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿7﴾

    1. عَسَى اللّٰهُقریب ہے کہ اللہ
    2. اَنْ يَّجْعَلَکہ وہ کردے
    3. بَيْنَكُمْتمہارے درمیان
    4. وَبَيْنَاور درمیان
    5. الَّذِيْنَان لوگوں کے
    6. عَادَيْتُمْتم عداوت رکھتے ہو
    7. مِّنْهُمْان سے
    8. مَّوَدَّةً ۭدوستی
    9. وَاللّٰهُاور اللہ
    10. قَدِيْرٌ ۭقدرت رکھنے والا
    11. وَاللّٰهُ غَفُوْرٌاور اللہ بخشنے والا
    12. رَّحِيْمٌرحم کرنے والا
Translation · Dure-Mansoor
ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ان کے درمیان جن سے تمہیں عداوت ہے محبت ڈال دے اور اللہ تعالیٰ قدرت والا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو سفیان بن حرب کو یمن کے بعض علاقہ پر عامل بنایا۔ جب رسول اللہ ﷺ وفات پاگئے۔ تو وہ آرہے تھے کہ ایک اوڑھنی والے مرتد سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس سے قتال کیا۔ یہ پہلا آدمی ہے جس نے مرتد ہونے کے سبب کسی سے قتال کیا اور دین کے لیے جہاد کیا ابن شہاب (رح) نے کہا کہ انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منہم مودۃ۔ امید ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو تمہارے دشمن ہیں دوستی پیدا کردے گا۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن شہاب سے اور انہوں نے ابی سلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جس نے سب سے پہلے مرتدین کے ساتھ قتال کیا اللہ کے دین کو قائم کرنے کے لیے وہ ابوسفیان بن حرب تھے اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منہم مودۃ۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن عدی وابن مردویہ و بیہقی فی الدلائل وابن عساکر نے کلبی کے طریق سے اور انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے آیت عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منہم مودۃ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ محبت جو اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان پیدا فرمادی وہ نبی ﷺ کا ام حبیبہ بنت ابو سفیان سے نکاح کرنا ہے اس کے سبب وہ مومنین کی ماں بن گئی اور معاویہ ؓ مومنین کے ماموں بن گئے۔ 4۔ ابن مردویہ نے دوسری سند سے ابن عباس ؓ سے آیت عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منہم مودۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت نبی ﷺ کا ابو سفیان کی بیٹی ام حبیبہ سے نکاح کرنے کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہی آپ کے اور ان کے درمیان مودت و محبت تھی۔ مشرکہ عورت کا ہدیہ قبول کرنا 5۔ الطیالسی واحمد والبزار وابویعلی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والنحاس فی تاریخہ والحاکم وصححہ والطبرانی وابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ قتیلہ بنت عبدالعزای نے اپنی بیٹی کو اسماء بنت ابی بکر ؓ کے پاس کچھ ہدایا لے کر آئی جو کہ پنیر اور گھر پر مشتمل تھا۔ اور وہ مشرکہ تھی۔ اسماء ؓ نے اس ہدیہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور اسے اپنے گھر میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہ دی یہاں تک کہ انہوں نے عائشہ ؓ کی طرف پیغام بھیجا کہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں۔ چناچہ انہوں نے آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت لاینہکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین۔ اللہ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان و انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے۔ آیت کے آخر تک تو ان کو حکم فرمایا کہ اس کا ہدیہ قبول کرلے اور ان کو گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے۔ 6۔ بخاری وابن المنذر ونحاس و بیہقی نے شعب الایمان میں اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت کیا کہ میرے پاس میری ماں محبت کا اظہار کرتے ہوئے آئی۔ اور وہ مشرکہ تھی قریش کے زمانہ میں جب رسول اللہ ﷺ نے قریش سے معاہدہ کیا تو میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا کہ میں اس سے یعنی اپنی مشرکہ ماں سے صلہ رحمی کروں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت لاینہکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین تو پھر آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اپنی ماں سے صلہ رحمی کر۔ 7۔ ابو داوٗد فی تاریخہ وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاینہکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم کے حکم کو اس آیت فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم (التوبہ آیت 5) کہ قتال کرو مشرکین سے جہاں تم ان کو پاؤ۔ نے منسوخ کردیا۔ 8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت لاینہکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین کے بارے میں روایت کیا کہ تم ان کے لیے استغفار کرو اور ان سے اچھا سلوک کرو اور ان کے ساتھ انصاف کرو جو لوگ مکہ میں ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی۔ 9۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت انما ینہکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین کے بارے میں روایت کیا کہ ان سے مکہ میں رہنے والے کافر مراد ہیں۔