تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 67. Al-Mulk · Ayah 30

  1. قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ع﴿30﴾

    1. قُلْ اَرَءَيْتُمْکہہ دیجئے کیا دیکھا تم نے
    2. اِنْاگر
    3. اَصْبَحَہوجائے
    4. مَآؤُكُمْپانی تمہارا
    5. غَوْرًاخشک ۔ گہرا
    6. فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْتو کون ہے جو لائے تمہارے پاس
    7. بِمَآءٍ مَّعِيْنٍبہتا پانی
Translation · Dure-Mansoor
آپ فرمادیجیے کہ تم بتاؤ اگر تمہارا پانی زمین میں نیچے چلا جائے سو وہ کون ہے جو تمہارے پاس چشمہ والا پانی لے آئے
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ ابن المنذر والفاکہی نے ابن کلبی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت قل ارأیتم ان اصبح ماء کم غورا فرمادیجیے بھلا دیکھو تو سہی اگر تمہارا پانی خشک ہوجائے۔ زمزم کے کنوئیں اور میمون بن الحضر کے کنوئیں کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ دور جاہلیت کے کنویں تھے فاکہی نے کہا کہ مکہ کے کنوئیں جلدی سے نیچے اترجاتے تھے۔ 2۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت ان اصبح ماء کم غورا کے بارے میں روایت کیا کہ اگر پانی زمین میں داخل ہوجائے آیت فمن یاتکیم بماء معین کون تمہارے پاس لائے گا یعنی جاری پانی۔ 3۔ ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان اصبح مارکم غورا یعنی اگر پانی زمین میں لوٹ جائے۔ 4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” غورا “ سے مراد ہے اگر پانی چلاجائے ” بماء معین “ یعنی جاری پانی۔ 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” بماء معین “ سے مراد ہے ظاہری پانی (سطح زمین پر ظاہر ہونے والا) 6۔ عبد بن حمید نے مجاہد اور عکرمہ رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 7۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” بماء معین “ سے مراد ہے میٹھا پانی۔