تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 68. Al-Qalam · Ayah 13
عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ﴿13﴾
- عُتُلٍّۢبدمزاج
- بَعْدَ ذٰلِكَاس کے بعد
- زَنِيْمٍبداصل بھی ہے
Translation · Dure-Mansoor
سخت مزاج ہے اور اس کے بعد منقطع النسب بھی ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
7۔ عبد بن حمید نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت عتل بعد ذلک زنیم۔ یہ خلق بعد اس کے بغیر باپ کی طرف منسوب۔ یعنی وہ فحش بکنے والا اور کمینہ بھی ہے۔
8۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے حسن اور ابوالعالیہ رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا کہ۔
9۔ عبد بن حمید وابن عساکر نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” زنیم “ سے مراد ہے زنا سے پیدا ہونے والا جس کے بارے میں صرف دعویٰ کیا جائے کہ یہ فلاں کا ہے۔ کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔
زنیم تداعاہ الرجال زیادۃ کما زید فی عرض الادیم اکارعہ
ترجمہ : زنیم وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں لوگ زیادتی اور اضافہ کے لیے دعویٰ کرتے ہیں جیسا کہ چمڑے کے سامان میں اس کے کھروں کا اضافہ کردیا جائے۔
10۔ ابن الانباری نے الوقف والابتداء میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ” زنیم “ کے بارے میں پوچھا۔ فرمایا اس سے زناہ کی اولاد مراد ہے اور اس کی مثال شاعر کے اس قول کے ساتھ بیان کی
زنیم لیس یعرف من ابوہ یعنی الام ذو حسب لئیم
ترجمہ : زنیم وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ اس کا باپ کون ہے ماں زانیہ ہو اور کمینہ حسب والا ہو۔
11۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عتل بعد ذلک زنیم سے مراد ہے سخت موٹا اور اس کے حلق کے نیچے کا لٹکنے والاگوشت اس کے قبضے میں زائد ہو۔ اور یہ اس کی علامت ہے۔
12۔ عبد بن حمید نے شہر بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ ” عتل “ سے مراد ہے صحت مند بہت کھانے والا اور بہت پینے والا اور زنیم سے مراد ہے فاجر یعنی بدکار آدمی۔
13۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت عتل بعد ذلک زنیم سے مراد ہے کہ کافر کو مومن سے پہچانا جاسکتا ہے انما بکری کی طرح اور زنماء سے مراد وہ ہے جس کے حلق کے نیچے کا گوشت اس طرح لٹکا ہوا اپنے جس طرح بکری کے حلق میں کوئی چیز لٹکی ہوئی ہے۔
14۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ” زنیم “ اس سے اس وصف پہچانا جاتا ہے جس طرح زنماء بکری اس سے پہچانی جاتی ہے جس کے گلے میں کچھ نہ ہو۔
15۔ عبد بن حمید نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ آیت عتل بعد ذلک زنیم سے وہ شخص مراد ہے جو کسی قوم میں سے ملا ہوا تو ہو لیکن ان میں سے نہ ہو۔
چھ قسم کے لوگوں پر جنت حرام ہے۔
16۔ عبد بن حمید نے شہر بن حوشب سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ چھ آدمی جنت میں کبھی داخل نہ ہوں گے نافرمان اور شراب کا عادی، جعل، جو اظ قتات عتل زنیم میں نے کہا اے ابن عباس کہ پہلی دو چیزوں کو تو میں جانتا ہوں۔ آخری چار کے بارے میں مجھے بتائیے یہ کون ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جعشل سے مراد ہے سخت بدخلق اور جو اظ سے مراد ہے کہ جو مال کو جمع کرتا ہے اور روک لیتا ہے اور قتات سے مراد ہے جو لوگوں کے گوشتکھاتا ہے یعنی غیبت کرنے والا اور عتل زنیم سے مراد ہے جو لوگوں کے درمیان چغلی کے ساتھ چلتا ہے۔
17۔ احمد وعبد بن حمید وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابن عساکر نے شہر بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ مجھے عبدالرحمن بن غنم ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں جواظ، جعظری اور العتل الزنیم داخل نہو ہوں گ۔ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے آپ سے پوچھا کہ جواظ، جعظری، عتل اور زنیم سے کون لوگ مراد ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو اظ وہ ہے جو مال جمع کرے اور روک لے اس کے بارے میں یہ آیت انہا لظی۔ نزاعۃ للشوی۔ (المعارج) وہ تو ایک آگ ہے کھالوں کو اتارنے والی۔ اور جعظری سے مراد سخت بدخلق۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت فبما رحمۃ من اللہ لنت لہم ولو کنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک۔ (العمران آیت 199) پھر اللہ کی رحمت کے سبب سے تو ان کے لیے نرم ہوگیا۔ اور اگر تو تند خو اور سخت دل ہوتا تو البتہ تیرے گرد سے بھاگ جاتے۔ اور العتل الزنیم سے مراد ہے سخت مزاج والا، وسیع پیٹ والا، صحت مند بہت شراب پینے والا، بہت کھانے پینے والا اور لوگوں پر بہت ظلم کرنے والا۔
18۔ ابن سعد وعبد بن حمید نے عامر (رح) سے روایت کیا کہ ان سے زنیم کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا وہ آدمی جس کو شر غالب ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ وہ پہچانا جاتا ہے اور وہ آدمی تھا قبیلہ بنو ثقیف میں سے جس کو اخنس بن شریق کہا جاتا ہے۔
19۔ ابن ابی شیبہ وابن الانباری نے الوقف الابتداء میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” زنیمت “ سے مراد ہے ایسا آدمی جو ولدالزنا ہو۔ فحش بکنے والا انتہائی کمینہ اور کسی قوم میں باہر سے ملا ہوا پھر شاعر کا یہ قول پڑھا۔
زنیم تداعاہ الرجال زیادۃ کما زید فی عرض اللئیم اکارع
ترجمہ : زنیم وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں لوگ زیادتی اور اضافہ کے لیے دعویٰ کرتے ہیں کھروں کا اضافہ کردیا جائے۔
20۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع کل حلاف مہین اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی۔
21۔ عبد الرزاق وابن المنذر نے کلبی (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
22۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تطع کل حلاف مہین اسود بن عبد یغوث کے بارے میں نازل ہوئی۔
23۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ عنما سے روایت کیا کہ یہ آیت ولاتطع کل حلاف مہین۔ ہماز مشاء بنمیم۔ نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوئی تو پہچان ہوئی کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی یہاں تک کہ اس کے بعد نازل ہوا ” زنیم “ تو ہم نے اس کو پہچان لیا کہ جس کا گوشت بکری کے گوشت کی طرح لٹکا ہوا تھا۔
24۔ البخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ نے حارثہ بن وہب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں تم کو اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر وہ ضعیف آدمی جس کو انتہائی کمزور سمجھا جاتا ہے اگر وہ اللہ پر قسم کھالے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو پورا کردے۔ کیا میں تم کو دوزخ والوں کے بارے میں نہ بتاؤں ہر اکھڑ مزاج بخیل، کنجوس اور سخت بدخلق اور تکبر کرنے والا۔
25۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس بندے پر آسمان روتا ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے صحت مند جسم دیا ہو اور اس کے پیٹ کو کشادہ رکھا ہو اور اور اس کو وافر دنیا میں سے عطا کیا ہو۔ لیکن وہ لوگوں کے ساتھ انتہائی ظلم کرتا ہو تو وہ آدمی ” العتل والزنیم “ ہے۔
ظالم پر آسمان کا رونا
26۔ ابن ابی حاتم نے قسم، معاویہ کے آزاد کردہ غلام اور موسیٰ بن عقبہ ضی اللہ عنہما دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ” العتل الزنیم “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ فحش بکنے والا اور کمینہ۔
27۔ ابو الشیخ وابن مردویہ والدیلمی نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے آیت بعد ذلک زنیم “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ” العتل “ ہر بڑے پیٹ والے مضبوط اخلاق والا، بہت کھانے اور بہت پینے والا، مال جمع کرنے والا اور اس کو اپنے پاس روکنے والا۔
28۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت مناع للخیر سے لے کر زنیم تک تلاوت کی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دوزخ والے سب جعظری سخت بدخلق جو اظ جو مال جمع کرے اور روک لے۔ اور تکبر کرنے والے اور خیر اور نیکی سے روکنے والا۔ اور جنت والے کمزور اور مغلوب ہیں۔
29۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” العتل “ سے مراد ہے بغیر باپ کی طرف منسوب اور الزنیم وہ متہم آدمی جو شر کے ساتھ معروف اور مشہور ہو۔
30۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر والخرائطی فی مساوی الاخلاق والحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے آیت عتل بعد ذلک زنیم کے بارے میں روایت کیا وہ آدمی جو شر کے ساتھ اس طرح پہچانا جاتا ہو۔ جیسے بکری گلے میں لٹکے ہوئے گوشت کے لوتھڑے کے ساتھ پہچانی جاتی ہے۔
زنیم کی تعریف
31۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زنیم وہ آدمی ہے جو کسی قوم پر سے گزرے تو وہ کہیں کہ یہ برا آدمی ہے۔
32۔ البخاری والنسائی وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم نے ابن عباس ؓ سے آیت عتل بعد ذلک زنیم کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آدمی قریش میں سے تھا جس کے حلق کے نیچے کا زائد گوشت اس طرح لٹکا ہوا تھا جیسے بکری کا گوشت لٹکا ہوتا ہے اور وہ اسی سے پہچانا جاتا ہے۔
33۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا اس کی صفت بیان کی گئی مگر نہ پہچانا گیا۔ یہاں تک کہ کہا گیا۔ زنیم اب اس سے مراد ایک ایسا آدمی جس کی گردن کا گوشت لٹکا ہوا تھا جس سے وہ پہچانا جاتا تھا۔
34۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الزنیم سے مراد ہے باہر سے نسب میں ملنے والا۔
35۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الزنیم سے مراد ہے بہت ذلم کرنے والا۔
36۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ” زنیم “ سے کیا مراد ہے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے زنا کی اولاد۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر و یہ شعر کہتے ہوئے نہیں سنا۔
زنیم تداعاہ الرجال زیادۃ کما زید فی عرض الادیم اکارع
ترجمہ : زنیم وہ ہوتا ہے جس کے بارے میں لوگ زیادتی اور اضافہ کے لیے دعویٰ کرتے ہیں جیسا کہ چمڑے کے سامان میں اس کے کھروں کا اضافہ کردیا جائے۔
37۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ” زنیم “ سے مراد ہے کمینہ اور کافر دوغلی نسل والا۔
38۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” مہین “ سے مراد ہے جھوٹ بولنے والا ” ہماز “ بہت غیبت کرنے والا ” عتل “ سے مراد ہے سخت جھگڑالو ” زنیم “ یعنی غیر باپ کی طرف منسوب۔ آیت ” سنسمہ علی الخرطوم “ ینقریب ہم اس کی ناک پر داغ لگائیں گے۔ اس نے بدر کے دن مسلمانوں کے خلاف قتال کیا تو لڑائی میں تلوار کے ساتھ اس کی ناک پر زخم لگا۔